احمدرضا بی بی سی اردو ڈاٹ کام، کراچی |  |
 | | | جن چینلوں کی نشریات روکی جا رہی ہیں ان میں آج ٹی وی بھی شامل ہے |
پاکستان کے مختلف حصوں میں نجی ٹی وی چینلز جیو، اے آر وائی اور آج کی نشریات بند ہونے کے بعد انٹرنیٹ پر ان ٹی وی چینلز کی ویب سائیٹس دیکھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جبکہ مبینہ طور پر جیو ٹی وی کی نشریات کی بندش کا سبب بننے والے ایک پروگرام کی ویڈیو کی دستیابی کی بناء پر ویڈیو شیئرنگ ویب سائیٹ یو ٹیوب پر اندرون ملک بھی پاکستانیوں کی آمد بڑھی ہے۔ نجی ٹی وی چینلز جیو، آج اور اے آر وائی کی نشریات کراچی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں اتوار کی شب سے یا تو بند ہیں یا حالات حاضرہ کے کسی خاص پروگرام کے دوران متاثر ہو رہی ہیں جس کی بناء پر ان ٹی وی چینلز کے ناظرین کی بڑی تعداد اپنے پسندیدہ پروگرام اور خبریں نہیں دیکھ پا رہے تاہم انٹرنیٹ کی سروس مہیا کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ اس بندش کے بعد کراچی میں انٹرنیٹ پر موجود ان ٹی وی چینلز کی ویب سائیٹ دیکھنے والوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ ایک آئی ایس پی یعنی انٹرنیٹ سروس پرووائیڈر سائبرنیٹ کے مطابق کراچی میں پیر اور منگل کو جیو ٹی وی کی ویب سائیٹ پر آنے والوں کی تعداد میں 7 گنا اور آج ٹی وی کی ویب سائٹ دیکھنے والوں کی تعداد میں بھی کئی گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ مبینہ طور پر جیو ٹی وی کی نشریات بند ہونے کا سبب بننے والے پروگرام میرے مطابق میں نشر ہونے والے حکمران مسلم لیگ (ق) کے نائب صدر کبیر علی واسطی کے انٹرویو کی ویڈیو اب یو ٹیوب پر دستیاب ہے۔
 | | | پابندیوں کی زد میں آنے والے نجی چینلوں میں اے آر وائی بھی شامل ہے |
اس انٹرویو میں واسطی نے ملک میں موجودہ آئینی بحران کا ذمہ دار صدر جنرل پرویز مشرف کو قرار دیا تھا۔ سائبر نیٹ کے مطابق صرف کراچی میں پیر اور منگل کو یوٹیوب کی ویب سائیٹ پر جانے والوں کی تعداد 12 ہزار 91 ریکارڈ کی گئی جو کہ تقریباً 3 گنا زیادہ ہے۔ اس سوال کے جواب میں کیا ’اگر حکومت پاکستان ماضی کی طرح ایسی ویب سائیٹس کو بھی بلاک کرنا چاہے جن پر اسکی نظر میں متنازعہ پروگرام دستیاب ہیں تو کیا یہ ممکن ہے؟‘ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہر ڈاکٹر التمش کمال کا اس بارے میں کہنا ہے کہ حکومت ایسا کرسکتی ہے لیکن اسکے باوجود ایسی ویب سائیٹس کو دیکھنا ممکن ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ’ویب سائیٹ بلاک کرنا اب غیرمؤثر ہے کیونکہ ہوتا یہ ہے کہ جس طرح بھارت نے کارگل کے زمانے میں روزنامہ ڈان کی ویب سائیٹ کو بلاک کردیا تھا تو خود بھارت کے لوگوں نے ای میل کے ذریعے لوگوں کو بتایا کہ وہ کس طرح ڈان کی ویب سائیٹ پر جاسکتے ہیں‘۔
 | اطلاعات کو روکنا مشکل ہو گا پیمرا کے نئے ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے ذریعے حکومت نے الیکٹرانک میڈیا کے لئے مشکلات تو پیدا کردی ہیں لیکن عام رائے یہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں اطلاعات تک رسائی کے عمل کو روکنا اسکے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ |
انہوں نے کہا کہ ’اگر اس قسم کی چیز پاکستان میں ہوگی تو یہاں بھی یہی ہوگا اور لوگ ایک دوسرے کو خود اس کا حل بتا رہے ہوں گے‘۔نجی ٹی وی چینلز پر چیف جسٹس کے دوروں اور وکلاء سے خطاب کی لائیو کوریج رکوانے کے بعد پیمرا کے نئے ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے ذریعے حکومت نے الیکٹرانک میڈیا کے لئے مشکلات تو پیدا کردی ہیں لیکن عام رائے یہ ہے کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اس دور میں اطلاعات تک رسائی کے عمل کو روکنا اسکے لئے ممکن نہیں ہوگا۔ |