BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 June, 2007, 12:03 GMT 17:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیمرا آرڈیننس: ملکی اخبارات کا ردِعمل

بعض نجی ٹی وی چینلز کی جانب سے نشریات پر پابندی کے خلاف احتجاج جاری ہے
پاکستان میں انگریزی اور اردو میں شائع ہونے والے قومی اخبارات نے صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے جاری کردہ پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی
(پمیرا) کے ترمیمی آرڈیننس کے تحت نجی ٹی وی چینلز کی بندش کو نمایاں اہمیت دی ہے۔

روزنانہ جنگ اور ایکسپریس نے صدارتی آرڈیننس کے اجراء کو شہ سرخی بنایا ہے جبکہ روزنامہ خبریں نے سُپر لیڈ کے طور پر شائع کیا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت نے پیمرا آرڈیننس سے متعلق خبر کو صفحہ اول پر تین کالمی خبر کے طور پر شائع کیا ہے۔اس کے علاوہ نوائے وقت نے’پاک فوج کی آڑ میں میڈیا پر پابندی‘ کے عنوان سے اداریہ بھی لکھا اور اس میں کہا گیا کہ پاک فوج کے احترام کی آڑ میں آزادی صحافت پر پابندیوں کی سوچ سے نجات حاصل کرے اور قوم انہیں قبول نہیں کرے گی۔

روزنامہ جنگ نے نجی چینلز کی نشریات کی معطلی پر ہونے والے احتجاج کو سپر لیڈ کے طور پر شائع کیا ہے اور چینلز کی پابندی کے خلاف احتجاج کی تصویروں کو نمایاں کرکے شائع کیا گیا ہے۔

اخبارات نے صحافیوں کے احتجاج کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے

روزنامہ ایکسپریس نے بھی پیمرا ترمیمی آرڈیننس کی بڑی سرخی لگائی ہے اور چینلز کی بندش پر مظاہروں، مشعل بردار مظاہروں کی تصویروں کو نمایاں
کرکے شائع کیا۔ روزنامہ خبریں نے آرڈیننس کے اجراء کو سپر لیڈ لگایا اور احتجاج کے حوالے سے فرنٹ پیج پر سپرلیڈ کے ساتھ سنگل تصویر بھی شائع کی۔

انگریزی اخبارات میں ڈان، ڈیلی ٹائمز، دی نیشن اور ڈیلی نیوز نے صدارتی آرڈیننس اور چینلز کی بندش پر ہونے والے مظاہروں کی بھرپور کوریج کی ہے۔ دی نیشن اور ڈیلی ٹائمز نے صدارتی آرڈیننس پر ادارے بھی لکھے ہیں۔

ڈان نے صدارتی آرڈیننس اور صحافیوں کے احتجاج کو بڑی نمایاں کوریج دی ہے اور ان خبروں کو لیڈ لگایا ہے جبکہ مشعل بردار مظاہرے کی تصویر لیڈ کے ساتھ چار کالم میں شائع کیا ہے۔

دی نیشن نے صدارتی آرڈیننس کے اجرا کی خبر کو صفحہ اول پر نیچے کی طرف تین کالم میں شائع کیا ہے جبکہ مشعل بردار جلوس کو لیڈ کے درمیان نمایاں طور پر تین کالمی شائع کیا ہے۔

انگریزی اخبارات نے صدارتی آرڈیننس اور چینلز کی بندش پر ہونے والے مظاہروں کی بھرپور کوریج کی ہے

دی نیشن نے نجی چینلز کی نشریات پر پابندی کے خلاف احتجاج کی تصویروں کو اخبار کے اندرونی صفحات پر شائع کیا۔ اخبار نے نجی چینلز کی نشریات کی بندش پر ادارے میں پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے اجراء پر تبصرہ کیا۔اخبار لکھتا ہے:’اس آرڈیننس نے جنرل ایوب خان کے دور کے بدنام پریس اینڈ ا پبلیکیشن ایکٹ کی یاد تازہ کردی‘۔

ڈیلی ٹائمز نے صدارتی آرڈیننس اور چینلز کی نشریات کی معطلی کی بابت احتجاج کو بھرپور جگہ دی ہے اور خبر کو چار کالمی لیڈ لگایا اور اس کے ساتھ چار کالم کی احتجاج کی تصویر شائع کی ہے۔

ڈیلی ٹائمز نے پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے بارے میں اداریہ بھی لکھا ہے جس کا عنوان ہے ’میڈیا پر پابندی سے مشرف کومشکلات ہوں گی‘۔

دی نیوز نے ترمیمی آرڈیننس کو احتجاج کو بھرپور کوریج دی ہے اور چینل کی نشریات کی معطلی پر اداریہ بھی لکھا ہے تاہم اس اداریہ میں ترمیمی آرڈیننس کے بارے میں کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے۔

جو میں نے دیکھا
تصویروں کو آزاد نہ کیا تو پیچھا کریں گی
آج ٹی وی پیمرا کے ضابطے یا
’آج‘ ٹیلی ویژن کو بند کرنے کی دھمکی
پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
اسی بارے میں
پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور
15 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد