BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 June, 2007, 10:26 GMT 15:26 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آرڈیننس ضابطۂ اخلاق سے مشروط
صدر مشرف
حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے: جنرل مشرف
حکومت نے نجی ٹی وی مالکان کی جانب سے ضابطۂ اخلاق تیار کرنے کی یقین دہانی کی صورت میں پیمرا قوانین میں ترامیم کا آرڈیننس واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

اس حوالے سے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے سیکرٹری اطلاعات انور محمود کا کہنا تھا کہ’ آرڈیننس کی واپسی کا ایک مروجہ طریقۂ کار ہے اور اس میں وقت لگےگا‘۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ شب حکومت کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں جو کچھ لکھا گیا ہے صورت حال بعینیہِ وہی ہے۔

آرڈیننس کی منسوخی کے حوالے سے وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی سے منسوب بیان پر جب سیکرٹری اطلاعات سے وضاحت چاہی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ وہ وزیرِ اطلاعات کے بیان پر تبصرہ نہیں کرنا چاہتے۔

وزیرِ اطلاعات نے سنیچر کی شب ایک پاکستانی نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ آرڈیننس غیرمشروط طور پر واپس لے لیا گیا ہے۔

اس سے قبل سنیچر کو صدر نے نجی چینلز کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن ضابطۂ اخلاق کی تیاری کے لیے تین روز کا وقت دیا تھا اور اس صورت میں آرڈیننس واپس لینے کی یقین دہانی کروائی تھی۔

راولپنڈی میں ہونے والی اس ملاقات میں کئی نجی ٹی وی چینلز کے مالکان نے شرکت کی تھی جبکہ حکومت کی جانب سے صدر کے علاوہ وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی اور ان کے محکمہ کے سیکرٹری اطلاعات بھی موجود تھے۔

ملاقات میں نجی ٹی وی مالکان نے اپنا موقف صدر کے سامنے رکھا تھا کہ کس طرح حکومت کی جانب سے نئی ترامیم ان کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

صدر نے مالکان کو یقین دلایا تھا کہ ان کی حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی چینلز کو لائسنس انہیں کے دور میں دیئے گئے اور وہ انہیں کیوں بند کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے چینلز سے اپنا ضابطہ اخلاق خود ترتیب دینے کے لیے کہا۔

حکومت اور صحافیوں کی درمیان پیمرا قوانین میں ترامیم کے نئے آرڈیننسں کے اجراء پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ حکومت ان نئے قوانین کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔

قانون میں نیا کیا؟
دو ہزار دو میں بننے والے ادارے کے نئے اختیارات
میڈیامیڈیا شکنجے میں
کیا حکومت دباؤ کی تاب نہیں لا پا رہی ہے؟
پریس کا احتجاج
ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کا ملک گیر احتجاج
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد