’تبدیلی انصاف کےتقاضوں کےتحت‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نجی ٹی وی چینلز کے مالکان نے سرکاری اہلکاروں سے ایک ملاقات میں چینلز سے متعلق قوانین اور قواعد و ضوابط میں ترمیم کا مطالبہ کیا ہے۔ تاہم فریقین کی جانب سے جاری تنازعے میں تاہم کسی معاہدے پر پہنچنے کا اعلان سامنے نہیں آیا ہے۔ حکومت اور نجی ٹی وی چینلز کے مالکان کے درمیان یہ ملاقات گزشتہ روز پیمرا قوانین میں ترامیم سے پیدا شدہ خدشات اور صحافیوں کے جاری احتجاج کے تناظر میں اسلام آباد میں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی کے صدر دفتر میں ہوئی۔ پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے تیرہ رکنی وفد نے جس کے سربراہی میر شکیل الرحمان کر رہے تھے اس بات چیت میں حصہ لیا۔ حکومت کی نمائندگی وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی دورانی، پیمرا کے چیئرمین افتخار رشید اور سیکرٹری اطلاعات کے علاوہ کئی دیگر اہلکاروں نے کی۔
اجلاس میں اس بات پر تو فریقین متفق دکھائی دیے کہ فوج اور عدلیہ جیسے ریاست اداروں کے وقار کو نقصان ہرگز نہیں پہنچانے دیا جائے گا تاہم پیمرا قوانین اور قواعد و ضوابط میں ترامیم کے معاملے پر اختلاف واضع رہا۔ نجی ٹی وی چینلز کے مالکان نے حکومت سے ان قوانین کو انصاف کے بنیادی تقاضوں کے مطابق تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان کا موقف تھا کہ کسی بھی چینل کی نشریات بغیر پیشگی نوٹس کے بند نہ کی جائیں اور نہ ان کے لائسنس معطل کیے جا سکیں۔ مالکان کا موقف تھا کہ انہیں کسی بھی اقدام سے قبل صفائی کا موقع ضرور فراہم کیا جائے۔ میڈیا ماہرین کا ماننا ہے کہ حکومت جو ترامیم لائی ہے وہ کسی بھی طرح ملک میں ذرائع ابلاغ کی آزادی کے لیے مفید نہیں۔ ادھر وفاقی وزیر اطلاعات محمد علی درانی نے مذاکرات کو تفصیلی اور مثبت قرار دیا ہے۔ صحافیوں سے بات چیت میں انہوں نے حکومتی موقف دہرایا کہ میڈیا پر کوئی نئی پابندیاں عائد نہیں کی جا رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پیمرا کے قانون میں ترمیم کا جو آرڈیننس جاری کیا گیا ہے اس کا مقصد کسی پر دباؤ ڈالنا نہیں ہے بلکہ اس آرڈیننس کا اجراء بعض علاقوں میں شدت پسندی کی وجہ بننے والے ایسے ادارے ہیں جن کی وجہ سے منفی ماحول پیدا ہورہا ہے اور ان میں بعض ایف ایم ریڈیو بھی شامل ہیں تاہم پیمرا آرڈیننس لانے کی ایسی وجوہات ہیں جو فی الحال نہیں بتائی جا سکتیں ۔
انہوں نے کہا کہ عمومی طور پر یہ تاثر پیدا کیا جا رہا تھا کہ حکومت اور میڈیا کے درمیان کشیدگی ہے حالانکہ ایسی کوئی بات نہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی عوام کو بااختیار کرنے کا ذریعہ ہے اور صحافتی آزادی کو برقرار رکھنا اور اسے صحیح سمت میں لے کر جانا حکومت کی ترجیحات میں شام ہے۔ وفاقی وزیر قانون کا یہ بھی کہنا تھا کہ پیمرا کا قانون اس وقت ایک آرڈیننس ہے اور پارلیمنٹ سے منظوری کے بعد یہ ایکٹ بنےگا۔ انہوں نے کہا کہ جس وقت پیمرا آرڈیننس کو قانون سازی کے لیے اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اس وقت تمام متعلقہ فریقین سے بات چیت کی جائے گی ۔ وزیر اطلاعات سے جب یہ پوچھا گیا کہ براہِ راست نشریات دکھانے کے لیے کیا شرائط ہیں اور کیا اس بابت کوئی ترمیم کی گئی ہے تو وہ سوال کو ٹال گئے اور اس کے بارے میں کوئی جواب نہیں دیا۔ انہوں نے وکلاء کی طرف سے سیکرٹری اطلاعات اور چیئرمین پیمرا کے بارے بیانات پر نکتہ چینی کی اور کہا کہ منفی بیانات دینا کمزوری کی علامت ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ کیبل آپریٹرز کے خلاف دعوی دائر کرنے کا اعلان کرنے والے خود اپنا سیاسی دعویٰ ہار چکے ہیں۔ | اسی بارے میں پیمرا ترامیم عدالتوں میں چیلنج 05 June, 2007 | پاکستان پیمرا آرڈیننس پر احتجاج جاری05 June, 2007 | پاکستان پیمرا آرڈیننس: ملکی اخبارات کا ردِعمل05 June, 2007 | پاکستان جیو، اے آر وائی اور آج، یو ٹیوب پر05 June, 2007 | پاکستان پاکستان: چینلوں کی بندش، احتجاج04 June, 2007 | پاکستان میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین04 June, 2007 | پاکستان چینلز پر پابندی، مشعل بردار جلوس04 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||