BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 June, 2007, 20:31 GMT 01:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چینلز پر پابندی، مشعل بردار جلوس

اسلام آباد میں پابندی کے خلاف احتجاج
’صحافی آزادی اظہار پر پابندی کے کسی حکم نامے کو تسلیم نہیں کرتے‘
سوموار کی شب صحافیوں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے نجی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات معطل کرنے کے خلاف بطورِ احتجاج مشعل بردار جلوس نکالا۔

سینکڑوں کی تعداد میں مظاہرین نے نجی ٹیلی ویژن’جیو‘ کے دفتر سے وزیرِاعظم سیکریٹریٹ تک مارچ کیا۔

مشعل بردار جلوس کا اہتمام راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس کیا تھا جس میں فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کےعہدیداروں کے علاوو صحافیوں ، وکلا رہنماؤں ، سیاستدانوں، خواتین اور سول سوسائٹی کے ارکان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جلوس میں شامل مظاہرین نے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی اور ’زندہ ہیں صحافی زندہ ہیں‘ ،’میڈیا مانگے آزادی‘ ، ’لے کر رہیں گے آزادی‘ اور’لاٹھی گولی کی سرکار نہیں چلے نہیں چلے گی‘ جیسے نعرے لگائے۔

پارلیمنٹ کے سامنے جلوس کے شرکاء سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری مظہر عباس، شمیم الرحمن ، ضرار خان اور شکیل ترابی نے خطاب کیا اور کہا کہ آزادی صحافت کی تحریک کو کسی آرڈیننس کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

مظاہرین نے حکومت کے خلاف زبردست نعرہ بازی کی

مقررین کا کہنا تھا کہ صحافی آزادی اظہار پر پابندی کے کسی حکم نامے
یا آرڈیننس کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ وہ اس قسم کی پابندیوں اور حکم ناموں سے خوف زدہ ہونے والے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بڑی جدوجہد کے بعد آزادی صحافت حاصل کی گئی ہے اور وہ آزادی کا تحفظ کرنا اور اس کے لیے لڑنا جانتے ہیں۔

مشعل بردار جلوس پارلیمنٹ سے وزیرِاعظم سیکرٹریٹ کی طرف روانہ ہوا تو سپریم کورٹ کی عمارت کے سامنے خاردار تاریں لگا کر جلوس روکنے کی کوشش کی گئی لیکن مظاہرین نعرہ بازی کرتے ہوئے یہ رکاوٹیں عبور کرگئے۔ اس موقع پر پولیس کی بھاری جمیعت جلوس کے ساتھ تھی۔مظاہرین دو گھنٹے تک احتجاج کرنے کے بعد پرامن طور پر منتشر ہوگئے۔

اس موقع پر موجود سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر جسٹس (ر) طارق محمود نے بی بی سی کو بتایا کہ صدر کی طرف سے نشریاتی اداروں کے بارے میں جاری کردہ نئے آرڈیننس کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہراس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے جو دستور میں دیے گئے حقوق کو سلب کرے اور ان حقوق سے متصادم ہو‘۔

ادھر پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس نے اپنے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ آزادی صحافت پر پابندیوں اور تشدد کے خلاف سات جون کو صحافی ملک گیر یوم سیاہ منائیں گے اور اس موقع پر ملک بھر کے پریس کلبز پر سیاہ پرچم لہرائے جائیں گے اور صحافی سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔

اسی بارے میں
کیا حکومت بوکھلا گئی ہے؟
01 June, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد