BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 21 November, 2007, 07:36 GMT 12:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک اور آرڈیننس: جنرل مشرف کے احکامات چیلنج نہیں ہو سکیں گے

سپریم کورٹ کے راستے بند
سپریم کورٹ جانے والے اکثر راستوں پولیس کی بھاری نفری موجود رہی

صدر جنرل پرویز مشرف نے بدھ کے روز ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے تین نومبر سے لیکر بیس نومبر تک جاری ہونے والے اپنے تمام احکامات کو تحفظ دیا ہے۔ نئے حکمنامے کے مطابق ان کے ان اقدامات کو کسی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

نئی آئینی ترمیم کو ارٹیکل دو سو ستر اے اے اے کا نام دیا گیا ہے جس کے تحت ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد آئین میں لائی گئی تبدیلیوں اور نئے قوانین کو آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔ ان ترامیم و اقدامات کو کسی عدالت میں زیر بحث نہیں لایا جا سکے گا۔


یاد رہے کہ اس سے قبل اکتوبر انیسو ننانوے کے ماوارئے آئینی اقدامات کو بھی اسی طرز پر تحفظ فراہم کیا گیا تھا جس کی بعد میں عدالتوں اور پارلیمان نے توثیق کر دی تھی۔ آئین کے مطابق اسے معطل کرنے کی کوئی گنجائش نہیں اور ایسا کرنے والے کی سزا موت قرار دی گئی ہے۔

ترمیم کے مطابق اس مدت کے دوران تمام احکامات اور تعیناتیاں کو بھی جائز قرار دیا گیا ہے۔ ترمیم کے ذریعے جنوری دو ہزار آٹھ میں متوقع عام انتخابات اور ججوں کے حلف کو بھی یہ آئینی تحفظ فراہم کیا گیا ہے۔

جنرل پرویز مشرف ہنگامی حالت کے نفاذ کے بعد اس بات کی اعتراف کرچکے ہیں کہ ان کا یہ اقدام ماورائے آئین تھا۔

ملک بھر میں ایمرجنسی کے خلاف مظاہرے جاری ہیں

پاکستان لائرز فورم کے چیرمین اے کے ڈوگر نے اس ترمیم کی تحریر کو بے معنی الفاظ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی ایسا قانون جو آئین کے خلاف ہو اس کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے۔ بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ عدالت کے پاس جوڈیشل پاور ہوتی ہے جس کو کبھی کوئی قانون یا آئین اس کو ختم نہیں کرسکتا۔

دوسری طرف سپریم کورٹ میں ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے خلاف درخواستوں کی سماعت بدھ کے روز بھی مکمل نہیں ہوسکی اور سپریم کورٹ کے سات رکنی بینچ کے سامنے دوبارہ شروع ہوئی تو وطن پارٹی کے ظفراللہ خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی صدر لگا سکتا ہے جبکہ یہ ایمرجنسی چیف آف آرمی سٹاف نے لگائی ہے۔

انہوں نے کہا کہ چیف آف آرمی سٹاف نے ملک میں ایمرجنسی لگا کر آئین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اور حالات اتنے خراب نہیں تھے کہ ملک میں ایمرجنسی لگائی۔

ظفر اللہ خان نے اپنے دلائل میں کہا کہ انتظامی اختیارات پولیس اور فوج کے پاس ہیں اور قانون سازی کا اختیار پارلیمنٹ کو ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے پاس ایسے اختیارات ہیں جو دوسرے تمام اختیارات کو ختم کرسکتے ہیں۔

درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ ملک میں جنگ کی صورتحال نہیں تھی کہ بنیادی انسانی حقوق معطل کئے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایمرجنسی کے تحت انتخابات شفاف نہیں ہو سکتے۔

ظفراللہ خان نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ دہشت گردے کے واقعات پورے ملک میں نہیں بلکہ مخصوص علاقوں میں ہو رہے تھے اور اس کو بنیاد بنا کر پورے ملک میں ایمرجنسی نہیں لگائی جا سکتی۔

ان کے دلائل ختم ہونے کے بعد چیف آف آرمی کے وکیل شریف الدین پیرزادہ نے اپنے دلائل میں کہا کہ جب انیس سو ستتر میں مارشل لاء لگایا گیا تھا تو سپریم کورٹ نے اسے نصرت بھٹو کیس میں جائز قرار دیا تھا۔ انہوں نے کہا انیس سو پچاسی میں جب غیر جماعتی انتخابات ہوئے اسوقت بھی ملک میں مارشل لاء نافذ تھا اور ان اسمبلیوں نے ان تمام اقدامات کی تائید کی تھی اور آٹھویں ترمیم کی بھی منظوری دی تھی جس کے تحت صدر کو اسمبلیاں توڑنے کا اختیار دیا گیا تھا۔

News image
لال مسجد کے واقعے کے بعد سرگودھا میں ائیر فورس کی بس پر حملے تک ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں بہت ہورہی تھیں، ملک کو بچانے کے لیے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایمرجنسی ناگزیر تھی۔
شریف الدین پیرزادہ

صدر کے وکیل کا کہنا تھا کہ انیس سو اٹھاسی سے انیس سو ننانوے تک ملک میں عام انتخابات ہو رہے ہیں، اسمبلیاں معرضِ وجود میں آئیں اور ٹوٹ گئیں۔ انہوں نے کہا کہ سابق وزیرِ اعظم نے اٹھاون ٹو بی کا خاتمہ کردیا۔

شریف الدین پیرزادہ نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو جب ملک میں ایمرجنسی لگائی گئی صدر جنرل پرویز مشرف اس وقت آرمی چیف تھے اور سری لنکا کے دورے سے واپس آرہے تھے۔ ان کے جہاز کو ملک میں اترنے نہیں دیا گیا جس کی وجہ سے فوج میں خفگی پھیل گئی۔

انہوں نے کہا کے سابق وزیرِاعظم شوکت عزیز نے تین نومبر کو صدر کو خط لکھا تھا جس میں ملک میں امن و امان کی صورتحال کے بارے میں انہیں آگاہ کیا گیا تھا۔ شریف الدین پیر زادہ نے کہا کہ لال مسجد کے واقعے کے بعد سرگودھا میں ائیر فورس کی بس پر حملے تک ملک میں دہشت گردی کی وارداتیں بہت ہورہی تھیں، ملک کو بچانے کے لیے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ایمرجنسی ناگزیر تھی۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے کچھ ججوں نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا اور سپریم جوڈیشل کونسل کو غیر فعال بنا دیا۔ چیف آف آرمی سٹاف کے وکیل نے کہا کہ سپریم کورٹ کے تیرہ رکنی بینچ نے سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کے لیے مختصر حکمنامہ سنایا ہے جس پر بینچ کے سربراہ جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے استفسار کیا کہ کیا مختصر حکمنامہ فیصلہ نہیں ہے جس پر شریف الدین پیرزادہ نے کہا کہ اس حکمنامے کو فیصلہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آئین میں ایمرجنسی کے نفاذ کی گنجائش موجود ہے۔

شریف الدین پیرزادہ کے دلائل کے بعد اٹارنی جنرل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں ایمرجنسی کا نفاز ماورائے آئین اقدام ہے اور کوئی بھی اس سے خوش نہیں ہے۔تاہم ملک کی سالمیت کے لیے صدر کو یہ اقدام اُٹھانا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ ملک میں دہشت گردی کی وارداتوں میں اضافہ ہوتا رہا جس میں فوج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے علاوہ لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔

News image
 سپریم کورٹ نے کراچی میں ٹریفک کنٹرول کرنے اور سبزیوں اور پھلوں کے ریٹ کم کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کیں جبکہ یہ کام انتظامیہ کا ہے۔
ملک قیوم

ملک قیوم نے کہا کہ لال مسجد کے واقعہ میں شدت پسندوں نے ریاست کے اندر ریاست بنائی ہوئی تھی جس کی وجہ سے پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہوئی۔ اس کے علاوہ چینی باشندے اغوا کیے گئے جس سے ملک کی اقتصادی سرگرمیوں ماند پڑنے لگیں۔

چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ صوبائی حکومتیں دہشت گردی کی ان وارداتوں کو روکنے میں ناکام ہوچکی تھیں جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ صوبہ سرحد کی سابق حکومت نے وفاقی حکومت سے امن وامان کی صورت حال کو بہتر بنانے کے فوج کو طلب نہیں کیا تھا۔

اٹارنی جنرل نے کہا کہ عدلیہ نے انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کی۔ انہوں نے کہا کہ عدلیہ کا حدود سے تجاوز قابل قبول نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ایک سال کے دوران ایک سو سے زائد سوموٹو ایکشن لیے۔

انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے کراچی میں ٹریفک کنٹرول کرنے اور سبزیوں اور پھلوں کے ریٹ کم کرنے کے حوالے سے ہدایات جاری کیں جبکہ یہ کام انتظامیہ کا ہے۔

ملک قیوم نے کہا کہ عدلیہ کو عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنے چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ڈی جی ایف آئی اے کو عدالت میں طلب کیا اور کہا کہ اگر انہوں نے لاپتہ ہونے والے شخص قاری عبدالباسط کو بازیاب نہیں کروایا تو انہیں جیل جانا پڑے گا۔

ابھی ان کے دلائل جاری تھے کہ عدالت نے ان درخواستوں کی سماعت جمعرات تک کے لیے ملتوی کردی۔

پشاور ہائی کورٹ کے ’چیف جسٹس‘ طارق پرویز’حلف لینا غیر آئینی‘
سرحد کے برطرف شدہ چیف جسٹس کا موقف
ججوں کے سحر و شام
لوگ انکاری ججوں کے لیے پھول لاتے ہیں
عاصمہ جہانگیر’دہشتگردی کا ڈرامہ‘
مشرف دھوکا دے رہے ہیں: عاصمہ جہانگیر
لاٹھی چارج،گرفتاریاں
ملک بھر میں صحافیوں کے احتجاجی مظاہرے
وجیہہ الدین’3 نومبرکاشبِ خون‘
جج،جنرل آئین سے بغاوت کے مرتکب: وجیہہ الدین
بکھرتے ہوئے ادارے
پاکستان کے ریاستی ادارے بکھر رہے ہیں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد