پیمرا آرڈیننس پر احتجاج جاری | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مشرف حکومت کی طرف سے گزشتہ روز جاری کیے گئے پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف احتجاج کا سلسلہ منگل کو بھی جاری رہا اور ملک کے مختلف حصوں میں صحافیوں، وکلاء اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے میڈیا پر پابندیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کیے۔ حکومت پاکستان نے پیر کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے نجی نشریاتی اداروں کے بارے میں قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے نجی نشریاتی اداروں کی عمارات، نشریاتی آلات اور ’ڈسٹربیوشن سسٹم‘ کوقبضے میں لینے اور کسی نشریاتی ادارے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کرنے کے اختیار حاصل کر لیے تھے۔ کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق سندھ ہائی کورٹ میں پیمرا کے ترمیمی آرڈیننس اور نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کی بندش کو چیلنج کردیا گیا ہے۔ یہ پٹیشن ایک شہری اقبال کاظمی نے دائر کی ہے جس میں انہوں نے وزارتِ اطلاعات و نشریات، پاکستان الیکٹرانک میڈیا اتھارٹی یعنی پیمرا اور صوبائی وزارتِ اطلاعات کو فریق بنایا گیا ہے۔ پٹیشن میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت آزادی صحافت کے دعوے کرتی رہی ہے مگر اس کے برعکس آزادی سلب کرنے کے لیے مختلف آرڈیننس اور قوانین نافذ کیے جارہے ہیں جس میں پیمرا کا ترمیمی آرڈیننس بھی ہے۔
کراچی میں پاکستان مسلم لیگ نواز اور سنی تحریک کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیےگئے جس میں پیمرا ترمیمی آرڈیننس کو اظہار رائے کی آزادی پر حملہ قرار دیا گیا۔ مسلم لیگ کے صوبائی صدر سلیم ضیا کا کہنا تھا کہ پیمرا آرڈیننس صحافت کی آزادی پر بہت بڑا حملہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنرل پرویز مشرف کشیدگی کے عادی ہیں وہ عدلیہ اور وکلاء کے بعد اب میڈیا سے کشیدگی چاہتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات شیری رحمان اور فہمیدہ مرزا نے ایک پریس کانفرنس میں پیمرا ترمیمی آرڈیننس کو ’کالا قانون‘ قرار دیا اور کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ سب اٹھ کھڑے ہوں۔ اُدھر وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات محمد علی درانی کا کہنا تھا:’ آزاد میڈیا ہماری شناخت ہے اور آج پریس آزاد ہے۔صحافتی پالیسیوں پر مکمل قومی اتفاق رائے پایا جاتا ہے‘۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار منگل کو ایک نجی ٹی وی سے گفتگو کے دوران کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان اس وقت اختلاف پیدا ہوتا ہے جب قومی اداروں کے تقدس کے منافی پروگرام نشر کیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ نجی ٹیلی ویژن چینلز کے مالکان کا اجلاس بلائے تاکہ وہ اپنے پروگراموں کے بارے میں ضابطہ اخلاق تیار کریں۔
دریں اثناء پیمرا آرڈیننس کے اجراء خلاف احتجاج منگل کو بھی جاری رہا اور پشاور میں صحافی تنظیموں، سول سوسائٹی اور وکلاء نے حکومت پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ میں قانون کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق پشاور پریس کلب اور خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پریس کلب سے نکالے گئے احتجاجی مظاہرے میں صحافیوں کے علاوہ سول سوسائٹی کی تنظیموں کے نمائندوں اور وکلاء کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ’گو مشرف گو‘، ’پیمرا آرڈیننس کو ختم کیا جائے، میڈیا سے پابندیاں ہٹائی جائے‘ ، ’غنڈہ گردی کے پیچھے وردی والے‘ اور ’درانی نہیں غلط بیانی‘ کے نعرے درج تھے۔ مطاہرین نعرے لگاتے ہوئے گورنر ہاؤس کی طرف بڑھتے رہے مگر پولیس اور فوج کی طرف سے کھڑی کی گئی رکاوٹوں کی وجہ سے آگے نہیں جا سکے۔ مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان بار کونسل ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین اور چیف جسٹس افتخار چودھری کے وکیل قاضی انور ایڈوکیٹ نے پیمرا کے
ان کا مزید کہنا تھا کہ میڈیا نے عدلیہ کی آزادی کی تحریک میں وکلاء کی آواز کوگلی گلی میں پہنچا دیا ہے اور اب جب جنرل مشرف پر دائرہ تنگ ہوگیا ہے تو انہوں نے بھاگتے ہوئے میڈیا پر پابندیاں عائد کردی ہیں جس سے بقول ان کے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا اور وکلاء آخری وقت تک صحافیوں کا ساتھ دیں گے۔ مظاہرے سے پشاور پریس کلب کے صدر ایم ریاض نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کی حکومت کی جانب سے آزادی اظہار دینے کے تمام دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے ہیں اور حکومت صرف پانچ دن تک بھی حقائق کا سامنا نہیں کرسکی ہے۔ مظاہرے سے تحریک انصاف، پاکستان مسلم لیگ (ن )اور عورت فاونڈیش کے نمائندوں نے بھی خطاب کیا۔ کوئٹہ سے نامہ نگار عزیز اللہ کے مطابق بلوچستان اسمبلی نے صحافیوں کو دی جانے والی دھمکیوں اور جیو نیوز سمیت دیگر چینلز کی نشریات روکنے کے خلاف ایک تحریک التوا بحث کے لیے منظور کی ہے۔ ڈیرہ اللہ یار میں صحافیوں نے ذرائع ابلاغ کے حوالے سے حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ |
اسی بارے میں میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین04 June, 2007 | پاکستان پاکستان: چینلوں کی بندش، احتجاج04 June, 2007 | پاکستان چینلز پر پابندی، مشعل بردار جلوس04 June, 2007 | پاکستان ’پیمرا آرڈیننس بڑا دھچکا ہے‘ 19 May, 2005 | پاکستان پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||