لاہور میں’جیو‘ کی نشریات بند | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کیبل آپریٹرز ایسویسی ایشن آف پاکستان کے عہدیداروں نے میڈیا کے نگران ادارے ’پیمرا‘ اور حکومت سے کہا ہے کہ اگر ان کی تنظیم ٹی وی چینلز کے خلاف کوئی ایکشن لیتی ہے تو وہ بیچ میں نہ آئیں۔ یہ بات ایسوسی ایشن کے چیئرمین خالد شیخ نے لاہور پریس کلب میں اس وقت کہی جب سوال جواب کے دوران ان کی پریس کانفرنس بدمزگی کا شکار ہوکر ختم ہوگئی۔انہوں نے کہا کہ ’اب ٹی وی چینلز اور کیبل آپریٹرز کے درمیان براہ راست ٹاکرا ہوگا‘۔ پریس کانفرنس کے بعد لاہور اور اس کے گردونواح میں جیو ٹی وی کی نشریات معطل کر دی گئیں۔ کیبل آپریٹروں کے نمائندوں نے الزام عائد کیا کہ چند ٹی وی چینلز نے ایک منصوبہ بندی کے تحت لاہور میں ان کی پریس کانفرنس سبوتاژ کروائی ہے۔ پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کی زیادہ تر نشریات کیبلز کے ذریعے دکھائی جاتی ہیں اور حکومت پر الزام ہے کہ وہ ان پر دباؤ ڈالنے کے لیے اکثر کیبل آپریٹرز کو ’پریشر لیور‘ کے طور پر استعمال کرتی ہے۔
کیبل آپریٹروں کی تنظیم نے ایک روز پہلے بھی کراچی میں ایک پریس کانفرنس کی تھی جس میں انہوں نے بعض ٹی وی چینلز کی نشریات کو ملکی مفاد کے منافی قرار دیتے ہوئے متنبہ کیا تھا کہ اگر ان کی یہ کردار جاری رہا تو کیبلز آپریٹر ان کی نشریات معطل کر دینگے۔ان کاموقف تھا کہ ان پروگراموں کو نشر چینلز کرتے ہیں مگر دباؤ کیبل آپریٹرز پر آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ آج کل انہیں صارفین کے زبردست رد عمل کا سامنا کرنا پڑا رہا ہے جس کی وجہ افواج پاکستان کے خلاف پروپگنڈہ، عدلیہ پر تنقید اور استحکام پاکستان کے منافی پروگرام ہیں۔ اتوار کو لاہور پریس کلب میں کیبلز آپریٹرز نے اپنے اسی موقف کو دہرایا۔ تنظیم کے چیئرمین خالد شیخ نے کہا کہ ’جب وہ بچے تھے تو فوجی جوان کو گزرتے دیکھ کر احترام سے سلام کرتے تھے اور بڑے ہوئے تو دل میں خواہش ہوتی کہ فوج میں بھرتی ہوجائیں لیکن ان کے بقول اب چھوٹے بچوں کو فوج کے بارے میں جو پیغام دیا جارہا ہے وہ اس سے فوج کے بارے میں اچھا تاثرنہیں لیں گے‘۔ اس دوران صحافیوں نے ان سے مختلف سوالات کیے ان سے پوچھا گیا کہ وہ کسں قانون کے تحت نشریات پر پابندی لگائیں گے؟ ان کے نزدیک منفی نشریات کیا ہوتی ہیں؟ کیا وہ حکومتی ایجنڈے کی وجہ سے یہ کر رہے ہیں؟ کیبل آپریٹرز کے مرکزی عہدیدار نے کہا کہ صدر مشرف نے میڈیا کو جو آزادی دی ہے اس کا ناجائز اور غلط استعمال کیا جارہا ہے، جس کی وہ اجازت نہیں دے سکتے۔ ’ٹی وی چینلز کی غیر ذمہ دارانہ رپورٹنگ سے حالات کی سنگینی میں اضافہ ہوا ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں‘۔ ایک صحافی نے اس پر احتجاج کیا اور کہا کہ وہ پریس کلب میں بیٹھ کر حکومت کی ایماء پر صحافیوں کی مذمت نہ کریں۔ ایسوسی ایشن کے صوبائی صدر کیپٹن (ر) عبدالجبار نے جواب دینے کی بجائے صحافی سے اپنا تعارف کروانے کا مطالبہ کیا اس سے قبل بھی انہوں نے چند صحافیوں کے سوالات کا جواب دینے سے پہلے ان کا اوران کے ادارے کا نام پوچھا تھا۔ اس بات پر ان کی صحافیوں سے تکرار شروع ہوگئی۔ صحافیوں نے کہا کہ ان کی توہین بند کی جائے ورنہ وہ بائیکاٹ کریں گے جبکہ کیبلز آپریٹرز کا کہنا تھا کہ چند مخصوص صحافی سوالات پوچھ رہے ہیں اور دیگر کو سوالات پوچھنے کا موقع نہیں دیا جا رہا، جس پر وہ خود بھی احتجاج کے طور پر بائیکاٹ کرتے ہیں۔ ایک اخبار نویس کا کہنا تھا کہ ماضی میں ایسا بھی ہوا کہ کیبل آپریٹرز سے سخت سوال پوچھنے والے صحافی کے چینل کی نشریات فون پر پریس کانفرنس کے دوران ہی بند کرا دی گئیں۔ ان کا خیال تھا کہ صحافیوں کو دباؤ میں لانے کے لیے بار بار ان کے نام اور چینلز کے بارے میں پوچھا جارہا تھا۔ کیبل آپریٹرز نے ٹی وی چینلز کے خلاف لائحہ عمل طے کرنے کے لیے پیر کو اسلام آباد میں اجلاس طلب کر لیا ہے۔ |
اسی بارے میں پا کستان:ٹی وی چینلز پر نیا سنسر02 June, 2007 | پاکستان نشریات جزوی طور پر ’معطل‘01 June, 2007 | پاکستان نجی ٹی وی چینلز پر پابندی کی رِٹ12 March, 2007 | پاکستان ’خیبرٹی وی کیمرہ مین کا اغوا‘03 March, 2007 | پاکستان پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان بلوچی ٹی وی چینل کی تیاریاں 04 April, 2006 | پاکستان سرائیکی زبان کا ٹی وی چینل ’روہی‘18 October, 2006 | پاکستان سندھ میں کیبل آپریٹروں کی ہڑتال 20 January, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||