’مشرف حکومت کا آخری نقاب اترگیا‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا ہے کہ پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے اجراء نے جنرل پرویز مشرف کے چہرے کا آخری نقاب بھی اتار دیا ہے اور وہ بھی اپنے پیشرو فوجی آمروں کی طرف پریس پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔ چیف جسٹس کے وکلاء نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک کے بھر کے وکلاء ٹی وی چینلوں کے خلاف حکومتی کارروائی کرنے والے سرکاری ملازمین اور کیبل آپریٹروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کریں گے۔ چیف جسٹس کے وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ غاصب حکومت ہے اور قومی مفاد کے نام پر اپنے اقتدار کو دوام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ حامد خان نے کہا پیمرا آرڈیننس نے جنرل پرویز مشرف کے چہرے کا آخری نقاب بھی اتار دیا ہے۔’ وہ بہت فخر کیا کرتے تھے کہ میں نے میڈیا کو آزادی دی ہے، یہ بھی اسی طرح کا ڈکٹیٹر ہے جس طرح ضیا الحق یا ایوب خان تھا جنہوں نے میڈیا پر پابندیاں لگائی تھیں‘۔ بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء سارے ملک میں وفاقی حکومت کے ایسے ملازمین اور کیبل آپریٹروں کے خلاف مقدمات دائر کریں گے جو نجی ٹی وی چینلوں کے لیے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ اعتزاز احسن نے کہا کہ کیبل آپریٹر فحاشی کے پروگرام تو چلاتے ہیں لیکن شائستہ ٹی وی چینلوں کے پروگرام نہیں دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء پورے ملک میں کیبل آپریٹروں اور ان سرکاری ملازمین کے خلاف ہرجانے کے دعوے کریں گے اور ان دعوؤں میں واضح طور پر لکھا ہوگا کہ ہرجانے کی رقم ان ملازمین کی ذاتی جائیدادوں کو بیچ کر ادا کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سرکاری ملازمین ایک دو سال بعد اپنے جائیدادیں بچانے کے بھاگتے پھر رہے ہوں گے اور اس وقت حکومت ان کو بچانے کے لیے موجود نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری ملازم عدالتی کاررائیوں سے بچنا چاہتے ہیں تووہ حکومتی آلہ کار نہ بنیں۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء پینل کے ایک اور ممبر طارق محمود نے کہا کہ نو مارچ سے پہلے انڈیا کے کچھ چینلوں پر پابندی تھی لیکن نو مارچ کو یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے جس سے پاکستان کے چینلوں کو ملنے والی اشتہاری آمدنی آدھی ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا پیمرا آرڈیننس میں اتھارٹی کے چیئرمین کو ایسے اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ جو چاہیں فیصلہ کریں اور’جب دیا بجھنے لگتا ہے تو وہ ٹمٹاتا ہے‘۔ طارق محمود نے کہا کہ کیبل آپریٹرز کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کون سا چینل دیکھیں۔ انہوں نے کہا:’حکومت جب پرائیوٹ چینلوں کو کنٹرول نہیں کر سکی تو اس نے کیبل آپریٹروں کا سہارا لیا لیکن یہ سہارا بھی زیادہ دیر نہیں رہے گا‘۔ |
اسی بارے میں پیمرا ترامیم عدالتوں میں چیلنج 05 June, 2007 | پاکستان پیمرا ترمیمی آرڈیننس، احتجاج جاری05 June, 2007 | پاکستان جیو، اے آر وائی اور آج، یو ٹیوب پر05 June, 2007 | پاکستان میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین04 June, 2007 | پاکستان پاکستان: چینلوں کی بندش، احتجاج04 June, 2007 | پاکستان چینلز پر پابندی، مشعل بردار جلوس04 June, 2007 | پاکستان ’پیمرا آرڈیننس بڑا دھچکا ہے‘ 19 May, 2005 | پاکستان پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||