عمران خان جیل بھیج دیے گئے، ایمرجنسی مخالف مظاہرے جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے پاکستان تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے جبکہ پشاور میں پولیس نے ایمرجنسی کے خلاف مسلم لیگ (ن) کے مظاہرے پر شدید لاٹھی چارج کیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے رہنما عمر چیمہ نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کو بتایا ہے کہ عمران خان کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے اور انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔ ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق جمعرات کو پشاور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ایمرجنسی کے خلاف جی ٹی روڈ پر مظاہرہ کیا جس کی قیادت سرحد میں مسلم لیگ کے پارلیمانی رہنما انور کمال مروت کر رہے تھے۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور تین افراد کو گرفتار کر لیا۔ تحریکِ انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف جمعہ کو ملک گیر یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ پولیس نے بدھ کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور سے جبکہ علامتی لانگ مارچ کی قیادت کرنے والے پارٹی کے صوبائی صدر شاہ محمود قریشی کو فیصل آباد سےگرفتار کر لیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو پنجاب یونیورسٹی میں اسلامی جمیعت طلبا کے کارکنوں نے ایک گھنٹے محبوس رکھنے کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا تھا۔ عمران خان ایمرجنسی لگنے کے روز سے روپوش تھے اور پولیس و خفیہ ایجنسیاں ان کی تلاش میں تھیں۔
بدھ کو عمران خان پنجاب یونیورسٹی میں متحدہ سٹوڈنٹس محاذ کی دعوت پر مشرف مخالف مظاہرے کی قیادت کرنے کے لیے آئے تھے۔ اسلامی جمیعت طلبا کے زیر اہتمام چند درجن کارکن یہاں احتجاجی مظاہرے کررہے تھے جب طلبا کا ایک گروپ عمران خان کو کندھوں پر اٹھائے اور نعرے بازی کرتے ہوئے وہاں پہنچا۔ جمیعت کے طلبا نے عمران خان سے بدتمیزی اور دھکے دیئے بعد ازاں انہیں گھسیٹ کر یونیورسٹی کی عمارت کے اندر لے گئے جہاں پر عمران خان کو ایک کمرے میں تالا لگا کربند کردیا گیا۔ پولیس کی بھاری نفری نے کیمپس کو گھیرے میں لے لیا اور عمران خان کے حامی طلبااور اسلامی جمیعت طلبا کے درمیان کشیدگی کی فضا پیدا ہوگئی اورانہوں نے ایک دوسرے کے خلاف شدید نعرہ بازی شروع کردی۔ ایک گھنٹے تک عمران خان کو محبوس رکھنے کے بعد یونیورسٹی کی ایک گاڑی میں بٹھا کر یونیورسٹی کے گیٹ تک لے جایا گیا جہاں پر انہیں پولیس کے حوالے کردیا گیا۔ طلباء نے جماعت اسلامی کے سیکرٹری امیر العظیم سے بدتمیزی کی اور انہیں دھکے دیئے اور انہیں یونیورسٹی کے احاطے سے نکلنے کے لیے کہا۔ امیر العظیم نے اس واقعے کی شدید مذمت کی اور کہا کہ جماعت اسلامی واقعے کے ذمہ داروں کے خلاف تنظیم کی سطح پر کاروائی کرے گی۔ پی پی پی کے علامتی لانگ مارچ کے ساتھ ساتھ سفر کرنے والے ہمارے نامہ نگار عباد الحق کا کہنا ہے کہ شاہ محمود قریشی کو فیصل آباد میں پارٹی رہنما راجہ محمد ریاض کی رہائش گاہ سے اس وقت گرفتار کیا گیا جب وہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرنے کے لیے وہاں پہنچے تھے۔ نامہ نگار کے مطابق شاہ محمود قریشی کے ساتھ راجہ محمد ریاض اور کئی دیگر کارکنوں کو بھی گرفتار کر لیا گیا۔ گرفتاری سے پہلے اخبار نویسوں سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ اگر انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا تب بھی کاروانِ جمہوریت آگے بڑھتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ جو بھی میدان میں ہوگا وہی کاروان کی قیادت کرے گا۔
شاہ محمود قریشی نے کہا تھا کہ پیپلز پارٹی نے مفاہمت کا راستہ ترک کر کے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی کے ساتھ جن پی پی پی رہنماؤں کو گرفتار کر لیا ان میں رکن پنجاب اسمبلی اور پی پی پی پنجاب کے نائب صدر راجہ محمد ریاض، حسن مرتضیٰ اور ڈاکٹر اسد معظم شامل ہیں۔ پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بے نظیر بھٹونے اپنے ایک بیان میں عمران خان، شاہ محمود قریشی اور پیپلز پارٹی کے دیگر قائدین کی گرفتاری کی مذمت کی اور مطالبہ کیا ہے کہ ان سمیت تمام سیاسی قیدیوں کو فی الفور رہا کیا جائے۔ خواتین کارکنوں پر مقدمات دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئر پرسن بینظیر بھٹو کی سینیٹر لطیف کھوسہ کی رہائش گاہ پر نظر بندی جاری ہے اور پولیس کی بھاری نفری اب بھی وہاں موجود ہے۔ بینظیر نے کل سے سخت گیر موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف سے شراکتِ اقتدار نہیں کر سکتیں اور مطالبہ کیا کہ وہ عہدہ صدارت سے مستعفی ہو جائیں۔ بینظیر بھٹو نے غیرملکی نشریاتی اداروں کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ’صدر کو اب جانا چاہیئے۔ آمریت کا دور ختم ہو چکا ہے۔‘ دریں اثناء واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا ہے کہ ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان نیگرو پونٹے اس ہفتے جنرل مشرف کو ایمرجنسی ختم کرنے پر رضامند کرنے کے لیے اسلام آباد جائیں گے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق جنرل مشرف کی طرف سے حالیہ اقدامات کی وجہ سے بش انتظامیہ کو مشرف حکومت سے اپنے تعلقات کا دفاع کرنے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ بینظیر بھٹو نے گزشتہ روز اپنی قیام گاہ سے مختلف سیاسی رہنماؤں سے رابطہ کرنے کی کوشش کی اور اطلاعات کے مطابق جماعتِ اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد سے ان کی بات چیت ہوئی۔ پی پی پی نے ان خبروں پر کوئی تبصرہ نہیں کیا لیکن جماعت اسلامی اور مجلس عمل کے ترجمان کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان رابطے رکھنے پر اتفاق ہوا ہے اور آئندہ چند روز میں ملاقات کا امکان بھی موجود ہے۔ صحافیوں کی علامتی بھوک ہڑتال
کراچی میں صحافی برادری یہ احتجاج پی ایف یو جے یعنی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی ذیلی تنظیم کراچی یونین آف جرنلسٹس کے پلیٹ فارم سے کررہی ہے جس میں دیگر صحافی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔ کراچی پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں مختلف اخبارات، رسائل، اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں نے بھوک ہڑتالی کیمپ میں شرکت کرکے اپنی وحدت کا ثبوت دیا اور میڈیا پر لگائی گئی پابندیوں کے خلاف نعرے بازی کی۔ کیمپ میں مختلف بینرز اور پلے کارڈز بھی آویزاں کیے گئے تھے جن میں نعرے تحریر تھے، ان نعروں میں آزادیِ صحافت زندہ باد، پیمرا آرڈیننس میں ترامیم واپس لو، پی سی او نامنظور، ایسے دستور ہم نہیں مانتے وغیرہ شامل تھے۔ کراچی میں احتجاجی مظاہرے ادھر گزشتہ روز پریس کلب سے باہر احتجاج کے دوران گرفتار ہونے والی پیپلز پارٹی کی اراکین کو رہا کردیا گیا ہے۔ عوامی تحریک کے مزید چار کارکنوں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ایمرجنسی کے نفاذ، ججوں کی برطرفی اور بنیادی حقوق کی معطلی کے خلاف وکلا تنظیموں نے بدھ کو بھی ہائی کورٹ کا مکمل اور ماتحت عدالتوں کا علامتی بائیکاٹ جاری رکھا۔ سندھ میں مظاہرے، گرفتاریاں بینظیر بھٹو کے آبائی شہر لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے آج دوسری دن بھی احتجاج کرنے کی کوشش کی مگر پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کا استعمال کیا ہے۔ عینی شاہدین کےمطابق لاڑکانہ میں پیپلز پارٹی کی جانب سے تین مختلف مقامات سے جلوس نکالنےکی کوشش کی گئی۔ ایک بڑا جلوس پی پی رہنماء نثار احمد کھوڑو کی رہائش گاہ سے ان کی قیادت میں نکالا گیا مگر چند قدموں کا فاصلہ طے کرنےکے بعد پولیس کی بھاری نفری نے جلوس کو گھرے میں لے لیا اور جلوس کے شرکاء پر اشک آور گیس اور لاٹھیوں کا استعمال کیا گیا۔ نثار احمد کھوڑو کےمطابق پولیس نے ان کے پچاس کارکنان کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ بیس سے زیادہ کارکن زخمی ہوگئے ہیں۔گرفتار کیے گئے افراد میں رکن قومی اسمبلی خالد اقبال میمن،رکن سندھ اسمبلی غلام مجدد اسران ،صفدر عباسی کےبھتیجے معظم عباسی سمیت درجنوں کارکنان شامل ہیں۔ کوئٹہ میں احتجاج جاری کوئٹہ میں میڈیا اور نجی ٹی وی چینلوں پر پابندی کے خلاف صحافیوں نے پریس کلب کے سامنے ایک احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں حکومت سے ٹی وی چینلوں پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔ مظاہرے کے شرکاء نے منہ پر زنجیروں سے تالے لگائے ہوئے تھے اور ہاتھوں میں پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے جن پر حکومتی پابندی کے خلاف نعرے درج تھے۔ |
اسی بارے میں مشرف سے بات چیت بند:بینظیر بھٹو12 November, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں11 November, 2007 | پاکستان لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش10 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کے صوبائی صدر گرفتار10 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی ملاقاتیں، ایمرجنسی ایک ماہ میں اٹھانے کا عندیہ10 November, 2007 | پاکستان جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم 12 April, 2007 | پاکستان پی پی پی مظاہرے پر لاٹھی چارج07 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||