BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 March, 2007, 19:10 GMT 00:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نجی ٹی وی چینلز پر پابندی کی رِٹ

لاہور ہائی کورٹ
رِٹ درخواست پرجیو ٹی وی اور اے آر وائی ون ورلڈ کو ابھی نوٹس جاری نہیں کیے گئے ہیں
لاہور ہائی کورٹ نے سوموار کو ایک مقامی وکیل کی ایک رِٹ درخواست سماعت کے لیے منظور کر لی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عدلیہ اور فوج کو بدنام کرنے کے الزامات کے تحت دو نجی ٹی وی چینلوں جیو اور اے آر وائی ون ورلڈ کے خلاف کارروائی کی جائے۔

رِٹ درخواست میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ ٹی وی چینلز معطل کیے گئے ملک کے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف صدر کے ریفرنس پر ملکی قوانین کے خلاف خبریں، تبصرے اور انٹرویو نشر کررہے ہیں جس کے سبب ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور ان کے لائسنس منسوخ کردیے جائیں۔

لاہور ہائی کورٹ کے جج حامد علی شاہ نے وکیل محمد ارشد کی جانب سے دائر کی گئی رِٹ درخواست سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ وہ اس کی باقاعدہ سماعت کے لیے ایک بڑا دو رکنی بینچ تشکیل دیں۔

جج نے اس رِٹ درخواست پر فریق بنائے گئے وفاقِ پاکستان اور پاکستان الیکٹرانک ریگولیٹری اتھارٹی (پمرا) کو نوٹس بھی جاری کردیے ہیں جبکہ دو مدعا علیہان جیو ٹی وی اور اے آر وائی ون ورلڈ کو ابھی نوٹس جاری نہیں کیے گئے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے کہا ہے کہ انہیں یہ دیکھ کر صدمہ ہوا ہے کہ ان دنوں مختلف ٹی وی چینلوں پر حالات حاضرہ اور خصوصاً چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے خلاف پیش کیے گئے صدارتی ریفرنس پر تحقیر آمیز اطلاعات نشر ہو رہے ہیں۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ تمام ٹی وی چینلز مختلف حیلوں سے ملک کے دو اعلیٰ ترین اداروں یعنی عدلیہ اور فوج کو بدنام کرنے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔

درخواست گزار نے عدالت عالیہ سے کہا ہے کہ اس نے پمرا کو ٹیلی فون کے ذریعے ان چینلوں کے خلاف کاروائی کرنے کی درخواست دی تھی لیکن اس کا کوئی حاصل نہیں نکلا اس لیے اب وہ عدالت عالیہ سے رجوع کر رہا ہے۔

درخواست میں کہا گیا ہے کہ پمرا آرڈیننس سنہ دو ہزار دو کی شق تینتیس کے تحت جیو اور اے آر وائی اور ایسے دوسرے ٹی وی چینلوں کے خلاف تادیبی کاروائی کی جائے اور شق تیس کے تحت ان کے لائسنس منسوخ کیے جائیں۔

ایڈووکیٹ عباد لودھی’شیم شیم‘
اسلام آباد میں وکیلوں کی ہڑتال، وکیل کی زبانی
انصاف کا ترازوتاریخ کیا کہتی ہے؟
پاکستانی حکومتیں، جج اور عدلیہ
 جسٹس افتخارفیصلے کے محرکات
آخر جنرل مشرف نے ایسا کیوں کیا؟
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد