BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 November, 2007, 11:07 GMT 16:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چینل وہی کہہ رہے ہیں جو حکومت چاہتی ہے

ٹی وی چینل
جیو نیوز اور اے آر وائی ون ورلڈ ایسے دو ٹی وی چینل بچے ہیں جنہوں نے اب تک سرکاری دباؤ قبول نہیں کیا
یہاں پاکستان میں اس وقت رات کے سوا دس بج رہے ہیں۔

پی ٹی وی پر سرحد کے نگراں وزیر اعلیٰ شمس الملک کا انٹرویو چل رہا ہے، جس میں وہ موجودہ نگراں حکومتوں کو تمام نئے پرانے مسائل کا حل قرار دے رہے ہیں۔ ڈان نیوز پر جنرل مشرف کے سابق وزیر مملکت طارق عظیم کہہ رہے ہیں کہ اپوزیشن جماعتیں سرکاری پوزیشن کو سمجھ نہیں پا رہیں۔ ٹی وی ون پر میزبان ڈاکٹر دانش اپنے سرکاری مہمانوں سے پوچھ رہے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے مہمانوں نے آنے سے کیوں انکار کیا؟ اے آر وائی کیو ٹی وی پر ایک مقرر کہہ رہے ہیں کہ جو خوف اور محبت دونوں جذبات سے مغلوب ہو کر عمل کرے وہ خدا کا محبوب ہے، اور ’آج‘ ٹی وی پر ایک معاشی ماہر کہہ رہے ہیں کہ سٹاک مارکیٹ کی گراوٹ کا موجودہ سیاسی حالات سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پاکستان کا میڈیا بالآخر وہ کہنے لگا ہے جو آمر حکمران چاہتا ہے۔

سی این بی سی اور بزنس پلس وہ ٹی وی چینل ہیں جو موجودہ ایمرجنسی میں سب سے پہلے مشرف حکومت کا اعتماد جیت سکے۔ ’اپنا‘ اور انڈس نیوز پہلے سے ہی سرکاری چینلز کے حوالے سے جانے جاتے ہیں اور اسی زبان میں بات کرتے ہیں۔

چند روز پہلے آج ٹی وی اور ڈان نیوز نے بھی گھٹنے ٹیک دیئے۔ ان دونوں کوالٹی چینلز نے حکومت سے مفاہمت کی کیا قیمت لی یہ تو معلوم نہیں ہو سکا لیکن سرکاری اشتہارات کی بھرمار دیکھ کر یہ اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ ان ٹی وی چینلز کی خبروں اور تبصروں میں فوجی حکومت کے لیے ہمدردانہ جذبات کیسے نظر آنے لگے ہیں۔

جیو نیوز ٹاک شو
ٹاک شوز اب بھی ہو رہے ہیں، صرف مہمانوں کے چہرے اور میزبانوں کے لہجے بدل گئے ہیں
جیو نیوز اور اے آر وائی ون ورلڈ ایسے دو ٹی وی چینل بچے ہیں جنہوں نے اب تک سرکاری دباؤ قبول نہیں کیا، لہذا وہ بند پڑے ہیں۔ لیکن اس کی وجہ کسی قسم کی اصول پرستی یا موجودہ حکومت سے ٹکراؤ کی خواہش نہیں۔ یہ دونوں چینل کوئی بھی شرط قبول کرنے کو تیار ہیں لیکن حکومت ان سے بات ہی نہیں کرنا چاہتی۔

اور اس کی وجہ بظاہر ان دو چینلز کی وہ کارروائیاں ہیں جو حکومت کے مطابق ’بلیک میلنگ‘ کے زمرے میں آتی ہیں۔

فوجی حکومت کا بڑا مسئلہ ٹاک شوز رہے ہیں جن میں میزبانوں اور مہمانوں کی طرف سے ایسی زبان استعمال ہوتی رہی ہے جو کسی آمرانہ نظام میں قابل قبول نہیں ہو سکتی۔

ٹاک شوز اب بھی ہو رہے ہیں، صرف مہمانوں کے چہرے اور میزبانوں کے لہجے بدل گئے ہیں۔ اب سوال ہی اتنے حکومت نواز ہوتے ہیں کہ جواب دینے والے جنرل کے حواریوں کے لیے الفاظ ہی نہیں بچتے۔

کچھ نشریاتی ادارے میڈیا پر لگی پابندیوں کے ختم ہونے کے انتظار میں پابندی لگانے والی حکومت میں شامل ہو گئے ہیں۔

مشکل سوال کرنے اور سخت لب و لہجہ کے حوالے سے اپنی پہچان بنانے والے بزنس پلس کے ٹاک شو میزبان مبشر لقمان نے پنجاب کی عبوری حکومت میں جگہ بنا لی ہے اور ان کے باس سلمان تاثیر نے وفاقی وزیر بننا قبول کر لیا ہے۔

باقی رہے صحافی تو وہ روزانہ تمام بڑے شہروں میں احتجاج کرتے ہیں، اہتمام سے کالی پٹیاں باندھ کر گھومتے ہیں اور آزادیِ صحافت کے نعرے لگاتے ہیں لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی نوکریوں اور اظہار کی آزادی کا فیصلہ سڑکوں پر نہیں میڈیا مالکان کی حکومت کے ساتھ سودے بازی میں ہو گا یا ہو چکا ہے۔

صحافیوں کا احتجاج(فائل فوٹو)احتجاج جاری
ٹی وی چینلوں پر پابندی کےخلاف مظاہرے جاری
 نجی ٹی ویسینسر کا عوامی توڑ
جیو، اے آر وائی اور آج، یو ٹیوب پر
بیگم نوازش علی شو’تلاش ذات اور دباؤ‘
لیٹ نائٹ شو وِد بیگم نوازش علی کا اختتام
آج ٹی وی پیمرا کے ضابطے یا
’آج‘ ٹیلی ویژن کو بند کرنے کی دھمکی
آج ٹی وی پاکستان اور ٹی وی
’آج‘ ڈائریکٹ ٹکراؤ سے گریز کیوں کرے گا؟
میڈیامیڈیا شکنجے میں
کیا حکومت دباؤ کی تاب نہیں لا پا رہی ہے؟
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد