BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 November, 2007, 14:59 GMT 19:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بائیکاٹ کے حوالے سے سیاسی مشورے

ظفر الحق اور قاضی حسین احمد
مسلم لیگ(ن) اور جماعت اسلامی بائیکاٹ کے لیے راضی ہیں
عام انتخابات کے بائیکاٹ کے لیے اپوزیشن کی تین بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہوں کا آپس میں رابطہ ہوا ہے اور یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ اس سلسلے میں مزید فوری مشاورت کی جائے گی۔

متحدہ مجلس عمل کے صدر اور جماعت اسلامی کے امیر قاضی حسین احمد نے کہا ہے کہ انہوں نے مسلم لیگ نواز کے جلاوطن سربراہ نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے وائس چیئرمین مخدوم امین فہیم سے ٹیلی فون پر رابطہ کر کے تجویز دی ہے کہ تمام اپوزیشن پارٹیاں مل کر عام انتخابات کا بائیکاٹ کردیں۔

پاکستان میں قومی اور صوبائی اسمبلی کے عام انتخابات آٹھ جنوری کو ہونا ہیں۔قاضی حسین احمد نے اپنے بیان میں کہا کہ انہوں نے دونوں رہنماؤں کو کہا ہے کہ موجودہ حالات میں ہونے والے انتخابات ڈھونگ ہونگے۔ ان کے بقول میاں نواز شریف نے قاضی حسین احمد کو اس مسئلے پر دوبارہ رابطے کی یقین دہانی کرائی ہے جبکہ مخدوم امین فہیم نے ان کا پیغام بینظیر بھٹو تک پہنچانے اور ان سے مشورے کے بعد جواب کا وعدہ کیا ہے۔

ایمرجنسی کی موجودگی اور موجودہ انتخابی ضابطۂ اخلاق کے تحت انتخابات پر اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو تحفظات ہیں۔ بینظیر بھٹو اور نواز شریف با رہا کہہ چکے ہیں کہ انہیں منصفانہ اور آزادانہ انتخابات ہونے کی امید نہیں ہے۔

اپوزیشن جماعتیں کہہ رہی ہیں کہ انتخابات کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا جا سکتا ہے البتہ حکومتی حلقوں کی جانب سے یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ نواز لیگ اور پیپلز پارٹی کے بائیکاٹ کی صورت میں مولانا فضل الرحمان کی جے یو آئی اور اتحادی حکومتی پارٹیوں اور دوسری چھوٹی پارٹیوں کی موجودگی میں انتخابات کروا دیے جائیں گے۔

مولانا فضل الرحمان انتخابی میدان خالی نہیں چھوڑنا چاہتے

ایک طرف مجلس عمل کے صدر قاضی حسین احمد اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کو بائیکاٹ پر اکسا رہے ہیں تو دوسری جانب ان کی اتحادی جماعت جے یوآئی انتخابات میں ہر صورت حصہ لینے کا اعلان کر چکی ہے۔ جے یوآئی کے ترجمان مولانا امجد خان نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی میدان خالی چھوڑنے کے حق میں نہیں ہے اور ان کی جماعت حکمران پارٹی کی انتخابی میدان میں مقابلہ کرے گی۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں ان کے مجلس عمل کی اتحادی جماعت جماعت اسلامی سے واضح اختلاف ہے اور انتخابات کے بائیکاٹ کے نکتہ پر یہ اتحاد ختم بھی ہو سکتا ہے۔

ادھر مسلم لیگ نواز کے چند ٹکٹ ہولڈرامیدواروں کا کہنا ہے کہ اگر نواز شریف یا شہباز شریف میں سے کوئی بھی انتخابات سے کافی پہلے واپس نہیں آتا تو ان کا انتخابات میں حصہ لینا بے معنی ہوگا۔

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان ذاتی طور پر ملکی سیاست میں اہمیت اختیار کرگئے ہیں لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ ان کی پارٹی کی تنظیمی قوت نہ ہونے کے برابر ہے۔ تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ریٹائرڈ ائر مارشل شاہد ذوالفقار علی نے بی بی سی کو کہا ہے ان کی جماعت یہ سمجتھی ہے کہ موجودہ حالات میں انتخابات میں حصہ لینے کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو مل کر اس کا بائیکاٹ کردینا چاہیے۔ ان کے بقول جماعت اسلامی اور نواز شریف اس کے لیے راضی ہیں اور اب سے سے زیادہ اہمیت پیپلز پارٹی کے فیصلہ کی ہے۔

پیپلز پارٹی پہلے ہی اپوزیشن کی کل جماعتی مشاورتی کانفرنس کی تجویز دے چکی ہے۔ سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ انتخابی شیڈول کے اعلان کے بعد اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کے پاس بائیکاٹ کے فیصلے تک پہنچنے کے لیے کم وقت رہ گیا ہے اور آئندہ چند روز میں اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں کی جانب سے ایسا فیصلہ سامنے آسکتا ہے جس کے دوررس نتائج ہوں گے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد