علی سلیم، بیگم نوازش علی کیسے بنے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’بیگم نوازش علی شو‘ کو آج کل پاکستان میں بڑی مقبولیت حاصل ہو رہی ہے۔ اس ٹاک شو میں ہر دفعہ کسی مشہور شخصیت کو مدعو کیا جاتا ہے اور سیاسی، سماجی، طنز و مزاح، ہر طرح کے موضوع پر کھل کر گپ شپ کی جاتی ہے۔ شو کی میزبان، بیگم نوازش علی، وسط عمر کی خاتون ہیں۔ اپنے دلچسپ اندازِ گفتگو کی وجہ سے وہ ملک بھر میں مشہور ہو چکی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ بیگم نوازش علی درحقیقت اداکار علی سلیم ہیں۔ علی سلیم کی عمر ستائیس سال ہے۔ بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں انہوں نے اپنی زندگی اور کام کے بارے میں کچھ یوں بتایا۔
’جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، میں نے ہمیشہ ایک عورت ہی بننا چاہا ہے‘۔ اپنے بچپن پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’بچپن میں مجھے گڑیوں کے ساتھ کھیلنا اچھا لگتا تھا اور مجھے لڑکیوں کے کپڑے پہننے کا شوق تھا۔ میں نے ہمیشہ سری دیوی، نازیہ حسن یا پھر بے نظیر بھٹو جیسی حسین، مشہور اور کامیاب خواتین کی طرح بننے کے خواب دیکھے‘۔ بیگم نوازش علی یا علی سلیم کا کہنا ہے کہ وہ اپنی آواز اور اداکاری کی صلاحیتوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ وہ اپنی ان صلاحیتوں کو بروئے کار لانے کے لیے مواقع کی تلاش میں رہتے تھے۔ اپنی زندگی کے تلخ تجربات کے بارے میں انہوں نے کہا ’ انیس سو پچانوے میں جب ہم اسلام آباد سے کراچی منتقل ہوئے تو اس کے کچھ عرصے بعد میرے والدین میں طلاق ہو گئی۔ یہ میری زندگی کا سب سے کٹھن اور پریشان کن دور تھا‘۔
انہوں نے بتایا کہ انہی مایوسی بھرے دنوں میں ان کی ملاقات ٹی وی اداکارہ مرحومہ یاسمین اسماعیل سے ہوئی۔ یاسمین نے انہیں امید کی کرن دکھائی اور آج ان کی شہرت میں یاسمین کا بڑا کردار ہے۔ ’یاسمین میری زندگی کا بہترین حصہ تھیں۔ وہ میری ماں، باپ، بہترین دوست، سب کچھ تھیں۔ میں اپنی کامیابی کی سو فیصد داد انہی کو دیتا ہوں‘۔ اداکاری میں اپنے پہلے کردار کے بارے میں علی نے کہا ’ میں نے مئی انیس سو اٹھانوے میں آرٹ یا آٹا نامی ایک سٹیج شو میں بے نظیر بھٹو کی نقل اتاری۔ اپنی اداکاری کی وجہ سے مجھے بہت داد ملی اور شو بہت مقبول ہوا‘۔ علی سلیم کے بقول انہوں نے اگلے چھ سال سٹیج پر اداکاری کرتے ہوئے گزارے اور وہ اس دور کو اپنی تربیت اور تجربے کا سنہری دور کہتے ہیں۔ دو ہزار چار میں لاہور میں دوستوں کی ایک محفل میں بیٹھے ہوئے بیگم نوازش علی شو کا آئیڈیا سامنے آیا۔ ایک ایسا ٹاک شو جس میں علی کو ایک طلاق یافتہ وسط عمر کی ایسی خاتون کے طور پر میزبانی کرنی تھی جو ہر کسی کو جانتی ہیں۔ شروع میں انہوں نے ’جیو‘ ٹی وی سے شو کے بارے میں بات کی۔ وہاں سے انکار کے بعد جب وہ ’آج‘ ٹی وی کے پاس اپنا آئیڈیا لے کر پہنچے تو وہاں ان کے آئیڈیا کو ہاتھوں ہاتھ لیا گیا۔ پہلی قسط سے ہی اس شو کو بہت پسند کیا گیا۔ اب تک اس شو میں سیاستدانوں سے لے کر فلمی اداکاروں اور کھلاڑیوں تک ہر طرح کے لوگ آ چکے ہیں۔ سیاستدانوں کو اپنے شو میں بلانے کا مقصد بتاتے ہوئے علی نے کہا ’ہمارے سیاستدانوں کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بدنام کیا گیا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ وہ پھر سے اچھے لوگوں میں شمار کیئے جائیں‘۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ فوجی عہدیداروں کو جان بوجھ کر اس شو میں مدعو نہیں کیا جاتا۔ اس کی وجہ انہوں نے کچھ یوں بتائی۔
’میرے خیال میں جمہوریت ہی ہمارے مسائل کا حل ہے اور فوجیوں کو شو میں نہ بلانا میری طرف سے جمہوریت کے فروغ کی طرف ایک کوشش ہے‘۔ علی سلیم چاہتے ہیں کہ وہ شو کے ذریعے پاکستان کا ایسا خوبصورت تصور پیش کریں جس سے پاکستان کے بارے میں دہشت گردی کے تصور کو دلا جا سکے۔ آخر میں علی نے معنی خیز مسکراہٹ کے ساتھ کہا ’اور میں ایسا کرکے ہی دکھاؤں گا، آخرمجھے کس نے روکنا ہے‘؟ | اسی بارے میں بولی وڈ اب پاکستانی ٹی وی پر 06 January, 2006 | فن فنکار پشتو ٹی وی کا ارتقاء21 April, 2005 | فن فنکار پاکستان ٹیلی ویژن کے چالیس سال07 October, 2004 | فن فنکار ’بادلوں پر بسیرا‘ بہترین21 August, 2003 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||