نئے پیمرا قانون میں نیا کیا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں الیکٹرانک میڈیا کی سرگرمیوں سے متعلق پیمرا آرڈیننس مشرف حکومت نے سن دو ہزار دو میں جاری کیا تھا اور یہ لیگل فریم ورک آرڈر کے تحت متعارف کرائے جانے والے ان قوانین میں سے ایک ہے جنہیں آئین میں کی جانے والی سترہویں ترمیم کے تحت تحفظ حاصل ہے۔ پیمرا آرڈیننس ملک میں الیکٹرانک میڈیا کے نگران ادارے الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے قیام، اس کے فرائض، اتھارٹی کی تشکیل اور اس کے اختیارات اور الیکٹرانک میڈیا کے لیے لائسنسوں کے اجراء جیسے معاملات سے متعلق قانون سازی کی ابتدائی کاوش تھی۔ پیمرا آرڈیننس دو ہزار دو کی سیکشن تیس کے تحت وفاقی حکومت کو ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج کی سربراہی میں ایک تین رکنی کمیٹی قائم کرنا تھی جو لائسنس ہولڈر کی طرف سے کسی شق کی خلاف ورزی کی صورت میں لائسنس کے منسوخ کرنے سے متعلق سفارش کرے گی۔ جب سن دو ہزار چار میں اسے قومی اسمبلی میں پیش کیا گیا تو ایک ریٹائرڈ پولیس افسر کی سربراہی میں قائم پیمرا نے اس کے مسودے میں سیکشن چونتیس اے کا اضافہ کر دیا جس کے تحت پولیس لائسنس کی خلاف ورزی پر کسی بھی شخص کو بغیر وارنٹ کےگرفتار کر سکتی ہے۔ حکومت پیمرا بل کو قومی اسمبلی سے تو پاس کرانے میں کامیاب ہو گئی لیکن جب اس کے مسودے کو سینیٹ میں پیش کیا گیا تو صحافیوں کے احتجاج کے پیشِ نظر اسے پارلیمینٹ کی ایک ثالثی کمیٹی کے سپرد کر دیا گیا۔ یہ کمیٹی آٹھ سینیٹرز اور آٹھ ارکان قومی اسمبلی پر مشتمل تھی جس نے صحافیوں کی تنظیم پی ایف یو جے، ٹی وی چینلوں کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن اور میڈیا سے متعلق کام کرنے والی ایک غیر سرکاری تنظیم کا نقطہِ نظر سننے کے بعد اس میں کئی ایک ترامیم منظور کر لیں۔
مسودے میں کی جانے والی ایک ترمیم کے تحت پولیس کے اس اختیار کو ختم کر دیا گیا کہ وہ لائسنس کی خلاف ورزی پر کسی بھی شخص کو بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کر سکتی ہے۔ ایک اور ترمیم کے تحت پیمرا کے لیے یہ بات لازمی قرار دی گئی کہ وہ سیکشن تیس پر کارروائی کرتے ہوئے اس وقت تک کسی ادارے کا لائسنس منسوخ نہیں کر سکتا جب تک اسے کونسل آف کمپلینٹ یا شکایات کونسل کی طرف سے اس کی سفارش نہ کی گئی ہو۔ مسودے میں اس بات کی بھی وضاحت کی گئی کہ سیکشن چونتیس اے کے تحت بار بار لائسنس کی خلاف ورزی کرنے پر پولیس کارروائی کی اطلاق صحافیوں پر نہیں ہو گا۔ پیمرا آرڈیننس کے مسودے میں ایک اور ترمیم کے تحت پیمرا کے لیے اس بات کو لازمی قرار دیا گیا کہ وہ غیر قانونی نشریات پر کسی نجی نشریاتی اداروں کی عمارات، نشریاتی آلات اور ’ڈسٹربیوشن سسٹم‘ کوقبضے میں لینے سے پہلے اسے اظہار وجوہ کا نوٹس دے گی۔ ان ترامیم کے باوجود پیمرا آرڈیننس حکومت کی طرف سے الیکٹرانک میڈیا کو کنٹرول کرنے کے لیے کافی اختیار کا حامل تھا اور حکومت نے بڑی خوبی کے ساتھ نئے قائم ہونے والے ٹی و چینلوں اور ایف ایم سٹیشنوں پر اپنا کنٹرول بخوبی برقرار رکھا۔
تاہم حکومت اور الیکٹرانک میڈیا کے مابین تعلقات میں نو مارچ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی غیر فعال بنانے کے حکومتی فیصلے کے نتیجے میں شروع ہونے والی تحریک کے بعد اس وقت تبدیلی آئی جب پرائیویٹ ٹی وی چینلوں نے وکیلوں کے مظاہروں کی تفصیلی کوریج دینا شروع کی۔ ٹی وی چینل آج کی نشریات اس وقت عارضی طور پر معطل کر دی گئیں جب اس نے لاہور میں وکیلوں کے ایک مظاہرے پر پولیس کے لاٹھی چارج کے نتیجے میں زخمی ہونے والے سینیٹر لطیف کھوسہ اور دیگر مظاہرین کی فوٹیج دکھانا شروع کی۔ بعد میں پانچ مئی کو چیف جسٹس کے دورہِ لاہور اور بارہ مئی کو کراچی میں ہلاکتوں کی تفصیلی کوریج کے بعد حکومتی حلقوں میں یہ تاثر ابھرنے لگا کہ پرائیویٹ ٹی وی چینل وکلاء کی احتجاج تحریک کو آکسیجن فراہم کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیمینار کی براہِ راست کوریج میں فوج اور عدلیہ کے خلاف نعرہ بازی اور متنازعہ تقاریر سے الیکٹرانک میڈیا کے خلاف حکومتی غصے میں مزید اضافہ ہوا۔ اس کا فوری نتیجہ یہ نکلا کہ کیبینٹ ڈویژن کے زیر انتظام کام کرنے والی پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کو وزارت اطلاعات و نشریات کے ماتحت کر دیا گیا۔ یہ پہلا موقع نہیں تھا کہ پیمرا کے انتظامی کنٹرول میں تبدیلی کی گئی۔ اس سے پہلے پیمرا کو وزارت اطلاعات کے کنٹرول کے نکال کر کیبینٹ ڈویژن کے ماتحت کیا گیا تھا۔ اس کے پیچھے سوچ یہ تھی کہ کیونکہ پیمرا ایک ریگولیٹری ادارہ ہے اس لیے اسے وزارت اطلاعات کے اثر سے دور رکھا جائے جس طرح پاکستان الیکٹرک پاور اتھارٹی اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی وزارتِ پانی و بجلی اور وزارت مواصلات کے کنٹرول سے باہر ہیں۔ دوسری طرف حکومت نے پیر کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کر دی جس کے تحت اسے نجی نشریاتی اداروں کی طرف سے غیر قانونی نشریات کی صورت میں بغیر کسی شو کاز نوٹس کے ان کی عمارات، نشریاتی آلات اور ’ڈسٹربیوشن سسٹم‘ کوقبضے میں لینے کے اختیارات حاصل کر لیے۔ نیا ترمیمی آرڈیننس نشرواشاعت کے تمام ذرائع کا احاطہ کرتا ہے جن میں ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ اور موبائل فون شامل ہیں۔ نئی ترامیم میں ایک اہم شق موبائل اور انٹرنیٹ سے متعلق ہے جس کے تحت پرانے آرڈیننس میں جہاں صرف ڈی ٹی ایچ یا براہ راست گھر تک ٹی وی کی سروس کے الفاظ کے ساتھ تھے اب وہاں آئی پی ٹی وی یا انٹرنیٹ پر ٹی وی اور موبائل ٹی وی کی سروسز بھی شامل کئے گئے ہیں۔ ابتدائی آرڈیننس کے برعکس نئے قانون میں پیمرا کو یہ اختیار تقویض کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے نشریاتی ادارے کا لائسینس منسوخ کر سکتا ہے جس کی نشریات پیمرا کے قوانین کی شقوں کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ اس ترمیم کے تحت نشریاتی ادارے کا لائسینس منسوخ کرنے کے لیے پیمرا کو کونسل آف کمپلینٹ کی سفارش کی ضرورت نہیں ہے۔ ترمیمی آرڈیننس کی ایک اور شق کے تحت پیمرا حکام کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی نشریاتی ادارے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکے گا۔ اس سے پہلے جرمانہ عائد کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد دس لاکھ روپے تھی۔ پیمرا آرڈیننس کے اجراء کے فوری بعد صحافیوں کی طرف سے زبردست احتجاج شروع ہو گیا۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے سات جون کو ملک بھر میں یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا ہے۔ دوسری طرف سندھ بار ایسوسی ایشن نے پیمرا آرڈیننس کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا ہے جبکہ پاکستان مسلم لیگ نواز کے طرف سے بیرسٹر ظفراللہ خان نے اس کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن داخل کرا دی ہے۔ ایک شہری اقبال کاظمی نے بھی پیمرا آرڈیننس کو سندھ ہائی کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے۔ عدالتی چیلنج کا سامنا کرنے کے علاوہ نئے پیمرا آرڈیننس کو ابھی پارلیمینٹ کے سامنے بھی پیش کیا جانا ہے اور اس کے بعد ہی یہ بات واضح ہو گی کہ یہ کس شکل میں نافذ العمل ہوتا ہے۔ |
اسی بارے میں میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین04 June, 2007 | پاکستان پیمرا آرڈیننس پر احتجاج جاری05 June, 2007 | پاکستان پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان پیمرا ترامیم عدالتوں میں چیلنج 05 June, 2007 | پاکستان پیمرا پر پارلیمانی وزیر کی تنقید 27 April, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان پیمرا کو غور کرنے کی ہدایت14 April, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||