’سندھ ٹی وی‘ پر پابندی کا تیسرادن | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتِ پاکستان کی جانب سے ٹی وی چینل ’سندھ ٹی وی‘ کی نشریات کو بند ہوئے اتوار کو تین دن ہو گئے ہیں۔ حکومت نے جمعرات کو سندھ ٹی وی کی نشریات پر پابندی عائد کی تھی۔ وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے بی بی سی کو بتایا کہ
واضح رہے کہ سندھ ٹی وی کی نشریات پاکستان اور بیرون ملک میں سن دو ہزار چار سے دیکھی جارہی ہے۔ یہ نشریات بینکاک سے ٹیلی کاسٹ کی جاتی تھیں۔ وفاقی وزیر کے مطابق یہ آزمائشی نشریات تھیں، ہم نے متعلقہ محکموں کو اس بارے میں رپورٹ دینے کے لیے کہا ہے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا یہ پابندی قومی سلامتی کا معاملہ ہے؟ تو انہوں نے کہا وہ دیکھ رہے ہیں کہ وزارت داخلہ کے پاس اس کا کیا جواز ہے۔ دوسری جانب سندھ ٹی وی کے ایگزیکٹیو افسر ڈاکٹر کریم راجپر کا کہنا ہے کہ حکومت سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ نہ ہی کسی حکومتی محکمے نے کوئی لیٹر جاری کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے پیمرا کی شرائط پوری کرکے پندرہ لاکھ فیس جمع کرائی تھی، پاکستان میں نشریات کے لیے لینڈنگ رائٹس سوائے کچھ میوزک چینلز کے کسی کو نہیں ملے ہیں۔ ڈاکٹر کریم کے مطابق انہیں معلوم نہیں ہے کہ آخر حکومت کیوں ناراض ہے، اگر اسے کسی رپورٹ، خبر یا کسی پروگرام پر ناراضگی تھی تو مطلع کیا جاتا ہم تو تعاون کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سکیورٹی کلئرنس کا مسئلہ ہے تو وہ کسی دوسرے ملک سے نہیں آئے ہیں اس ملک کے شہری ہیں اور یہاں ٹیکس ادا کر رہے ہیں جبکہ سندھ ٹی وی کی پروڈکشن سو فیصد پاکستانی ہے۔ دوسری جانب صحافیوں کی تنظیموں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور رپورٹرس ودآؤٹ بارڈز نے سندھ ٹی وی کی نشریات پر پابندی کی مذمت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر نشریات بحال کی جائیں۔ | اسی بارے میں سرائیکی زبان کا ٹی وی چینل ’روہی‘18 October, 2006 | پاکستان پاکستان: غیر ملکی نشریات کی اجازت19 August, 2006 | پاکستان ’دوبارہ منتخب ہو سکتا ہوں‘18 May, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||