BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 14 June, 2007, 17:30 GMT 22:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیگم نوازش علی پر سرکاری دباؤ‘

علی سلیم
علی سلیم کے بقول وہ نہیں چاہتے کہ کسی گلی کی نکڑ پر بوری میں بند پائے جائیں
پاکستان کے نجی ٹی وی چینل ’آج‘ کے ہفتہ وار مقبول پروگرام ’لیٹ نائٹ شو وِد بیگم نوازش علی‘ کے میزبان علی سلیم نے یکم جولائی کے بعد اپنا پروگرام بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کا ایک سبب ان کے بقول سرکاری دباؤ اور سنسرشپ ہے۔

سیاسی و سماجی طنز و مزاح کے اس مقبول شو کی بناء پر بیگم نوازش علی کے نام سے شہرت پانے والے کراچی کے 28 سالہ نوجوان علی سلیم نے جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ یکم جولائی کو وہ اپنے 82 ویں شو کی میزبانی کریں گے جو ان کا آخری شو ہوگا۔

اپنے اس فیصلے کی ایک وجہ تو انہوں نے یہ بتائی کہ وہ اپنے کردار میں اتنے گم ہوگئے تھے کہ ان کی اپنی ذات کھوگئی تھی اور اب ان کے دوست بھی انہیں ’بیگم جی‘ کے نام سے پکارتے ہیں۔ لیکن دوسری وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ ان کا پروگرام سرکاری دباؤ اور سنسرشپ کا شکار تھا۔

انہوں نے کہا کہ ’میرے ساتویں اور آٹھویں پروگرام کے فوری بعد ہی جی ایچ کیو سے واضح ہدایات آگئی تھیں کہ اس پروگرام کو بند کردیا جائے۔‘ بیگم نوازش علی شو کی ان اقساط میں گلوکار فاخر اور بیگم وحید مراد کو مدعو کیا گیا تھا۔

تاہم ان کے بقول بعض یقین دہانیوں کے بعد انہیں پروگرام جاری رکھنے کی اجازت دے دی گئی، جن میں یہ وعدہ بھی شامل تھا کہ آئندہ پروگرام میں کرنل صاحب یا کسی فوجی عہدے کا تذکرہ نہیں کیا جائے گا۔

علی سلیم نے کہا کہ ’میں ہمیشہ کہتا تھا کہ یہ بڑی عجیب بات ہے کہ کیسے ایک آمر یا ڈکٹیٹر کے دور میں میڈیا کو سب سے زیادہ آزادی ملی ہے اور میں نے کئی دفعہ اپنے شو میں یہ کہا کہ یہ مشرف ہیں جن کی وجہ سے میں اپنا شو کر رہا ہوں، لیکن بدقسمتی سے 9 مارچ اور 12 مئی کے بعد صورتحال کچھ بدل سی گئی ہے۔

حکومت نے نئی ہدایات نکالی ہیں جس کی وجہ سے میرا پروگرام بہت بری طرح ’ذبح‘ کیا جاتا ہے۔ ’جو باتیں میں کرتا ہوں وہ ہمارے اپنے چینل کے اندر اس طرح سے سنسر ہو رہی ہیں کہ پھر مقصد نہیں رہ جاتا اس شو کو جاری رکھنے کا۔‘

’میں نے کئی دفعہ اپنے شو میں کہا کہ یہ مشرف ہیں جن کی وجہ سے یہ شو دکھایا جانا ممکن ہوا ہے‘

انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ اس وقت کراچی میں سیاست نہیں ہو رہی بلکہ گندی سیاست ہو رہی ہے اور جان سب کو عزیز ہے۔ ’میں نہیں چاہتا کہ کسی گلی کی نکڑ پر کسی بوری میں بند پایا جاؤں‘۔

علی سلیم نے کہا کہ انہیں اپنے پروگرام میں چیف جسٹس کا نام لینے سے منع کیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے شو کا مقصد عوام میں سیاستدانوں کے متعلق پیدا کی گئی بدگمانیوں اور عدم اعتماد کو دور کرنا اور ان کے مابین وسیع خلیج کو ختم کرنا تھا اور انہیں فخر ہے کہ انہوں نے اس کردار کو اس طرح نبھایا کہ لوگوں کو اس پر یقین ہونے لگا۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ وہ نوجوانوں کو انتخابی عمل میں شامل ہونے کی ترغیب دینے کے لیے مہم چلائیں گے اور اس کے لیے پورے ملک کا دورہ بھی کریں گے۔ انہوں نے اس مہم میں چیف الیکشن کمشنر اور تمام سیاسی جماعتوں سے تعاون کی اپیل بھی کی۔

اس موقع پر انہوں نے اس خواہش کا اظہار بھی کیا کہ وہ شادی کرنا چاہتے ہیں اور ایک گانا بھی سنوایا جو ان کے بقول ان سے شادی کی خواہشمند تمام لڑکیوں کے لیے پروپوزل ہے۔

آگے کیا ہو گا؟
’ڈرائیور اور چپڑاسی گواہی دیں گے‘
زباں بندی؟
وکلاء احتجاج کو’سنسر‘ کرنے کی مذمت
’سندھ ٹی وی‘ سندھ ٹی وی پابند
’سندھ ٹی وی‘پرحکومتی پابندی کا تیسرا دن
اسی بارے میں
احتجاج: سنسرشپ کی مذمت
14 March, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد