پیمرا آرڈیننس: بڑے بینچ کی سفارش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جمعرات کو لاہور ہائی کورٹ پنڈی بینچ کے مسٹرجٹس سید سجاد حسین نے پیمرا آرڈیننس کے خلاف درخواست کو اس سفارش کے ساتھ چیف جسٹس ہائی کورٹ کو بھجوا دیا ہے کہ اسے سماعت کے لیے بڑے بینچ کے سامنے پیش کیا جائے۔ پیمرا آرڈیننس کے خلاف مقامی وکیل ظفر اعوان نے اکیس اپریل کو ایک درخواست دائر کی تھی جس میں پیمرا کے قانونی جواز کو چیلنج کیا گیا تھا۔ درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ پیمرا قوانین آزادئ صحافت کو محدود اور الیکٹرانک میڈیا کوکنٹرول کرنے کی کوشش ہے۔ عدالت عالیہ نے درخواست پر ابتدائی سماعت کے بعد پیمرا سے تین ہفتوں میں جواب طلب کیا تھا۔ اسی دوران صدر جنرل پرویز مشرف کی طرف سے چار جون کو پیمرا کا ترمیمی آرڈیننس جاری کر دیا گیا۔ درخواست گزار وکیل ظفر اعوان نےترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے بعد درخواست میں ترمیم کرکے اس میں بعض نئے نکات شامل کیے ہیں۔ عدالت کے حکم کے باوجود مقررہ وقت میں نہ تو پیمرا کی طرف سے کوئی جواب داخل کیا گیا اور نہ ہی پیمرا کا کوئی وکیل پیش ہوا۔ ظفر اعوان ایڈووکیٹ نے سماعت کے دوران عدالت عالیہ کے جج سے استدعا کی کہ ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے بعد ان کی فوری دادرسی کی جائے۔ تاہم عدالت عالیہ کے جج نے درخواست گزار وکیل کی استدعا کو منظور نہیں کیا اور درخواست اس سفارش کے ساتھ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کو پرنسپل سیٹ پر بھجوادی کہ درخواست کی سماعت کے لئے بڑا بینچ تشکیل دیا جائے۔ | اسی بارے میں پیمرا: صحافیوں کا ملک گیر احتجاج07 June, 2007 | پاکستان صحافیوں کا اسمبلی میں داخلہ ممنوع07 June, 2007 | پاکستان نئے پیمرا قانون میں نیا کیا؟06 June, 2007 | پاکستان پیمرا آرڈیننس کےخلاف یومِ سیاہ06 June, 2007 | پاکستان جیو، اے آر وائی اور آج، یو ٹیوب پر05 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||