BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 June, 2007, 07:57 GMT 12:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
صحافیوں کا اسمبلی میں داخلہ ممنوع

پاکستان کی قومی اسمبلی
پارلیمانی رپورٹنگ کے لیے صحافیوں کو جاری کیے گئے تمام اجازت نامے منسوخ کر دیے گئے ہیں
پاکستان کی قومی اسمبلی میں صحافیوں کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی ہے اور جمعرات کو انہیں اسمبلی کے مرکزی دروازے پر ہی روک لیا گیا ہے۔

حکومت کے اس اقدام کے خلاف پارلیمانی امور کی رپورٹنگ کرنے والے صحافیوں نے احتجاج کیا اور اس حکومتی عمل کو ان کے پیشہ وارانہ فرائض میں رکاوٹ ڈالنے کے مترادف قرار دیا۔

چھ جون (بروز بدھ) کو شروع ہونے والے قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پریس گیلری میں بیٹھے صحافیوں نے پیمرا کے ترمیمی آرڈیننس 2007 کے خلاف نعرے بازی کی اور احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔

اس دوران صحافیوں اور حکومتی نمائندؤں کے درمیان مذاکرات ہو رہے تھے کہ پریس گیلری میں بیھٹے کچھ لوگوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہوگئی۔ صحافیوں کا دعویٰ ہے کہ واک آؤٹ کے بعد کچھ غیر متعلقہ افراد پریس گیلری میں گھس گئے، جنہیں منع کیا گیا تو وہ ہاتھا پائی پر اتر آئے۔

تاریخی واقعہ
 کہا جا رہا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ صحافیوں نے پریس گیلری میں نعرے بازی کی ہو
کہا جا رہا کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ صحافیوں نے پریس گیلری میں نعرے بازی کی ہو۔

صحافی جب پریس گیلری میں نعرے بازی کر رہے تھے تو ہال میں موجود حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے ارکان اسمبلی نے بھی ان کی حمایت میں نعرے لگائے۔ اس پر سپیکر قومی اسمبلی چودھری امیر حسین نے اجلاس نصف گھنٹے کے لیے ملتوی کر دیا۔ بعد میں حکومتی اور حزب اختلاف کے نمائندوں سے مشاورت کے بعد اجلاس جمعرات صبح دس بجے تک کے لیے ملتوی کر دیا گیا۔

سپیکر قومی اسمبلی نے پریس گیلری میں ہونے والی ہنگامہ آرائی کے بعد پارلیمانی رپورٹنگ کے لیے صحافیوں کو جاری کیے گئے تمام اجازت نامے منسوخ کر دیئے۔ اطلاعات کے مطابق ذرائع ابلاغ کے تمام اداروں سے کہا گیا ہے کہ اسمبلی کی رپورٹنگ کے لیے اپنے نمائندے دوبارہ نامزد کریں۔

ادھر صحافتی تنظیمیں آزادی اظہار پر پابندیوں اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس 2007 کے خلاف یوم سیاہ منا رہی ہیں۔ ملک کے چھوٹے بڑے شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے جا رہے ہیں اور صحافیوں نے سیاہ پٹیاں باندھ رکھی ہیں۔

یاد رہے کہ صدر جنرل پرویز مشرف نے چار جون کو ایک آرڈیننس کے ذریعے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی یعنی پیمرا کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے اسے نشریاتی اداروں کے آلات اور عمارتوں پر قبضہ کرنے کا اختیار بھی دے دیا ہے۔

صحافتی تنظیمیں آزادی اظہار پر پابندیوں اور پیمرا ترمیمی آرڈیننس کے خلاف یوم سیاہ منا رہی ہیں

تاہم بعض اطلاعات کے مطابق حکومت نشریاتی اداروں سے مذاکرات پر تیار ہو گئی ہے۔ نشریاتی اداروں کے مالکان کی تنظیم پاکستان براڈکاسٹرز ایسوسی ایشن کے ایک وفد نے بدھ کو وزیر اعظم شوکت عزیز سے ملاقات کی اور طے پایا کہ حکومتی اور ذرائع ابلاغ کے نمائندوں پر مشتمل ایک چھ رکنی کمیٹی تشکیل دی جائے گی جو پیمرا ترمیمی آرڈیننس 2007 کے حوالے سے تجاویز مرتب کرے گی۔

کمیٹی کم سے کم وقت میں اپنا کام مکمل کرے گی اور اس دوران ترمیمی آرڈیننس پر عملدرآمد نہیں کیا جائے گا۔

میڈیامیڈیا شکنجے میں
کیا حکومت دباؤ کی تاب نہیں لا پا رہی ہے؟
قانون میں نیا کیا؟
دو ہزار دو میں بننے والے ادارے کے نئے اختیارات
وزیر اور پیمرا
پیمرا نے پارلیمان کو مذاق بنا رکھا ہے: وزیر
وزیر قانون کا پُتلہاسمبلی کی باتیں
وزیرِ قانون کے لیے قواعد سے ’صرفِ نظر‘
قومی اسمبلیالزامات، وضاحتیں
اسمبلی مراعات، شراب اور ’جغادری لکھاری‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد