BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ٹی وی چینلز پر پابندی، مظاہرے

’جیو نیوز‘ اور ’اے آر وائی‘ پر بین الاقومی سطح پر خبریں اور حالتِ حاضرہ کے پروگرام نشر کرنے پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے

جمعہ کی شب سے ’جیو نیوز‘ اور ’اے آر وائی‘ ٹیلی ویژن چینلز کی بین الاقوامی نشریات پر پابندی کے خلاف پاکستان میں اور بیرون ملک مظاہرے ہوئے ہیں۔ نیویارک میں صحافیوں نے مظاہرہ کیا ہے جبکہ کراچی میں جیو ٹیلی ویژن کے ملازمین نے بھی جمعہ کی شب احتجاج کیا۔ سنیچر کو پشاور میں اور لاہور پریس کلب کے باہر بھی صحافیوں نے مظاہرے کیے۔

ادھر دبئی میڈیا سٹی، جہاں سے یہ دونوں چینل اپنی نشریات کرتے تھے، کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نشریات بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ متحدہ عرب امارات دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے۔

میڈیا سٹی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر آمنہ الرستمانی کے مطابق وہ ان چینلوں سے رابطے میں رہنا چاہتی ہیں تاکہ انہیں بتایا جاسکے کہ اپنی نشریات دوبارہ شروع کرنے کے لیے انہیں کیا کرنا ہوگا۔

صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے نجی ٹی وی چینلز ’جیو‘ اور ’اے آر وائی‘ کی خبری نشریات بین الاقوامی سطح پر بند کرائے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک کے اندر اور باہر پاکستانی میڈیا پر پابندیاں سخت کر کے صحافیوں کو اشتعال دلا رہی ہے جس کے باعث خدشہ ہے کہ صحافیوں کا احتجاج پرامن نہ رہے۔

پی ایف یو جے کی سینئر نائب صدر فوزیہ شاہد نے کہا: ’ہم لوگ اب تک ملک گیر سطح پر بہت پرامن احتجاج کر رہے تھے اور حکومت نے اب ہمیں اشتعال دلایا ہے اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ اب ہمارے لیے شاید پرامن رہنا اتنا آسان نہیں ہوگا‘۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹی وی چینلز پر پابندیاں لگا کر ہزاروں لوگوں کو بیروزگار کردیا ہے اور روزگار سے بڑھ کر تو ورکر کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔

انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کا ایک ہی مؤقف ہے اور اس سے وہ ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہے کیونکہ حکومت نے جو آرڈیننسز جاری کیے ہیں، یہ سب پابندیاں اسی کی آڑ میں مسلط کی جارہی ہیں۔

چینلز کی بندش کے خلاف ملک بھر میں صحافیوں کے مظاہرے جاری ہیں
انہوں نے کہا کہ اگرچہ بعض ٹی وی چینلز کے مالکان نے حکومتی ضابطہ اخلاق کو تسلیم کرکے اپنی نشریات بحال کرالی ہیں لیکن وہ اپنے ضمیر کے مطابق خبریں نہیں دے پارہے ہیں۔ ’اس بناء پر ہم کہتے ہیں کہ اگر تمام چینلز کی نشریات بحال کر بھی دی جائیں اور صحافتی آزادی کو کچلنے والے قوانین کی تلوار میڈیا کے سر پر لٹکی رہے تب بھی پی ایف یو جے اپنی جدوجہد جاری رکھے گی‘۔

فوزیہ شاہد کا کہنا تھا کہ مالکان کے تجارتی مفادات ہوتے ہیں اس لیے ان کی سوچ مختلف ہوتی ہے لیکن انہوں نے سرکاری پابندیوں کے خلاف ’جیو‘ اور ’اے آر وائی‘ ٹی وی چینلز کے مالکان کے مؤقف کا خیرمقدم کیا اور اسے آزادی صحافت کی جدوجہد میں اہم پیش رفت قرار دیا۔

انہوں نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ حکومتی دباؤ یا ان کے متعارف کرائے گئے قوانین کے تحت کسی بھی صحافی کو برطرف نہ کریں اور اگر احتجاج کی پاداش میں صحافی گرفتار ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ باقاعدہ ملازم جیسا سلوک کیا جائے اور ان کی تنخواہ بند نہ کی جائے۔

دوسری جانب ملک میں نجی ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ( پی بی اے) ٹی وی چینلز کی بندش کے معاملے پر بظاہر انتشار کا شکار نظر آتی ہے اور اس نے اب تک سرکاری جکڑ بندیوں سے نمٹنے کے لیے کسی متفقہ لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل کی بین القوامی بندش کے خلاف چینل ملازمین نے کراچی میں احتجاجی جلوس نکالا
تنظیم میں ایک طرف تو وہ مالکان ہیں جنہوں نے حکومت کے بنائے ہوئے ضابطہ اخلاق پردستخط کرکے اپنے چینلز کی نشریات بحال کرالی ہیں جن میں اپنا ٹی وی، بزنس پلس، آج اور ڈان نیوز وغیرہ کے مالکان شامل ہیں تو دوسری طرف وہ مالکان ہیں جن کے چینلز اب تک بند پڑے ہیں۔

پی بی اے کے سیکریٹری جنرل سرفراز شاہ جو’اپنا‘ چینل کے مالک ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’جیو‘ اور ’اے آر وائی‘ کی بین الاقوامی نشریات بند ہوئے ابھی چند ہی گھنٹے ہوئے ہیں اور ممکن ہے شام تک پی بی اے کے ارکان اس صورتحال پر غور کریں۔

پی بی اے کے چیئرمین سلمان اقبال جو ’اے آر وائے ٹی وی نیٹ ورک‘ کے مالک ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہ ابھی تو یہی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے چینل کی بین الاقوامی نشریات کیوں بند کرائی گئیں اور اس مسئلے کو کیسے حل کرایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اسلام آباد میں ہیں اور ’جیو‘ ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمان دبئی میں ہیں اس لیے پی بی اے کا اجلاس ان دونوں کی کراچی واپسی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔

نیویارک میں مظاہرے
نجی ٹی وی چینلز ’جیو‘ اور ’اے آر وائی ڈیجیٹل‘ کی بین الاقوامی نشریات اور خبروں پر پابندی کےخلاف امریکہ میں بھی صحافیوں اور صحافتی تنظیموں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔

جمعہ کو نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے کے سامنے میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مشرف حکومت، ایمرجنسی اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف زبردست نعرے بازے کی گئی۔ احتجاج میں پاکستان نژاد صحافیوں اور پاکستان کے اخبارات کے پبلشرز کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان یو ایس اے فریڈم فورم اور خیبر سوسائٹی کے کارکنوں اور رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔

نیویارک میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیول نوئیل نے ’جیو‘ اور ’اے آر وائی ڈیجیٹل‘ پر پرمتحدہ عرب امارات کی وزارتِ اطلاعات کی طرف سے پابندیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی حکومتوں سے ان چینلز کی نشریات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔

پی بی اے کے چیئرمین سلمان اقبال کے مطابق وہ یہی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ چینلز کی بین الاقوامی نشریات کیوں بند کرائی گئیں
امریکہ میں پاکستانی میڈیا سے وابستہ صحافیوں نے پاکستان میں صحافیوں اور میڈیا پر پابندی کے خلاف عالمی مہم شروع کرنے کا اعلان بھی کیا ہے۔ ادھر نیویارک اور دیگر امریکی شہروں میں پاکستان میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

کراچی میں ملازمین کا احتجاج
جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب جیو ٹیلی ویژن کے ملازمین ایک بڑی تعداد میں آئی چندری گر روڈ پر نکل آئے اور نعرے بازی کرتے ہوئے گورنر ہاؤس کی جانب مارچ شروع کردیا۔

اسی دوران پولیس کی بھاری نفری نے گورنر ہاؤس کو جانے والے راستے کو مسلم جیم خانہ کے قریب پولیس موبائلیں کھڑی کر کے روکنے کی کوشش کی تاہم متعلقہ چینل کے صحافیوں کا احتجاجی جلوس رکاوٹ عبور کرکے آگے بڑھتا گیا جس کے کچھ آگے پولیس نے مزید نفری کی مدد سے گونر ہاؤس کے قریب سڑک کو بلاک کر دیا۔

اس مقام پر پولیس نے صحافیوں کو گورنر ہاؤس جانے سے روکنے کے لیے کھڑی کی گئی پولیس موبائلوں کے آگے اور پیچھے ڈنڈہ بردار اہلکاروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔

اس موقع پر پولیس اور صحافیوں کے درمیاں ہاتھاپائی بھی ہوئی، تاہم جیو ٹیلی ویژن کے بعض احتجاجی کارکنوں کی مداخلت پر صحافیوں نے واپسی اختیار کی۔ اس مقام پر چینل کے بعض کارکنوں نے احتجاج اتوار تک مؤخر کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے، چینلز کی بندش کے بارے میں حکومت پر تنقید کی ہے۔

لاہور پریس کے باہر مظاہرہ
لاہور سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق جیو اور اے آر وائی کی نشریات پر بندش اور میڈیا پر پابندیوں کے کے خلاف صحافیوں نے سنیچر کو لاہور پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا۔

مظاہرے میں صحافیوں کے علاوہ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ صحافی نعرہ لگا رہے تھے: لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں گی، پمرا آرڈیننس نامنظور اور آزادی صحافت تک جنگ رہے جنگ رہے۔

پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے صدر عارف حمید بھٹی نے ٹی وی چینلز جیو اور اے آر وائی کی نشریات کی بندش اور میڈیا پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صحافی پابندیوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اخباری مالکان بھی آزادی صحافت کے لیے باہر آئیں۔

عارف حمید نے اعلان کیا کہ اتوار سے لاہور پریس کلب میں روزانہ ایک گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی جائے جبکہ بیس نومبر سے صحافی گرفتاریاں دیں گے۔

پشاور میں صحافیوں کا احتجاج
پشاور میں ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق شہر میں صحافیوں نے نجی ٹیلی ویژن چینلز کی بین الاقوامی نشریات کی بندش کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔

سنیچر کی صبح ہونے والے اس مظاہرے میں ’ جیو‘ اور ’ اے آر وائی‘ کے ملازمین کے علاوہ الیٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے دیگرصحافیوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے پریس کلب سے ریلی نکالی اور حکومتی پابندی کے خلاف نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے ہاتھ میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’میڈیا پر پابندی نامنظور اور جیو کو جینے دو مشرف‘ جیسے نعرے درج تھے جبکہ دونوں چینلز کے بعض ملازمین نے اپنے منہ پر تالے لگائے ہوئے تھے۔

بی بی سی اردو: خصوصی پروگرامخصوصی نشریات
ایک گھنٹے کا’جہاں نما‘ اور خصوصی پروگرام
چودہواں دن
نگراں حکومت، بےنظیر کی نظربندی ختم
صحافی ہراساں
ایمرجنسی: اندورن سندھ میں صحافی پریشان
اخباراخبار کیا کہتے ہیں؟
ڈھکے چھپے الفاظ میں ایمرجنسی پر تنقید
’ہاں میں ڈر گیا‘
’اظہار رائے ٹھیک سہی مگر بچے چھوٹے ہیں‘
نظربندیاں گرفتاریاں
ملک بھر میں گرفتاریوں اور نظربندیاں شروع
اسی بارے میں
چینل کی بندش کے خلاف مظاہرہ
17 November, 2007 | پاکستان
ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل
29 September, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد