ٹی وی چینلز پر پابندی، مظاہرے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعہ کی شب سے ’جیو نیوز‘ اور ’اے آر وائی‘ ٹیلی ویژن چینلز کی بین الاقوامی نشریات پر پابندی کے خلاف پاکستان میں اور بیرون ملک مظاہرے ہوئے ہیں۔ نیویارک میں صحافیوں نے مظاہرہ کیا ہے جبکہ کراچی میں جیو ٹیلی ویژن کے ملازمین نے بھی جمعہ کی شب احتجاج کیا۔ سنیچر کو پشاور میں اور لاہور پریس کلب کے باہر بھی صحافیوں نے مظاہرے کیے۔ ادھر دبئی میڈیا سٹی، جہاں سے یہ دونوں چینل اپنی نشریات کرتے تھے، کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ نشریات بند کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا کیونکہ متحدہ عرب امارات دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے خلاف ہے۔ میڈیا سٹی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر آمنہ الرستمانی کے مطابق وہ ان چینلوں سے رابطے میں رہنا چاہتی ہیں تاکہ انہیں بتایا جاسکے کہ اپنی نشریات دوبارہ شروع کرنے کے لیے انہیں کیا کرنا ہوگا۔ صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے نجی ٹی وی چینلز ’جیو‘ اور ’اے آر وائی‘ کی خبری نشریات بین الاقوامی سطح پر بند کرائے جانے پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک کے اندر اور باہر پاکستانی میڈیا پر پابندیاں سخت کر کے صحافیوں کو اشتعال دلا رہی ہے جس کے باعث خدشہ ہے کہ صحافیوں کا احتجاج پرامن نہ رہے۔ پی ایف یو جے کی سینئر نائب صدر فوزیہ شاہد نے کہا: ’ہم لوگ اب تک ملک گیر سطح پر بہت پرامن احتجاج کر رہے تھے اور حکومت نے اب ہمیں اشتعال دلایا ہے اور میں یہ سمجھتی ہوں کہ اب ہمارے لیے شاید پرامن رہنا اتنا آسان نہیں ہوگا‘۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ٹی وی چینلز پر پابندیاں لگا کر ہزاروں لوگوں کو بیروزگار کردیا ہے اور روزگار سے بڑھ کر تو ورکر کے لیے کچھ نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ پی ایف یو جے کا ایک ہی مؤقف ہے اور اس سے وہ ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے پر تیار نہیں ہے کیونکہ حکومت نے جو آرڈیننسز جاری کیے ہیں، یہ سب پابندیاں اسی کی آڑ میں مسلط کی جارہی ہیں۔
فوزیہ شاہد کا کہنا تھا کہ مالکان کے تجارتی مفادات ہوتے ہیں اس لیے ان کی سوچ مختلف ہوتی ہے لیکن انہوں نے سرکاری پابندیوں کے خلاف ’جیو‘ اور ’اے آر وائی‘ ٹی وی چینلز کے مالکان کے مؤقف کا خیرمقدم کیا اور اسے آزادی صحافت کی جدوجہد میں اہم پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان سے یہ مطالبہ بھی کیا کہ وہ حکومتی دباؤ یا ان کے متعارف کرائے گئے قوانین کے تحت کسی بھی صحافی کو برطرف نہ کریں اور اگر احتجاج کی پاداش میں صحافی گرفتار ہوتے ہیں تو ان کے ساتھ باقاعدہ ملازم جیسا سلوک کیا جائے اور ان کی تنخواہ بند نہ کی جائے۔ دوسری جانب ملک میں نجی ٹی وی اور ریڈیو چینلز کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن ( پی بی اے) ٹی وی چینلز کی بندش کے معاملے پر بظاہر انتشار کا شکار نظر آتی ہے اور اس نے اب تک سرکاری جکڑ بندیوں سے نمٹنے کے لیے کسی متفقہ لائحہ عمل کا اعلان نہیں کیا ہے۔
پی بی اے کے سیکریٹری جنرل سرفراز شاہ جو’اپنا‘ چینل کے مالک ہیں ان کا کہنا ہے کہ ’جیو‘ اور ’اے آر وائی‘ کی بین الاقوامی نشریات بند ہوئے ابھی چند ہی گھنٹے ہوئے ہیں اور ممکن ہے شام تک پی بی اے کے ارکان اس صورتحال پر غور کریں۔ پی بی اے کے چیئرمین سلمان اقبال جو ’اے آر وائے ٹی وی نیٹ ورک‘ کے مالک ہیں، وہ کہتے ہیں کہ وہ ابھی تو یہی جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ ان کے چینل کی بین الاقوامی نشریات کیوں بند کرائی گئیں اور اس مسئلے کو کیسے حل کرایا جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ خود اسلام آباد میں ہیں اور ’جیو‘ ٹی وی کے مالک میر شکیل الرحمان دبئی میں ہیں اس لیے پی بی اے کا اجلاس ان دونوں کی کراچی واپسی کے بعد ہی ممکن ہوگا۔ نیویارک میں مظاہرے جمعہ کو نیویارک میں پاکستان کے قونصل خانے کے سامنے میڈیا اور سول سوسائٹی سے تعلق رکھنے والے صحافیوں، سیاسی اور انسانی حقوق کے سرگرم کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں مشرف حکومت، ایمرجنسی اور میڈیا پر پابندیوں کے خلاف زبردست نعرے بازے کی گئی۔ احتجاج میں پاکستان نژاد صحافیوں اور پاکستان کے اخبارات کے پبلشرز کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ پاکستان مسلم لیگ نواز گروپ، عوامی نیشنل پارٹی، پاکستان یو ایس اے فریڈم فورم اور خیبر سوسائٹی کے کارکنوں اور رہنمائوں نے بھی شرکت کی۔ نیویارک میں کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس (سی پی جے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر جیول نوئیل نے ’جیو‘ اور ’اے آر وائی ڈیجیٹل‘ پر پرمتحدہ عرب امارات کی وزارتِ اطلاعات کی طرف سے پابندیوں پر سخت تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے متحدہ عرب امارات اور پاکستان کی حکومتوں سے ان چینلز کی نشریات کی فوری بحالی کا مطالبہ کیا ہے۔
کراچی میں ملازمین کا احتجاج اسی دوران پولیس کی بھاری نفری نے گورنر ہاؤس کو جانے والے راستے کو مسلم جیم خانہ کے قریب پولیس موبائلیں کھڑی کر کے روکنے کی کوشش کی تاہم متعلقہ چینل کے صحافیوں کا احتجاجی جلوس رکاوٹ عبور کرکے آگے بڑھتا گیا جس کے کچھ آگے پولیس نے مزید نفری کی مدد سے گونر ہاؤس کے قریب سڑک کو بلاک کر دیا۔ اس مقام پر پولیس نے صحافیوں کو گورنر ہاؤس جانے سے روکنے کے لیے کھڑی کی گئی پولیس موبائلوں کے آگے اور پیچھے ڈنڈہ بردار اہلکاروں کو قطار میں کھڑا کردیا۔ اس موقع پر پولیس اور صحافیوں کے درمیاں ہاتھاپائی بھی ہوئی، تاہم جیو ٹیلی ویژن کے بعض احتجاجی کارکنوں کی مداخلت پر صحافیوں نے واپسی اختیار کی۔ اس مقام پر چینل کے بعض کارکنوں نے احتجاج اتوار تک مؤخر کرنے کا باقاعدہ اعلان کرتے ہوئے، چینلز کی بندش کے بارے میں حکومت پر تنقید کی ہے۔ لاہور پریس کے باہر مظاہرہ مظاہرے میں صحافیوں کے علاوہ انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر، وکلاء اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔ صحافی نعرہ لگا رہے تھے: لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے گی نہیں گی، پمرا آرڈیننس نامنظور اور آزادی صحافت تک جنگ رہے جنگ رہے۔ پنجاب یونین آف جرنلسٹ کے صدر عارف حمید بھٹی نے ٹی وی چینلز جیو اور اے آر وائی کی نشریات کی بندش اور میڈیا پر عائد پابندیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ صحافی پابندیوں کے خلاف بغاوت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اخباری مالکان بھی آزادی صحافت کے لیے باہر آئیں۔ عارف حمید نے اعلان کیا کہ اتوار سے لاہور پریس کلب میں روزانہ ایک گھنٹے کی علامتی بھوک ہڑتال کی جائے جبکہ بیس نومبر سے صحافی گرفتاریاں دیں گے۔ پشاور میں صحافیوں کا احتجاج سنیچر کی صبح ہونے والے اس مظاہرے میں ’ جیو‘ اور ’ اے آر وائی‘ کے ملازمین کے علاوہ الیٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنے والے دیگرصحافیوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔ مظاہرین نے پریس کلب سے ریلی نکالی اور حکومتی پابندی کے خلاف نعرے بازی کی۔ مظاہرین نے ہاتھ میں بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر ’میڈیا پر پابندی نامنظور اور جیو کو جینے دو مشرف‘ جیسے نعرے درج تھے جبکہ دونوں چینلز کے بعض ملازمین نے اپنے منہ پر تالے لگائے ہوئے تھے۔ |
اسی بارے میں چینل کی بندش کے خلاف مظاہرہ17 November, 2007 | پاکستان ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل29 September, 2007 | پاکستان پاکستان میں ٹی وی نشریات غائب 03 November, 2007 | پاکستان سندھ میں احتجاجی مظاہرے، گرفتاریاں14 November, 2007 | پاکستان پا کستان:ٹی وی چینلز پر نیا سنسر02 June, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان نجی ٹی وی چینل پر پولیس کا ’حملہ‘16 March, 2007 | پاکستان ’سندھ ٹی وی‘ پر پابندی کا تیسرادن12 November, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||