پیمرا آرڈیننس کےخلاف یومِ سیاہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
میڈیا کی نگرانی سے متعلق پیمرا آرڈیننس کے خلاف پاکستان میں صحافتی تنظیمیں جمعرات کو یوم سیاہ منا رہی ہیں اپوزیشن جماعتوں پیپلز پارٹی،مسلم لیگ نواز اور مجلس عمل اور سول سوسائٹی کی تنظیموں نے صحافیوں کی حمایت اور ان کے احتجاجی جلوسوں میں شرکت کااعلان کیا ہے۔ پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی کال پر ملک بھر میں صحافی تنظیمیں احتجاجی مظاہرے کریں گی اور جلوس نکالیں گی۔ بیشتر احتجاجی مظاہروں کا مرکز پریس کلب ہوگا البتہ لاہور میں مال روڈ پر جلوس نکالا جائے گا۔اس بات کا فیصلہ پریس کلب اور پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے عہدیداروں نے ایک اجلاس میں کیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں کو اجلاس میں شرکت سےنہیں روکا جائے گا البتہ ان پر اپنی پارٹی کے جھنڈے اور بینرلانے کی ممانعت ہوگی۔ پیپلز پارٹی پنجاب اور لاہور کے عہدیداروں نے بدھ کی رات پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کےدوران صحافیوں کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر مخدوم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ انہوں نے صوبہ بھر کی قیادت کوہدایت کردی ہے کہ وہ تمام اضلاع میں صحافیوں کے نمائندوں سے ملاقات کرکے مشاورت کریں اور ان کی ہدایت کے مطابق ان کے جلوسوں میں شرکت کریں۔ انہوں نے اعلان کیا کہ جمعرات کو ان کی پارٹی کےورکرصحافیوں کے جلوس میں شرکت کریں گے تو ایک صحافی نے انہیں ٹوک دیا اور بتایا کہ ’وہ پارٹی کے جھنڈے اوربینر نہیں لاسکتے، جس پر مخدوم امین فہیم نے پیپلز پارٹی لاہور کے صدر حاجی عزیزالرحمان چن کو ہدایت کی کہ صبح وکلا کے جلوس میں پارٹی کےجھنڈوں اور بینروں کے ساتھ شرکت کی جائے اور شام کو صحافیوں کے جلوس میں جھنڈوں کے بغیر شرکت کی جائے۔ اس موقع پر پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین یوسف رضا گیلانی نے پیمرا کے قوانین اور صحافیوں کو دی جانے والی دھمکیوں کی مذمت کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ پیمرا کا متنازعہ آرڈیننس واپس لیا جائے۔ مسلم لیگ نواز کے رہنما رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق نے اعلان کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں اور کارکنوں سمیت صحافیوں سے اظہار یک جہتی کے لیے جمعرات کو مال روڈ پر آئیں گے۔ جماعت اسلامی کے ترجمان کے مطابق مجلس عمل پنجاب کے صدر لیاقت بلوچ صحافیوں کے جلوس میں شرکت کے لیے لاہور پہنچ رہے ہیں۔ترجمان کے مطابق ان کے کارکن بھی بڑی تعداد میں شرکت کریں گے۔ پاکستان لیبر پارٹی سمیت مختلف تنظیموں نے شمولیت کااعلان کیاہے۔پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے سیکرٹری عامر رضا خان نے کہا ہےکہ شرکاء کو سختی سے ہدایت کردی گئی ہے کہ وہ آزادی صحافت کے سوا کوئی دوسرا نعرہ بھی نہ لگائیں۔ جمعرات کو پی یو جے کے دفتر اور لاہور پریس کلب پر سیاہ پرچم لہرائےجائیں گے اور صحافی بازؤں پر سیاہ پٹیاں باندھیں گے۔
مال روڈ پر دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت جلوس نکالنے کی ممانعت ہے۔پریس کلب کے سیکرٹری شیعب الدین نے کہا ہے کہ حکومت نے اسلام آباد میں صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے اب وہ لاہور میں بھی مقدمہ درج کرکے اپنا شوق پورا کرسکتی ہے۔ ادھر لاہور میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کی گرفتاری کا سلسلہ جاری ہے اپوزیشن رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان کے کارکنوں اور دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت کو اس لیے گرفتار کیا جارہا ہے تاکہ وہ آزادی صحافت کے چلنے والی کسی تحریک میں شامل نہ ہوسکیں۔ گزشتہ دو روز میں گرفتار ہونے والے سیاسی کارکنوں کے خلاف امن وعامہ کے قانون کے تحت مقدمات درج کیے گئے ہیں اور ا نہیں مختلف جیلوں میں منتقل کردیا گیا۔ پیپلز پارٹی جمعرات کو کراچی کے بلاول ہاؤس میں اپنی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کا ہنگامی اجلاس کر رہی ہے جس میں صحافت کے حوالے سے پیدا ہونے والی تازہ ترین صورتحال پر غور کے بعد پارٹی کا لائحہ عمل طے کیا جائے گا۔ | اسی بارے میں پیمرا کا ترمیم شدہ بِل منظور15 February, 2007 | پاکستان نجی ٹی وی چینلز پر پابندی کی رِٹ12 March, 2007 | پاکستان سیمینار: حکومت کی عدم شرکت 24 November, 2006 | پاکستان نو نئے ایف ایم ریڈیو سٹیشن19 April, 2006 | پاکستان ’کیبل آپریٹر ممنوعہ چینل دکھا رہےہیں‘22 April, 2006 | پاکستان کیبل پر جیو چینل کی نشریات بند23 January, 2006 | پاکستان کوئٹہ: تین افغان ٹی وی چینلز بند 16 March, 2006 | پاکستان کیبل آپریٹروں کااحتجاج ختم27 July, 2006 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||