سیاسی بحران اور میڈیا پر پابندیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لگتا ہے کہ پاکستان میں ذرائع ابلاغ پرحالیہ پابندیوں کا اصل نشانہ تین نجی ٹیلی ویژن چینل ہیں جو کہ ملک میں بڑھتے ہوئے سیاسی بحران پر بحث و مباحثے میں پیش پیش تھے۔ لیکن چونکہ ان میں سے دو چینل ملک کے باہر سے چلتے ہیں اس لئے حکومت کو انہیں مکمل طور پر خاموش کرانے میں مشکل ہو گی۔ جب سے صدر جنرل پرویز مشرف نے چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کو نو مارچ کو معطل کیا تب سے جیو، اے آر وائی اور آج ٹی وی اپنے ناظرین کو مختلف واقعات کی باقاعدگی سے کوریج دکھا رہے ہیں۔ اس میں بعض اوقات خاصے تلخ واقعات کے مناظر بھی شامل ہوتے ہیں۔ تینوں چینلز اکثر مظاہروں اور متحارب گروہوں میں تصادم اور اپنے دفاتر پر حملوں کے واقعات کو براہ راست دکھاتے رہے ہیں۔ اکثر مبصرین کا کہنا ہے کہ صدر جنرل کے چیف جسٹس کو معطل کرنے کا اصل سبب جسٹس چوہدری کا کردار نہیں تھا بلکہ یہ خوف تھا کہ جسٹس چوہدری ان کے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے لیے جنرل مشرف کی فوج سے ریٹائرمنٹ کا مطالبہ کریں گے۔
ان چینلز کی براہراست کوریج پر حکومت کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہو گیا جب انہوں نے چھبیس مئی کو اسلام آباد میں جسٹس افتخار کی حمایت میں ہونے والی ایک تقریب دکھا دی۔ تقریب میں کچھ شرکاء نے نہ صرف جنرل مشرف کے خلاف نعرہ بازی کی بلکہ فوج کو بھی اس کا نشانہ بنایا۔ تیس مئی کو ایک فوجی چھاؤنی میں خطاب کرتے ہوئے صدر مشرف نے ’ فوج کی توہین‘ پر شدید تنقید کی۔ اگلے ہی روز وزیر اطلاعات نے ذرائع ابلاغ کو یاد دلایا کہ کچھ پروگرام براہ راست دکھانے کے لیے انہیں پیشگی اجازت لینا ضروری ہے۔ یکم جون کو جنرل مشرف نے کور کمانڈروں کا اجلاس بلایا جس میں، بقول سرکاری ٹی وی کے، کمانڈروں نے انہیں ’غیر متزلزل حمایت‘ کا یقین دلایا۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف وزراء نے بھی مسلح فوج کی حمایت کا اظہار نو کیا۔ اطلاعات کے مطابق اٹھائیس اور انتیس مئی کو اسلام آباد میں مختلف اجلاسوں میں وزیر اعظم شوکت عزیز نے بھی فوج پر تنقید پر اپنی ناراضی کا اظہار کیا۔ تین جون کو اخبار دی نیوز نے لکھا کہ وزیراعظم نے کہا کہ ’ ہم کسی کو فوج کی توہین کرنے کی اجازت نہیں دیں گے کیونکہ فوج ہمارا قومی اثاثہ ہے۔‘
چار جون کو خبررساں ادارے اے پی پی نے بتایا کہ وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ ’ آپ ایک فرد پر تنقید کر سکتے ہیں لیکن کسی ادارے پر نہیں۔ کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ فوج کے حوصلے پست کرے۔‘ اسی دوران ٹی وی چینلز کی نشریات بند ہو جانے کی خبریں بھی آنا شروع ہو گئیں۔ تین جون کی شام ایک بلاگر نے اطلاع دی کہ شاہد مسعود کی میزبانی میں جیو ٹی وی کے حالات حاضرہ کے پروگرام کے دوران جیو کی نشریات روک دی گئیں۔ مذکورہ پرورگرام کے دوران فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ مشرف نے کور کمانڈروں کا اجلاس اس لیے طلب کیا تھا کیونکہ حکومت کو خدشہ تھا کہ وہ حالات پر قابو پانے میں ناکام ہو رہی ہے اور اسے فوج کی جانب سے ’حکومت جاری رکھنے کی ضمانت‘ چاہئیے تھی۔ جنرل بیگ کی نظر میں کمانڈروں کا اجلاس بلانے کی ضرورت حکومت کا اپنی ’شکست قبول کرنے‘ کے مترادف تھا۔ اسی پروگرام میں پاکستان مسلم لیگ کے نائب صدر کبیر علی واسطی نے کہا کہ دوبارہ صدر منتخب ہونے سے پہلے صدر مشرف کا فوج کی سربراہی سے ریٹائر ہونا ضروری ہے۔
اگر مشرف حکمران مسلم لیگ، یا اس کے کسی حصے کی حمایت سے محروم ہو جاتے ہیں تو انہیں دوسری سیاسی جماعتوں کی جانب دیکھا پڑے گا۔ اس بات نے گزشتہ دنوں ان افواہوں کو بھی جنم دیا کہ وہ جلاوطن سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے کوئی معاملہ کر رہے ہیں۔ صدر مشرف اپنی حمایت کے لیے جس دوسری جماعت پر انحصار کرتے ہیں وہ متحدہ قومی موومنٹ ہے۔ ایم کیو ایم صوبہ سندھ کی مرکزی جماعت ہے اور زیادہ تر لوگوں کو یقین ہے کہ کراچی میں بارہ مئی کی مہلک جھڑپوں کے پیچھے اسی جماعت کا ہاتھ تھا۔ تحریک انصاف کے رہنما عمران خان ان دنوں لندن میں ہیں جہاں ان کا مطالبہ ہے کہ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین کو برطانیہ سے واپس پاکستان بھیجا جائے۔ اگرچہ لاہور کے ناظرین کے لیے جیو کی نشریات رات دیر سے بند ہوئیں لیکن کراچی میں یہ سر شام اسی وقت بند ہو گئی تھیں جب جیو پر عمران خان کا ایک انٹرویو دکھایا جا رہا تھا۔ کور کمانڈروں سے ملاقات کے تین دن بعد چار جون کو جنرل مشرف نے ملک میں سیاسی، خاص طور پر بلوچستان اور سرحد کی صورتحال، پر غور کرنے کے لیے قومی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی طلب کر لیا۔ ان دونوں صوبوں میں آج کل حکومت مخالف جماعت متحدہ مجلس عمل کی حکومت ہے۔
سلامتی کونسل کے اجلاس کے بارے میں ذرائع ابلاغ کا کہنا تھا کہ اس میں ملک میں امن امان کی صورتحال اور خاص طور پر خو کش حملوں میں اضافے اور قبائلی علاقوں سے صوبہ سرحد کے شہری علاقوں میں بم دھماکوں کے پھیلنے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا۔ ’طالبنائزیشن‘ کا نام دیے جانے والے اس رجحان کی سب سے بڑی حالیہ مثال صوبہ سرحد کا شہر ٹانک ہے۔ جنوبی وزیرستان کی سرحد کے پاس واقع اس شہر میں اکتیس مئی کو ایک سرکاری افسر کی رہائش گاہ پر حملے میں تیرہ افراد مارے گئے تھے۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا تھا کہ اس میں کوئی شک نہیں رہا کہ ملک کا یہ حصہ دن بدن لاقانونیت کی جانب جا رہا ہے۔ صوبہ سرحد کی صورتحال پر کچھ ایسے ہی خیالات کا اظہار پشاور میں جیو ٹی وی کے نمائندے نے بھی کیا۔ ٹانک پر اپنی ایک رپورٹ میں ان کا کہنا تھا کہ صورتحال بگڑنے کا ایک سبب صوبائی اور وفاقی حکو مت کے درمیان تعاون کا فقدان ہے۔ صوبائی اور وفاقی حکومتیں صوبہ میں بڑھتے تشدد کی ذمہ داری ایک دوسرے پر ڈالتی رہی ہیں۔ جیو کے مطابق ٹانک میں حملے کے بعد وفاقی وزیر داخلہ آفتاب احمد خان شیرپاؤ نے کہا کہ ایم ایم اے کی حکومت امن و امان قائم رکھنے میں ناکام ہو رہی ہے۔ اس سے دو دن قبل پشاور میں ایک بم دھماکے پر صوبہ سرحد کے وزیر اطلاعات آصف درانی نے کہا تھا کہ دھماکہ ’حکومت کی ناقص خارجہ پالیسی‘ کا نتیجہ ہے اور یہ کہ ’ کچھ عناصر ایم ایم اے کی حکومت کو بدنام کرے پر تلے ہوئے ہیں۔‘ ایم ایم اے کے دیگر رہنماؤں نے اس صورتحال کا الزام ملک کی خفیہ تنظیموں پر لگایا۔
ملک کے نجی ٹی وی چینلز بڑھتے ہوئے تشدد پر مباحثے کراتے رہے ہیں جن میں کہا گیا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت ان واقعات کے ذمہ داران کا سامنا نہیں کرنا چاہتی۔ ملک میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کی ایک اور مثال اسلام آباد کی لال مسجد کی طالبان نواز انتظامیہ کا مؤقف ہے۔انتیس مئی کو اخبار دی نیوز نے مسجد انتظامیہ کے سربراہ مولانا عبدالعزیز کے حوالے سے کہا کہ ضرورت پڑنے پر ہزاروں خود کش بمبار ملک میں کہیں بھی دھماکے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یہ سب معاملات اپنی جگہ لیکن جو چیز مشرف حکومت کی مخالفت کی سب سے بڑی علامت بن کر ابھری ہے وہ چیف جسٹس کا معاملہ ہے۔ ان کا قافلہ ملک کے جس شہر میں بھی گیا ہزاروں لوگ ان کے استقبال کے لیے سڑکوں پر نکلے اور ہر مرتبہ ان کے جلوس نے چند گھنٹوں کا سفر کئی گھنٹوں میں طے کیا۔ اگرچہ جسٹس چوہدری کی تقاریر میں مشرف کو براہ راست نشانہ نہیں بنایا گیا لیکن ان میں جمہوریت اور قانون کی بالا دستی پر زود دیا گیا جس سے لوگوں کو یاد دہانی ہوئی کہ صدر مشرف کے حکومت کرنے کی قانونی مدت اس برس ختم ہو جائے گی۔
جیو، اے آر وائی، آج ٹی وی اور دیگر نجی چینلز کی نشریات زیادہ تر کیبل کی وساطت سے دیکھی جاتی ہیں۔ حکام ان چینلز کی نشریات روکنے کے لیے زیادہ تر جو طریقہ استعمال کرتے اس میں کیبل کمپنیوں پر دباؤ ڈالا جاتا ہے کہ وہ ان چینلز کی نشریات کی ترسیل روک دیں۔ لیکن جن ناظرین کے پاس سیٹلائٹ ڈش کی سہولت ہے وہ یہ نشریات پھر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ آج ٹی وی اپنی نشریات ملک کے اندر سے سیارے کو بھیجتا ہے لیکن جیو اور اے آر وائی دونوں کی نشریات دبئی سے ہوتی ہیں۔ تاہم ان دونوں چینلز کے حالات حاضرہ کے زیادہ تر پروگرام انکے کراچی، اسلام آباد وغیرہ کے سٹوڈیوز میں منعقد کیے جاتے ہیں۔ نشریات کے اس طریقہ کار نے ایک ایسی صورتحال کو جنم دیا کہ جس میں پروگرام ملک کے اندر سے نشر کیے جارہے تھے لیکن ملک کی زیادہ تر آبادی انہیں دیکھنے سے محروم رہ رہی تھی۔ بلکہ ہو یہ رہا تھا کہ ملک کے اندر ڈش کی سہولت استعمال کرنے والوں اور گلف کی ریاستوں، برطانیہ اور دیگر ممالک میں ان چینلز کے ناظرین کو ٹی وی سکرین سے پتہ چل رہا تھا کہ پاکستان میں چینل کی نشریات بند کر دی گئی ہیں۔ چار جون کو کی جانے والی ترامیم کے بعد اب میڈیا کے ریگولیٹرز کو یہ اختیار حاصل ہو گیا ہے کہ وہ نہ صرف ’غیر قانونی‘ نشریات کرنے والی عمارت کو تالا لگا سکتے ہیں بلکہ ساز و سامان ضبط کر کے ان کے لائسینس بھی منسوخ کر سکتے ہیں۔ نتیجتاً جیو اور اے آر وائی کے لیے ملک کے اندر سے نشریات جاری رکھنا مشکل ہو گیا ہے۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حکومت نجی چینلز پر دیگر طریقوں سے بھی دباؤ ڈالے کہ وہ اپنی رپورٹوں میں نرمی دکھائیں۔ اے آر وائی کے خبروں کے علاوہ دیگر چینلز بھی ہیں جبکہ جیو اور آج ٹی وی دونوں کا تعلق اخبارات کی دنیا سے ہے۔ آج ’بزنس ریکارڈر گروپ‘ کی ملکیت ہے جبکہ جیو جنگ گروپ کا حصہ ہے۔ چھ جون کو ڈیلی ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق اس ہفتے قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں باقی معاملات کے علاوہ ایک آرڈیننس پر بھی غور کیا گیا جس کے تحت اخبارات و رسائل میں بھی ’قابل اعتراض‘ مواد کی اشاعت پر مزید سختی کی جا سکے۔ |
اسی بارے میں میڈیا پر کنٹرول کے لیے نئے قوانین04 June, 2007 | پاکستان پیمرا آرڈیننس پر احتجاج جاری05 June, 2007 | پاکستان پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان پیمرا ترامیم عدالتوں میں چیلنج 05 June, 2007 | پاکستان پیمرا پر پارلیمانی وزیر کی تنقید 27 April, 2007 | پاکستان پیمرا کا ’آج‘ ٹی وی کو نوٹس23 April, 2007 | پاکستان پیمرا کو غور کرنے کی ہدایت14 April, 2005 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||