عمران رہا، بینظیر و فضل پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت نے ڈیرہ غازی خان کی جیل میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت قید پاکستان تحریکِ انصاف کے سربراہ عمران خان کو رہا کر دیا ہے۔ عمران خان نے ایمرجنسی اور مشرف حکومت کے خلاف جیل میں تا دمِ مرگ بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔ رہائی کے بعد انہوں نے کہا کہ جنرل مشرف کی موجودگی میں انتخابات لڑنا فضول ہوگا۔ ڈیرہ غازی خان میں مسلم لیگ نواز کے رہنما سیف الدین کھوسہ کی رہائش گاہ پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے بینظیر بھٹو اور فضل الرحمان پر تنقید کی اور کہا کہ یہ دونوں حزب اختلاف کی جانب سے جنرل مشرف کے خلاف کوئی مشترکہ حکمت عملی تشکیل دینے میں رکاوٹ ہیں۔ بی بی سی کے اس سوال پر کہ ان کی رہائی کا حکم کس نے دیا، عمران خان نے کہا کہ انہیں اس بارے میں کچھ معلوم نہیں۔ ان کے بقول ان کی بہن اور تحریک انصاف کے کچھ عہدیدار ڈیرہ غازی خان میں موجود تھے لیکن انہیں بھی اس بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا تھا۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ شام کو اچانک جیل حکام نے بتایا کہ انہیں رہا کیا جا رہا ہے اور وہ باہر آنے پر ایک مقامی وکیل کی گاڑی میں سوار ہو کر سیف الدین کھوسہ کی رہائش گاہ پہنچے۔ جب عمران خان سے ان کی گرفتاری میں اسلامی جمعیتِ طلبہ کے مبینہ کردار کے بارے میں سے پوچھا گیا تو انہوں نے جواب دینے سے گریز کیا اور کہا انہیں قاضی حسین احمد سے کوئی گلہ نہیں ہے۔ تحریکِ انصاف کے سربراہ کو چودہ نومبر کو پولیس نے اس وقت حراست میں لے لیا تھا جب وہ پنجاب یونیورسٹی میں طلباء کے مظاہرے کی قیادت کے لیے گئے تھے لیکن مبینہ طور پر جماعتِ اسلامی کے طلباء ونگ اسلامی جمعیتِ طلبہ نے انہیں پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ چودہ نومبر کو پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمعیت طُلبہ کے اراکین نے مبینہ طور پر عمران خان سے بد سلوکی کا مظاہرہ کیا، انہیں دھکے دیئے، انہیں ایک کمرے میں بند کر کے تالا لگا دیا گیا اور بعد ازاں ایک وین میں ڈال کر پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔
اس موقع پر عمران خان کے ساتھ جماعتِ اسلامی کے ایک رہنما امیرالعظیم بھی موجود تھے جنہوں نے اس واقعہ کو جماعت کے لیے ایک بدنما دھبہ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ عمران خان کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ شرمناک ہے۔ عمران خان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ جماعتِ اسلامی کے لیے بالعموم نرم گوشہ رکھتے ہیں اور امیرِ جماعتِ اسلامی سے ان کا عقیدت کا رشتہ ہے۔ اس واقعہ کے بعد پاکستان کے اخبارات اور غیر ملکی جرائد نے عمران خان کے ساتھ ہونے والے سلوک کی بھرپور مذمت کی تھی اور پاکستانی اخبارات میں عمران خان کی جرآت کی تعریف اور جماعتِ اسلامی کے ’کردار‘ اور اسلامی جمعیت طلبہ کے رویے پر شدید نکتہ چینی کی گئی تھی۔ ان واقعات کے بعد جماعتِ اسلامی نے ایک انکوائری کرنے کے بعد اسلامی جمعیتِ طلبہ تنظیم کے مختلف اراکین کی رکنیت معطل کر دی تھی۔ عمران خان کی رہائی کے لیے ان کی سابقہ اہلیہ جمائمہ خان نے لندن میں ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے میں شرکت کی تھی اور برطانوی ذرائع ابلاغ میں خاص طور پر ان کی گرفتاری کو اپنے صفحات پر جگہ دی تھی۔ تحریک انصاف کے رہنما عمر چیمہ نے بتایا کہ عمران خان کا مورال بلند ہے اور انہوں نے رہائی کے بعد اپنی پارٹی کے ساتھیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدلیہ کی بحالی اور ملک سے آمریت کے خاتمہ کے لیے ان کی جدوجہد جاری رہے گی۔ عمران خان جمعرات کو لاہور لوٹ رہے ہیں جہاں ان کے استقبال کی تیاریاں شروع کردی گئی ہیں۔ ان کے بہنیں اور بہنوئی بھی ان کے ہمراہ ہیں اور وہ ان کے ساتھ ہی کل لاہور واپس لوٹیں گے۔ ادھر پنجاب کے نگران وزیر اعلی ریٹائرڈ جسٹس اعجاز نثار نے صوبےمیں گرفتار تمام سیاسی کارکنوں کی رہائی کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔بلوچستان اور سندھ کے نگران وزراء اعلی سیاسی کارکنوں کی رہائی کے احکامات پہلے سے جاری کرچکے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر نے کہا تھا کہ تمام سیاسی نظر بند افراد کو رہا کیا جائے کیونکہ کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے موقع پر امیدوار کی موجودگی ضروری ہے۔ | اسی بارے میں عمران خان جیل بھیج دیے گئے، ایمرجنسی مخالف مظاہرے جاری14 November, 2007 | پاکستان عدلیہ کی بحالی تک بھوک ہڑتال19 November, 2007 | پاکستان عمران کی گرفتاری کے خلاف احتجاج16 November, 2007 | پاکستان عمران ایک مہینے کے لیے جیل میں17 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||