صحافیوں کا اسمبلی میں داخلہ ممنوع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی قومی اسمبلی میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور جمعرات کو انہیں اسمبلی کے مرکزی دروازے پر ہی روک لیا گیا ہے۔ حکومت کے اس اقدام کے خلاف پارلیمانی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے احتجاج کیا اور اس حکومتی عمل کو ان کے پیشہ وارانہ فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔ چھ جون (بروز بدھ) کو شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں نے پیمرا کے ترمیمی آرڈیننس 2007 کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔ اس دوران صحافیوں اور حکومتی نمائندؤں کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے کہ پریس گیلری میں بیھٹے کچھ لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ واک آؤٹ کے بعد کچھ غیر متعلقہ افراد پریس گیلری میں گھس گئے، جنہیں منع کیا گیا تو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئے۔
صحافی جب پریس گیلری میں نعرے بازی کر رہے تھے تو ہال میں موجود حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے بھی ان کی حمایت میں نعرے لگائے۔ اس پر سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے اجلاس نصف گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا۔ بعد میں حکومتی اور حزب اختلاف کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد اجلاس جمعرات صبح دس بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی نے پریس گیلری میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد پارلیمانی رپورٹنگ کے لیے صحافیوں کو جاری کیے گئے تمام اجازت نامے منسوخ کر دیئے۔ اطلاعات کے مطابق ذرائع ابلاغ کے تمام اداروں سے کہا گیا ہے کہ اسمبلی کی رپورٹنگ کے لیے اپنے نمائندے دوبارہ نامزد کریں۔ ادھر صحافتی تنظیمیں آزادی اظہار پر پابندیوں اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس 2007 کے خلاف یوم سیاہ منا رہی ہیں۔ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور صحافیوں نے سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔ یاد رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے چار جون کو ایک آرڈیننس کے ذریعے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے نشریاتی اداروں کے آلات اور عمارتوں پر قبضہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔
تاہم بعض اطلاعات کے مطابق حکومت نشریاتی اداروں سے مذاکرات پر تیار ہو گئی ہے۔ نشریاتی اداروں کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے بدھ کو وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی اور طے پایا کہ حکومتی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر مشتمل ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو پیمرا ترمیمی آرڈیننس 2007 کے حوالے سے تجاویز مرتب کرے گی۔ کمیٹی کم سے کم وقت میں اپنا کام مکمل کرے گی اور اس دوران ترمیمی آرڈیننس پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔ |
اسی بارے میں پیمرا آرڈیننس: ملکی اخبارات کا ردِعمل05 June, 2007 | پاکستان پیمرا آرڈیننس کےخلاف یومِ سیاہ06 June, 2007 | پاکستان چینلز پر پابندی، مشعل بردار جلوس04 June, 2007 | پاکستان پاکستان: چینلوں کی بندش، احتجاج04 June, 2007 | پاکستان پاکستان:’چھ صحافی قتل، پچاس اغواء‘03 May, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||