پاکستان ٹیلی ویژن کے چالیس سال | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان ٹیلی ویژن کے قیام کو اس سال نومبر میں چالیس سال پورے ہو جائیں گے اور اس کی چالیسویں سالگرہ منانے کے لیے ابھی سے تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ سالگرہ کے حوالے سے پی ٹی وی کے پانچوں مراکز پر تقریبات منعقد کی جائیں گی اور خصوصی شوز کا اہتمام کیا جائے گا- پی ٹی وی ہیڈ کوارٹر اسلام آباد میں سب سے بڑا شو ہوگا جس میں ملک بھر سے فنکار شرکت کریں گے۔ پی ٹی وی کی چالیس سالہ تاریخ پر ایک کتاب بھی شائع کی جارہی ہے جو چالیسویں سالگرہ کے موقع پر ریلیز کی جائے گی۔ پی ٹی وی کی چالیسویں سالگرہ کے حوالے سے تقریبات کا سلسلہ رمضان المبارک کے بعد شروع ہو جائے گا جو چھبیس نومبر تک جاری رہے گا۔ یہ دونوں سٹیشن شروع میں روزانہ تین گھنٹے کی نشریات کا اہتمام کرتے تھے اور ہفتہ میں ایک دن یعنی پیر کو ٹی وی کی نشریات نہیں ہوتی تھیں- شروع شروع میں ٹی وی کے تمام پروگرام سٹیشن میں تیار نہیں ہوتے تھے بلکہ نشریات کا زیادہ حصہ درآمدی اور دستاویزی معلوماتی پروگراموں پر مبنی تھا-
اس کے علاوہ پاکستان میں ہونے والی اقتصادی اور صنعتی ترقی سے متعلق فلمیں جو ٹیلی ویژن کی آمد سے پہلے وزارت اطلاعات کے ذیلی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف فلم اینڈ پبلیکیشنز سے مستعار لے کر ٹی وی پر دکھائی جاتی تھیں۔ بعد ازاں پی ٹی وی نے بھی اسی نوعیت کی دستاویزی فلمیں بنانا شروع کر دیں اور معروف پروڈیوسر عبیداللہ بیگ نے ٹیلی ویژن کے لیے دستاویزی فلموں کا آغاز کیا۔ان کی زیادہ تر فلمیں شکاریات‘جنگلات اور تعمیرات کے متعلق ہیں۔ ان کے بعد شیریں پاشا، قریش پور، ناظم الدین اور ظہیر بھٹی نے بھی دستاویزی فلمیں تیار کیں۔ شروع شروع میں ٹی وی پروگرام برہ راست نشر ہوتے تھے- جب ایک لائیو پروگرام ختم ہوتا تو اس کے بعد درآمدی یا دستاویزی فلم لگا دی جاتی اور اس وقفے میں دوسرے لائیو پروگرام کا سیٹ لگا دیا جاتا- پی ٹی وی نے اپنا پہلاڈرامہ ’نذرانہ‘ پیش کیا جس میں محمد قوی خان‘کنول نصیر اور منور توفیق نے اداکاری کی۔ اس کا سکرپٹ نجمہ فاروقی نے لکھا تھااور اسے ڈائریکٹ فضل کمال نے کیا تھا-
انیس سو بہتر میں ریڈیو پاکستان کی عمارت کے ساتھ ہی پی ٹی وی کی الگ عمارت بن گئی جس کا افتتاح انیس سو بہتر میں اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے کیا- وقت کے ساتھ ساتھ ٹیلی ویژن میں مسلسل ترقی ہو رہی ہے- پہلی باقاعدہ ڈرامہ سیریل ’ٹاہلی تھلے‘ہے جس کا سکرپٹ اشفاق احمد مرحوم نے لکھا- پی ٹی وی کے آغاز میں چند ایسی شخصیات ہیں جن کے تذکرے کے بغیر پی ٹی وی کی تاریخ شاید ادھوری رہے ان شخصیات میں نثار حسین، ذکا درانی، اسلم اظہر، محمد نثار حسین، جمیل آفریدی، شہنشاہ نواب، بختیار احمد، فضل کمال، مختار صدیقی، آغا بشیر، شہزاد خلیل، فرح سیر، آغا ناصر، کمال احمد رضوی، محمد رفیع خاور(ننھا)، عون محمد رضوی، قمر چودھری، نذیر حسینی، سمیعہ ناز، مہ رخ نیازی، کنول نصیر، قوی خان، روحی بانواور ریحانہ صدیقی شامل ہیں- انیس سو چھہتر میں ٹیلی ویژن رنگین ہو گیا- پہلا رنگین ڈرامہ’پھول والوں کی سیر، تھا جس میں آصف رضا میر اور خالدہ ریاست نے اداکاری کی۔ سکرپٹ اشفاق احمد نے لکھا تھااور اسے ڈائریکٹ محمد نثار حسین کیا تھا۔ لاہور اور ڈھاکہ میں انیس سو چونسٹھ میں ٹی وی سٹیشن قائم ہوئے جبکہ کراچی ٹی وی سٹیشن دو نومبر انیس سو سڑسٹھ کوقائم ہوا۔ یہ پہلا مکمل ٹی وی سٹیشن تھا جو موبائل یونٹ‘دو سٹوڈیوزاور پروڈکشن کی جدید سہولیات سے لیس تھا- اس کے بعد چھبیس نومبر انیس سو سڑسٹھ کو کوئٹہ اور پانچ دسمبر انیس سو چھہتر کو پشاور میں ٹی وی سٹیشن بن گئے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان میں پانچ مراکز لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور اور کوئٹہ رہ گئے اور آج ان پانچوں مراکزسے ڈرامے، ٹاک شوز، سپورٹس پروگرام، موسیقی اور بچوں کے پروگراموں سمیت کئی رنگارنگ پروگرام پیش کئے جا رہے ہیں- اب پی ٹی وی کے علاوہ پی ٹی وی ورلڈ، پی ٹی وی تھری اور پی ٹی وی نیشنل بھی قائم ہو چکے ہیں۔ اداکار محمد قوی خان نے جنہیں پی ٹی وی پر پہلا ڈائیلاگ بولنے کا اعزاز حاصل ہے پی ٹی وی کے پہلے ڈرامے کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت اداکاری بہت مشکل تھی کیونکہ ریکارڈنگ کی سہولت نہیں تھی اور اداکارکو ری ٹیک کا چانس نہیں ملتا تھا- ’ہم نے جو پہلا ڈرامہ’نذرانہ‘ کیا اس کی ریہرسل پر پورے تین ماہ لگے۔ ایک ایک موومنٹ یاد کی گئی۔ اب زمانہ بدل گیا ہے اور ریکارڈنگ کی سہولت سے اداکاری آسان ہو گئی ہے-‘ اپنے ڈراموں کی تعداد کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ صحیح تعداد تو یاد نہیں البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی ٹی وی کے پہلے ڈرامے سے لے کر اب تک مسلسل اداکاری کر رہا ہوں ان ڈراموں میں سنجیدہ رول بھی کیے، کامیڈی بھی کی اور کریکٹر ایکٹر کے طور پر بھی کام کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||