پیمرا آرڈیننس: حکومت جواب دے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس منیب احمد پر مشتمل ڈویژن بینچ نے پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف داخل کردہ آئینی درخواست پر وفاقی اور صوبائی حکام کو نوٹس جاری کئے ہیں۔ یہ درخواست سندھ بار کونسل کے ارکان صلاح الدین گنڈا پور اور محمد عاقل نے داخل کی ہے جس میں پیمرا قوانین میں حالیہ ترامیم کو بنیادی حقوق سے متصادم اور وکلاء کی جدوجہد کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیا گیا ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ ان ترامیم کو غیرقانونی قرار دیا جائے۔ ڈویژن بینچ نے جمعہ کو درخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے سیکرٹری وزارتِ اطلاعات و نشریات حکومتِ پاکستان، وفاقی سیکرٹری وزارت قانون و پارلیمانی امور، پیمرا یعنی پاکستان میڈیا ریگیولیٹری اتھارٹی کے چیئرمین اور صوبائی حکومت کی وزارت قانون و پارلیمانی امور کے سیکرٹری کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 27 جون تک جواب طلب کرلیا ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ 9 مارچ کو چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کے خلاف داخل کیے گئے صدارتی ریفرنس کے بعد شروع ہونے والی وکلاء کی پرامن احتجاجی تحریک کو الیکٹرانک میڈیا براہ راست کوریج دیتا رہا ہے جس کو روکنے کے لیے یہ نیا آرڈیننس جاری کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اس آرڈیننس کے ذریعے پیمرا قوانین میں متعارف کرائی گئی ترامیم آئین کے آرٹیکل 19 کی خلاف ورزی ہے جو ملک کے تمام شہریوں کو اطلاعات تک رسائی کے بنیادی حق کی ضمانت دیتا ہے۔ درخواست گزار کا یہ بھی موقف ہے کہ اس آرڈیننس کا اجراء وفاق پاکستان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے خصوصاً اس وقت جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس 6 جون کو طلب کیا گیا ہو۔ واضح رہے کہ کراچی کے ایک شہری اقبال کاظمی نے سندھ ہائی کورٹ، ایم ڈی طاہر ایڈووکیٹ نے لاہور ہائی کورٹ اورمسلم لیگ نواز کے بیرسٹر محمد ظفراللہ خان نے بھی سپریم کورٹ میں آئینی درخواستیں دائر کرکے پیمرا ترمیمی آرڈیننس اور نجی ٹی وی چینلز کی نشریات کی بندش کو چیلنج کر رکھا ہے۔ |
اسی بارے میں پیمرا آرڈیننس: بڑے بینچ کی سفارش07 June, 2007 | پاکستان صحافیوں کےخلاف مقدمہ پرتشویش07 June, 2007 | آس پاس پیمرا آرڈیننس کےخلاف یومِ سیاہ06 June, 2007 | پاکستان جیو، اے آر وائی اور آج، یو ٹیوب پر05 June, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||