BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 June, 2007, 11:09 GMT 16:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پیمرا: صحافیوں کا ملک گیر احتجاج

ملک گیر یوم سیاہ
یوم سیاہ کی کال صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے دی تھی
الیکٹرانک میڈیا کی نگرانی سے متعلق پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے اجراء اور نجی ٹی وی چینلوں کے بندش کے خلاف صحافتی تنظیموں نے جمعرات کو ملک گیر یوم سیاہ منایا ہے۔

یوم سیاہ کی کال صحافیوں کی نمائندہ تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹ نے دی تھی جبکہ وکلا تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں نے صحافیوں کی حمایت اور ان کے احتجاجی جلوسوں میں شرکت کا اعلان کیا تھا۔

حکومت نے پیر کو ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے پیمرا آرڈیننس میں ترمیم کر دی تھی جس کے تحت اسے نجی نشریاتی اداروں کی طرف سے غیر قانونی نشریات کی صورت میں بغیر کسی شو کاز نوٹس کے ان کی عمارات، نشریاتی آلات اور ’ڈسٹربیوشن سسٹم‘ کوقبضے میں لینے کے اختیارات حاصل ہو گئے ہیں۔

پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے تعلق رکھنے والے صحافیوں اور اخباری کارکنوں نے سیاہ پٹیاں باندھ کر اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دیئے۔ صحافتی تنظیمیں ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی ریلیاں نکال رہی ہیں۔

ہمارے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کے مطابق پشاور میں صحافیوں کی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس کے زیراہتمام پیمرا ترمیمی آرڈنینس کے خلاف یوم سیاہ اور احتجاجی مظاہرہ منعقد کیا گیا۔

کے ایچ یو جے کے صدر جان افضل کی قیادت میں منعقدہ احتجاجی مظاہرہ پشاور پریس کلب سے شروع ہوا جس میں وکلاء تنظیموں، پاکستان پیپلزپارٹی پارلمینٹرینز ، مسلم لیگ (ن) ، سول سوسائٹی کے نمائندوں، ٹرائبل یونین آف جرنلسٹس اور پشاور کے صحافیوں نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔

پی ایف یو جے کے نمائندوں نے مظاہروں کی قیادت کی

مظاہرے میں موجود شرکاء نے پلے کارڈز اور بینرز اٹھارکھے تھے جس پر ’ پیمرا آرڈنینس نامنظور، صحافیوں کو تحفظ دو ، میڈیا کو آزاد کیاجائے‘ کے نعرے درج تھے۔ مظاہرین نے ’گو مشرف گو‘ کے نعرے بھی لگائے۔ صحافیوں نے اس موقع پر بازوں اور منہ پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھی۔

صحافیوں اور وکلاء تنظیموں کے نمائندوں نے مظاہرین سے خطاب میں پیمرا ترمیمی آرڈیننس کو بنیادی انسانی حقوق سے متصادم قرار دیا۔

مقررین نے کہا کہ جنرل پرویز مشرف کا یہ دعوی جھوٹ پر مبنی ہے کہ ذرائع ابلاغ کو ان کی حکومت میں سب سے زیادہ آزادی دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا کی مکمل آزادی تک ان کی تحریک جاری رہے گی۔

لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق مال روڈپر نکالی جانے والی وکلاء کی ریلی کو اس بار آزادی صحافت ریلی قراردیا گیا۔ اس ریلی کے شرکاء کی تعداد گذشتہ کے مقابلے میں نسبتا زیادہ تھی، خاص طور پر سیاسی پارٹیوں کے کارکن زیادہ تعداد میں نظر آئے۔

ریلی ایوان عدل سے روانہ ہوئی اور شرکاء صدر مشرف اور حکومت مخالف نعرے لگاتے ہوئے پنجاب اسمبلی کے سامنے پہنچے،انہوں نے مختلف پوسٹر اور بینر اٹھا رکھے تھے چند پر لکھا تھا کہ ’آزادی صحافت زندہ باد، پمرا آرڈیننس نامنظور۔‘

مظاہرین نے پنجاب اسمبلی کے سامنے پمرا آرڈیننس کی کاپیاں نذر آتش کیں۔
اس موقع پر وکلاء رہنماؤں اور سیاسی قائدین نے الگ الگ مقامات پر کھڑے ہوکر خطاب کیے۔

نجی نشریاتی اداروں کے نمائندے بھی مظاہروں میں پیش پیش رہے

لاہورہائی کورٹ بار ایسوس ایشن نے صدر احسن بھون اور لاہور بار کے صدر سید محمد شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ایک ایک کرکے ریاست کے تمام ستون زیر کرنا چاہتی ہے۔ چیف جسٹس کے واقعہ کے بعد اب آزادی صحافت پر وار کیا گیا ہے۔

وکلا ء رہنماؤں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ تمام طبقے اور تمام ادارے ملک سے آمریت کے خاتمے کے لیےاٹھ کھڑے ہوں۔

مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ نے پارلیمان میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ صدر مشرف امام کعبہ کے جبہ میں چھپنا چاہ رہے ہیں لیکن انہیں اس سے باہر نکال کر عوام کے سامنے کھڑا کیا جائے گا۔
مظاہرین سے مسلم لیگ نواز کے جاوید لطیف اور تحریک انصاف کے احسن رشید نے بھی خطاب کیا۔

ہمارے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق اسلام آباد میں صحافیوں کی تنظیم پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف یوم سیاہ منایا گیا اور راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کے باہراحتجاجی مظاہرہ ہوا۔

احتجاج میں وکلاء تنظیموں، سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں ، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے علاوہ صحافیوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

مظاہرے کے شرکا نے پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جس پر ہم نہیں مانتے ظلم کے ضابطے ، پیمرا آرڈیننس نا منظور کے نعرے درج تھے۔ اس موقع پر مظاہرین نے قلم کا پرچم بلند رہے گا، قلم کیا مانگے آزادی، میڈیا مانگے آزادی، میڈیا کے آزادی تک جنگ جاری رہے گی، کے نعرے لگائے ۔

مظاہرین نے اپنے بازوں پر سیاہ پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سیکریٹری جنرل مظہر عباس نے مظاہرہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صحافی اپنے اس حق کے لئے لڑ رہے ہیں جو دستور نے ان کو دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ میڈیا کی آزادی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا اور صحافت کی آزادی تک جنگ یہ جنگ جاری رہے گی۔

مقررین نے کہا کہ صحافیوں کی جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب پیمرا جیسے قوانین ختم نہیں ہوجاتے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت پیمرا کے علاوہ 38 ایسے قوانین ہیں جو آزادی صحافت کے راہ میں رکاوٹ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد