BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 12:59 GMT 17:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان: چینلوں کی بندش، احتجاج

اسلام آباد میں پابندی کے خلاف احتجاج
’عوام کو معلومات کی آگاہی سے محروم نہیں کیا جاسکتا، پیمرا کے چہیتے یہ سب کچھ کر رہے ہیں‘
پاکستان میں نجی ٹی وی چینلوں کی بندش کے خلاف صحافیوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کی طرف سے احتجاج کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف ملک کے مختلف حصوں میں کیبل آپریٹروں نے خود کو اپنی ایسوسی ایشن کی اس دھمکی سے دور کرنا شروع کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ جو ٹی وی چینل فوج، عدلیہ اور ملکی استحکام کے خلاف بات کرےگا اس چینل کی نشریات معطل کر دی جائیں گی۔

گزشتہ رات ملک کے مختلف حِصّوں میں نجی ٹی وی چینل جیو کی نشریات اس وقت معطل کر دی گئی تھیں جب اس نے مبینہ حکومتی دباؤ پر اپنے پہلے سے ریکارڈ شدہ ٹاک شو ’میرے مطابق‘ کو روکنے سے انکار کر دیا تھا۔

جرمانہ
 تین روز پہلے اے آر وائی ون ورلڈ کی نشریات معطل کرنے میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی تھی جس پر پیمرا نے انہیں ستر ہزار روپے جرمانے کا نوٹس ارسال کر دیا ہے۔
ایک کیبل آپریٹر
مقامی اردو اخبار جنگ کے مطابق پہلے جیو کی انتظامیہ سے ٹاک شو کے میزبان کو رخصت پر بھیجنے کا مطالبہ کیا گیا اور بعد میں پروگرام کے میزبان کو ٹیلی فون پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

ٹاک شو میں سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس (ریٹائرڈ) ناصر اسلم زاہد، بری فوج کے سابق سربراہ جنرل (ریٹائرڈ) مرزا اسلم بیگ اور حکمران مسلم لیگ کے نائب صدر کبیر علی واسطی شریک تھے۔

تین روز پہلے ٹی وی چینل آج اور اے آر وائی کی نشریات یہ کہہ کر بند کر دی گئی تھیں کہ وہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے جاری شدہ لائسنس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے سیاسی نوعیت کے پروگرام براہ راست دکھا رہے ہیں۔

نجی ٹیلی ویژن چینل جیو اور آج کی نشریات کی بندش کے خلاف پہلا مظاہرہ اسلام آباد میں ہوا جس میں وکلاء اور سول سوسائٹیوں نے حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ نجی ٹیلی ویژن چینل کی نشریات فوری طور پر بحال کیا جائے۔

اسی سلسلے میں صحافیوں کی مقامی تنظیم راولپنڈی، اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس پیر کی شام ایک مشعل بردار جلوس نکال رہی ہے جو بلیو ایریا سے شروع ہو کر پرائم منسٹر ہاؤس پر ختم ہو گا۔

صارفین کی پسند
 ہم پر صارفین کا بہت دباؤ ہوتا ہے اور خاص طور پر آج کل لوگ نیوز چینل دیکھنا چاہتے ہیں چینل بند کرنا تو بڑی بات ہے اگر جیو کو کیبل کے آخری چینلوں میں ڈال دیا جائے تو صارفین کے احتجاجی فون آنے لگتے ہیں
کیبل آپریٹر
اسلام آباد سے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق سول سوسائٹی اور وکلاء کا مظاہرہ پاکستان الیکٹرانک ریگولیٹری اتھاڑی (پیمرا) کے دفتر کے سامنے ہوا جس میں مقامی صحافیوں نے بھی شرکت کی۔مظاہرین نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ’حکومت اور کیبل آپریٹر گٹھ جوڑ‘، ’عوام قومی چیلز بند کرنے پر کیبل آپریٹرز کو فیس بند کردیں‘، ’ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے‘، ’میڈیا پر پابندی نا منظور‘ اور ’کیا حقائق دکھانا جرم ہے‘ جیسے نعرے درج تھے۔

مظاہرے کی قیادت سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سیکرٹری ذوالفقار بخاری، لاہور ہائی کورٹ بار پنڈی بنچ کے صدر سردار عصمت اللہ، محمد اکرام چودھری ایڈووکیٹ، محمد اظہر ایڈووکیٹ اور جمیل عباسی نے کی۔ مظاہرین نے اس موقع پر حکومت کے خلاف نعرہ بازی بھی کی۔

مقررین نے اس موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت ایک طرف تو آزادی صحافت کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف عالم یہ ہے کہ نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات بند کردی ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس قسم کی پابندی عائد کرکے موجود تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔

مقررین نے اعلان کیا ہے کہ اگر کیبل آپریٹروں نے نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات کو بحال نہ کیا تو ان کو ماہانہ فیس کی ادائیگی روک دی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ نجی ٹیلی ویژن چینلوں کی نشریات بحال نہ ہونے پر کیبل آپریٹروں کی تاریں کاٹ دیں گے۔

کراچی سے ہمارے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق کیبل آپریٹرز ایکشن کمیٹی نامی تنظیم نے کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن کے اس فیصلے کی مذمت کی ہے کہ جو بھی ٹی وی چینل فوج، عدلیہ اور ملکی استحکام کے خلاف بات کرےگا اس چینل کی نشریات دکھائی نہیں جائیں گی اور کہا کہ مفاد پرست ٹولہ اپنے مخصوص مفادات کے لیے ایسی حرکات کر رہا ہے۔

آزادی اور بندش
 حکومت ایک طرف تو آزادی صحافت کی بات کرتی ہے تو دوسری طرف عالم یہ ہے کہ نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات بند کردی ہے ۔اس قسم کی پابندی عائد کرکے موجود تحریک کو ختم نہیں کیا جاسکتا۔
اسلام آباد میں مظاہرین
تنظیم کے جنرل سیکریٹری ذوالقرنین حسین نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کراچی کے ساٹھ فیصد علاقے میں تمام چینلوں کی نشریات دکھائی جا رہے ہیں وہ عوام تک تمام چینل پہنچانے کے فرض کی ادائیگی پر سختی سے کاربند ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ عوام کو معلومات کی آگاہی سے محروم نہیں کیا جاسکتا پیمرا کے چہیتے یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ آج تک کسی صارف نے ان سے کسی نیوز یا بحث مباحثے کے پروگرام پر کوئی شکایت نہیں کی ہے۔ اگر کسی نیوز چینل کی نشریات بند ہوجائے تو اس پر شدید اعتراٰض کرتے ہیں۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق مقامی کیبل آپریٹروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ لوگ چینل دیکھنا چاہتے ہیں لیکن حکومتی دباؤ ہے کہ انہیں بند کیا جائے۔

اپنی ایسوسی ایشن اور حکومتی دباؤ کے تحت اور بڑے نیٹ ورک والے کیبل آپریٹر ٹی وی چینلوں کی بندش میں شامل ہوتے ہیں لیکن شہر کے گنجان اور پسماندہ علاقوں کے ایسے سینکڑوں کیبل آپریٹر بھی ہیں جو ان پابندیوں پر عملدرآمد نہیں کرنا چاہتے۔

لاہور اور اس کے گردو نواح کا ایک بڑاحصہ ایسا تھا جہاں بندش کے اعلان کے باوجود جیو ٹی وی کی نشریات جاری رہیں۔ایک کیبل آپریٹر محمد شاہد نے کہا کہ انہیں بھی ہدایات ملی تھیں کہ جیو بند کیا جائے لیکن انہوں نے مناسب نہیں سمجھا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیوں مناسب نہیں سمجھا؟ تو ان کا کہنا تھا کہ ہم پر صارفین کا بہت دباؤ ہوتا ہے اور خاص طور پر آج کل لوگ نیوز چینل دیکھنا چاہتے ہیں چینل بند کرنا تو بڑی بات ہے اگر جیو کو کیبل کے آخری چینلوں میں ڈال دیا جائے تو صارفین کے احتجاجی فون آنے لگتے ہیں۔

اسلام آباد کے ایف ایٹ اور جی ایٹ سیکٹر میں کیبل ٹی وی سروس فراہم کرنے والے ادارے پیراڈائز کیبلز کے مطابق وہ پیمرا کے دباؤ پر نجی ٹی وی چینلوں کی نشریات معطل کرتے ہیں۔

پیراڈائز کیبلز کے ایک اہلکار کے مطابق انہیں اپنے صارفین کی پسند کا بہت خیال ہے لیکن وہ حکومت سے ٹکر نہیں لے سکتے۔ اہلکار کے مطابق انہوں نے تین روز پہلے اے آر وائی ون ورلڈ کی نشریات معطل کرنے میں ایک گھنٹے کی تاخیر کی تھی جس پر پیمرا نے انہیں ستر ہزار روپے جرمانے کا نوٹس ارسال کر دیا ہے۔

اسی بارے میں
کیا حکومت بوکھلا گئی ہے؟
01 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد