’نشریاتی ضابطۂ اخلاق بنائیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جنرل پرویز مشرف نے سنیچر کو نجی ٹی وی مالکان سے ایک ملاقات میں پیمرا قوانین میں ترامیم کا آرڈیننس مشروط طور پر واپس لینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ تاہم صدر نے نجی چینلز کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کو تین روز کا وقت دیا ہے، جس میں اگر اس نے اپنے لیے ضابطہ اخلاق تیار کر لیا تو یہ ترامیم واپس لے لی جائیں گی۔ راولپنڈی میں ہونے والی اس ملاقات میں کئی نجی ٹی وی چینلز کے مالکان نے شرکت کی۔ حکومت کی جانب سے صدر کے علاوہ وفاقی وزیرِ اطلاعات محمد علی درانی اور ان کے محکمہ کے سیکرٹری اطلاعات بھی موجود تھے۔ ملاقات میں نجی ٹی وی مالکان نے اپنا موقف صدر کے سامنے رکھا کہ کس طرح حکومت کی جانب سے نئی ترامیم ان کے لیے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔
صدر نے مالکان کو یقین دلایا کہ ان کی حکومت میڈیا کی آزادی پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نجی چینلز کو لائسنس انہیں کے دور میں دیئے گئے اور وہ انہیں کیوں بند کرنا چاہیں گے۔ انہوں نے چینلز سے اپنا ضابطہ اخلاق خود ترتیب دینے کے لیے کہا۔ حکومت اور صحافیوں کی درمیان پیمرا قوانین میں ترامیم کے نئے آرڈیننسں کے اجراء پر شدید اختلافات سامنے آئے تھے۔ صحافیوں کا کہنا تھا کہ حکومت ان نئے قوانین کے ذریعے ذرائع ابلاغ کی آزادی پر پابندیاں لگانے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ حکومت اس الزام کی تردید کرتی ہے۔ پیمرا ترمیمی آرڈیننس سامنے آنے کے بعد صحافیوں نے ملک گیر احتجاج بھی شروع کر رکھا ہے۔ |
اسی بارے میں پیمرا آرڈیننس: حکومت جواب دے08 June, 2007 | پاکستان پیمرا آرڈیننس کےخلاف یومِ سیاہ06 June, 2007 | پاکستان ’تبدیلی انصاف کےتقاضوں کےتحت‘05 June, 2007 | پاکستان ’مشرف حکومت کا آخری نقاب اترگیا‘05 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||