میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومت پاکستان نے پیر کو ایک صدارتی آرڈننس کے ذریعے نجی نشریاتی اداروں کے بارے میں قوانین میں ترمیم کرتے ہوئے نجی نشریاتی اداروں کی عمارات، نشریاتی آلات اور ’ڈسٹربیوشن سسٹم‘ کوقبضے میں لینے کے اختیارات حاصل کر لیے ہیں۔ یہ صدراتی آرڈیننس جو فوری طور پر نافذ العمل ہوگا گیارہ شقوں پر مشتمل ہے اور نشرواشاعت کے تمام ذرائع جن میں ٹی وی، ریڈیو، انٹرنیٹ اور موبائل فون شامل ہیں سب کا احاطہ کرتا ہے۔ نئی ترامیم میں ایک اہم شق موبائل اور انٹرنیٹ سے متعلق ہے جس کے تحت پرانے آرڈیننس میں جہاں صرف ڈی ٹی ایچ یا براہ راست گھر تک ٹی وی کی سروس کے الفاظ کے ساتھ تھے اب وہاں آئی پی ٹی وی یا انٹرنیٹ پر ٹی وی اور موبائل ٹی وی کی سروسز بھی شامج کئے گئے ہیں۔ اس وقت ملک میں ڈی ٹی ایچ کا ایک لائسنس اے ٹی وی کو حاصل ہے جبکہ موبائل ٹی وی کا لائسنس صرف ٹیلی نار موبائل کمپنی کو دیا گیا ہے۔ آئی پی ٹی وی یا انٹرنیٹ پر ٹی وی کی سہولت صرف چند چینلز مہیا کرتے ہیں اور’ آج‘ ٹی وی نے حال ہی میں انٹرنیٹ پر جمپ ٹی وی کے پلیٹ فارم سے باہر رہنے والوں کے لیے یہ سہولت فراہم کرنے کا آغاز کیا ہے۔
اس آرڈیننس میں متعلقہ ادارے کو یہ اختیار بھی تقویض کیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے نشریاتی ادارے کا لائسینس منسوخ کر سکتا ہے جس کی نشریات پیمرا کے قوانین کی شقوں کی خلاف ورزی تصور کی جائے گی۔ پیمرا کے موجودہ قانون کے مطابق حکام کے لیے ضروری تھا کہ وہ کسی نشریاتی ادارے کا لائسنس منسوخ کرنے سے پہلے علاقائی دفاتر میں نشریاتی اداروں کے خلاف شکایات سننے کے لیے قائم کونسل سے مشاورت کریں۔ شکایات کونسل سے مشاورت کی شق قومی اسمبلی میں قانون سازی کے مرحلے پر شامل کی گئی تھی لیکن نئے آرڈیننس اس شرط کو ختم کر دیا گیا ہے اور مجاز اتھارٹی بغیر کسی مشاورت کے کسی نشریاتی ادارے کا لائسنس منسوخ کر سکے گی۔ ترمیمی آرڈیننس کی ایک اور شق کے تحت پیمرا حکام کو یہ اختیار دے دیا گیا ہے کہ وہ کسی نشریاتی ادارے پر ایک کروڑ روپے تک جرمانہ عائد کر سکے گا۔ اس سے پہلے جرمانہ عائد کرنے کی زیادہ سے زیادہ حد دس لاکھ روپے تھی۔ پاکستان میں میڈیا قوانین پر نظر رکھنے والے صحافی مطیع اللہ جان کا کہنا ہے کہ نئے ترمیمی آرڈیننس میں کسی نشریاتی ادارے کا لائسنس منسوخ کرنے سے متعلق پیمرا کو حاصل ہونے والے جن اختیارات کا ذکر کیا گیا ہے وہ اسے پہلے ہی حاصل تھے لیکن ان کو استعمال کرنے کے لیے علاقائی شکایات کونسل سے مشاورت ضروری تھی اور یہ شرط پارلیمنٹ نے ایک ’سیفٹی والو‘ کے طور پر متعارف کرائی تھی، لیکن نئی ترمیم کے ذریعے اس سے چھٹکارا حاصل کیا گیا ہے۔ دریں اثناء پاکستان کی سیاسی جماعتوں نے بھی نئے پیمرا ترمیمی آرڈیننس کی مذمت کی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے اسے میڈیا کی آزادی پر ایک اور حملہ قرار دیا ہے اور سول سوسائٹی، میڈیا سے متعلق تنظیموں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے کہا ہے کہ وہ اسے مسترد کر دیں۔
پی پی پی کے مرکزی رہنما اور سابق سینیٹر بابر اعوان کے مطابق نئے ترمیمی آرڈیننس میں ایک نئی جابرانہ شق انتالیس اے شامل کی گئی ہے جس کے تحت حکومت صرف نئے ریگولیشز جاری کر کے نشریاتی اداروں پر نئی پابندیاں لگا سکے گی اور اس مقصد کے لیے اسے پارلیمنٹ یا ان پابندیوں سے متاثر ہونے والے دیگر فریقوں سے مشاورت کی کوئی ضرورت نہیں ہو گی۔ صحافیوں کی عالمی تنظیم رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے پاکستانی صحافیوں کی طرف سے پریس کی آزادی پر نئی حکومتی پابندیوں کے خلاف احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز نے امید ظاہر کی ہے کہ عوامی اور بین الاقوامی برادری کی حمایت سے پاکستانی صحافیوں کا احتجاج کامیاب ہو گا اور حکومت اس جابرانہ قانون کو واپس لینے پر مجبور ہو جائے گا۔ واضح رہے کہ یہ آرڈیننس ایسے وقت میں جاری کیا گیا ہے جب نشریاتی اداروں پر پابندیوں کے خلاف صحافتی تنظیمیں پہلے ہی احتجاج کر رہی ہیں۔ اس سال نو مارچ کے بعد پیدا ہونے والے عدالتی بحران کے بعد سے حکومتی حلقوں کی طرف سے نجی نشریاتی اداروں کی چیف جسٹس کی مصروفیات کی براہ راست کوریج پر نکتہ چینی کی جاتی رہی ہے اور نجی چینلوں کی نشریات وقتاً فوقتاً بند کی جاتی رہی ہیں۔ | اسی بارے میں کیا حکومت بوکھلا گئی ہے؟01 June, 2007 | پاکستان پاکستان: چینلوں کی بندش، احتجاج04 June, 2007 | پاکستان لاہور میں’جیو‘ کی نشریات بند03 June, 2007 | پاکستان پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان اخبار مالکان کو ٹی وی چینلز کی اجازت22 August, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||