BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 05 June, 2007, 20:00 GMT 01:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف حکومت کا آخری نقاب اترگیا‘

اعتزاز
’سرکاری ملازم حکومتی آلہ کار نہ بنیں‘
چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء نے کہا ہے کہ پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے اجراء نے جنرل پرویز مشرف کے چہرے کا آخری نقاب بھی اتار دیا ہے اور وہ بھی اپنے پیشرو فوجی آمروں کی طرف پریس پر پابندیاں لگا رہے ہیں۔

چیف جسٹس کے وکلاء نے اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ ملک کے بھر کے وکلاء ٹی وی چینلوں کے خلاف حکومتی کارروائی کرنے والے سرکاری ملازمین اور کیبل آپریٹروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی شروع کریں گے۔

چیف جسٹس کے وکیل حامد خان نے کہا کہ یہ غاصب حکومت ہے اور قومی مفاد کے نام پر اپنے اقتدار کو دوام دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ حامد خان نے کہا پیمرا آرڈیننس نے جنرل پرویز مشرف کے چہرے کا آخری نقاب بھی اتار دیا ہے۔’ وہ بہت فخر کیا کرتے تھے کہ میں نے میڈیا کو آزادی دی ہے، یہ بھی اسی طرح کا ڈکٹیٹر ہے جس طرح ضیا الحق یا ایوب خان تھا جنہوں نے میڈیا پر پابندیاں لگائی تھیں‘۔

بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا کہ وکلاء سارے ملک میں وفاقی حکومت کے ایسے ملازمین اور کیبل آپریٹروں کے خلاف مقدمات دائر کریں گے جو نجی ٹی وی چینلوں کے لیے خلاف کارروائیوں میں ملوث ہیں۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ کیبل آپریٹر فحاشی کے پروگرام تو چلاتے ہیں لیکن شائستہ ٹی وی چینلوں کے پروگرام نہیں دکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وکلاء پورے ملک میں کیبل آپریٹروں اور ان سرکاری ملازمین کے خلاف ہرجانے کے دعوے کریں گے اور ان دعوؤں میں واضح طور پر لکھا ہوگا کہ ہرجانے کی رقم ان ملازمین کی ذاتی جائیدادوں کو بیچ کر ادا کی جائے گی۔

 پیمرا آرڈیننس نے جنرل پرویز مشرف کے چہرے کا آخری نقاب بھی اتار دیا ہے۔ وہ بہت فخر کیا کرتے تھے کہ میں نے میڈیا کو آزادی دی ہے، یہ بھی اسی طرح کا ڈکٹیٹر ہے جس طرح ضیا الحق یا ایوب خان تھا جنہوں نے میڈیا پر پابندیاں لگائی تھیں
حامد خان

انہوں نے کہا کہ یہ سرکاری ملازمین ایک دو سال بعد اپنے جائیدادیں بچانے کے بھاگتے پھر رہے ہوں گے اور اس وقت حکومت ان کو بچانے کے لیے موجود نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکاری ملازم عدالتی کاررائیوں سے بچنا چاہتے ہیں تووہ حکومتی آلہ کار نہ بنیں۔

چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے وکلاء پینل کے ایک اور ممبر طارق محمود نے کہا کہ نو مارچ سے پہلے انڈیا کے کچھ چینلوں پر پابندی تھی لیکن نو مارچ کو یہ پابندی ختم کر دی گئی ہے جس سے پاکستان کے چینلوں کو ملنے والی اشتہاری آمدنی آدھی ہو چکی ہے۔

انہوں نے کہا پیمرا آرڈیننس میں اتھارٹی کے چیئرمین کو ایسے اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ جو چاہیں فیصلہ کریں اور’جب دیا بجھنے لگتا ہے تو وہ ٹمٹاتا ہے‘۔ طارق محمود نے کہا کہ کیبل آپریٹرز کو کیا حق پہنچتا ہے کہ وہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کون سا چینل دیکھیں۔ انہوں نے کہا:’حکومت جب پرائیوٹ چینلوں کو کنٹرول نہیں کر سکی تو اس نے کیبل آپریٹروں کا سہارا لیا لیکن یہ سہارا بھی زیادہ دیر نہیں رہے گا‘۔

نمایاں کوریج
اخبارات میں نئے میڈیا قوانین کی نمایاں کوریج
جو میں نے دیکھا
تصویروں کو آزاد نہ کیا تو پیچھا کریں گی
وزیر اور پیمرا
پیمرا نے پارلیمان کو مذاق بنا رکھا ہے: وزیر
آج ٹی وی پیمرا کے ضابطے یا
’آج‘ ٹیلی ویژن کو بند کرنے کی دھمکی
پیمرا کی مذمت
سینیٹ کے اندر اور باہر پیمرا پر تنقید
اسی بارے میں
پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور
15 February, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد