| | جیو کے مطابق اس کی نشریات حکومت پاکستان کے دباؤ میں بند کی گئی ہیں |
پاکستان کے نجی ٹیلی ویژن چینلز ’جیو نیوز‘ اور ’اے آر وائی‘ پر بین الاقومی سطح پر خبریں اور حالتِ حاضرہ کے پروگرام نشر کرنے پر مکمل طور پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ دونوں چینلز نے دعوی کیا ہے کہ ان پر متحدہ عرب امارات کی حکومت کی طرف سے یہ پابندی حکومتِ پاکستان کے کہنے پر لگائی گئی ہے۔ پاکستان میں جنرل مشرف کی طرف سے ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد ٹی وی چینلز کی نشریات کیبلز کے ذریعے نشر کرنے پر پہلے ہی پابندی لگا دی گئی تھی۔ پاکستان کے یہ دونوں بڑے نشریاتی ادارے بیرون ملک بسنے والے پاکستانیوں کے لیے دبئی میں واقع اپنے سٹوڈیوز سے خبریں اور حالتِ حاضرہ کے پروگرام نشر کر رہے تھے۔ اے آر وائی کے پنجاب کے بیورو چیف نصر اللہ ملک نے بی بی سی ڈاٹ کام کو فون پر اطلاع دی کہ دبئی میں ان کے اسٹوڈیوز کو خبریں اور حالت حاضرہ کے پروگرام بند کرنے کے لیے پاکستانی وقت کےمطابق جمعہ اور سنیچر کی درمیانی شب ایک بجےکی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ حکومتِ پاکستان نے ان چینلز کی پاکستان کے اندر نشریات پر پہلے ہی پابندی عائد کردی تھی۔ اس سے قبل جیو کے پریزیڈنٹ عمران اسلم نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ چینل کی نشریات حکومت کے دباؤ میں بند کی جا رہی ہیں۔ ’جیو کی پاکستان میں نشریات شروع کرانے کے لیے حکومت سے بات چیت ہوئی لیکن جو شرائط ہمارے سامنے رکھی گئیں، وہ ہمیں منظور نہ تھیں۔‘ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سے جیو کی نشریات پر پاکستان میں پہلے سے ہی پابندی عائد تھی۔ کراچی ڈیٹ لائن سے ’جیو‘ کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے خبر میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان ایک غیرملکی حکومت پر اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کر رہی ہے کہ جیو کو بند کردیا جائے۔ مسٹر اسلم نے کہا تھا کہ انہیں باضابطہ طور پر تو کوئی اطلاع نہیں لیکن خدشہ یہ ہے کہ جیو کے تمام چینل بند کر دیئے جائیں گے۔ ’پاکستان میں تو ہماری نشریات کیبل آپریٹرز پر دباؤ ڈال کر پہلے ہی بند کر دی گئی تھیں، اب کچھ دنوں سے دبئی کی نشریات بند کرنے کے لیے بھی دباؤ بڑھ رہا تھا۔‘ انہوں نے کہا: ’یہ واضح ہے کہ دبئی کی حکومت پر دباؤ ڈالا جارہا تھا اور آخر کار انہوں نے ( حکومت پاکستان کے دباؤ کے سامنے) گھٹنے ٹیک دیے۔‘ |