جنرل اشفاق پرویز کیانی پاکستان فوج کے نئے سربراہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان فوج کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے بدھ کے روز راولپنڈی میں ایک تقریب میں فوج کی کمان جنرل اشفاق پرویز کیانی کے حوالے کر دی ہے۔ بدھ کی شب وزارت دفاع نے صدر جنرل پرویز مشرف کی ریٹائرمنٹ کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا ہے۔ اسلام آباد میں جاری اعلامیے کے مطابق جنرل پرویز مشرف اٹھائیس نومبر سے فوج سے ریٹائر تصور ہوں گے۔
اس سے قبل بدھ کی صبح جنرل ہیڈکواٹرز، راولپنڈی کے قریب ہاکی سٹیڈیم کے آسٹروٹرف پر منعقدہ تقریب میں جنرل مشرف نے کمان کی چھڑی جنرل اشفاق کیانی کے حوالے کی جس سے پاکستان فوج میں جنرل مشرف کا تقریباً چھیالیس سالہ عسکری کیرئر، جس میں نو برس بری فوج کے سپہ سالار کے طور پر خدمات بھی شامل ہیں، بالآخر اپنے اختتام کو پہنچ گیا۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل مشرف نے کہا کہ ملک کا وجود فوج کے بغیر ممکن نہیں تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ فوج اس وقت دباؤ میں ہے۔ فوج پر تنقید کرنے والوں کو مخاطب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ بھٹکے ہوئے عناصر ہیں جو نہیں سمجھتے کہ پاکستان کی سالمیت و ترقی میں فوج کا اہم ترین کردار ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ فوج ملک کو یکجہتی دینے والی طاقت ہے اور یہ ملک کو بچانے والی فورس ہے۔ ’جب بھی ملک کو اندرونی یا بیرونی خطرات کا سامنا ہوا ہے اس نے ڈٹ کر اس کا مقابلہ کیا ہے‘۔ اپنے افسران اور جوانوں کو مخاطب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں ملک و قوم کے لیے یہ خطرات و مشکلات برداشت کرنا ہوں گی۔ کمان کی تبدیلی کی تقریب میں فرنٹیئر فورس کے ایک دستے نے جنرل (ر) مشرف کو اعزازی گارڈ آف آنر پیش کیا۔ تقریب میں نگران وزیراعظم میاں محمد سومرو، وفاقی وزراء، تینوں افواج کے سربراہوں، بری فوج کے اعلیٰ اہلکاروں اور ان کے اہل خانہ کی ایک بڑی تعداد کے علاوہ غیرملکی سفارت کاروں نے بھی شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں جنرل مشرف نے کہا کہ اس وقت جذبات کی ترجمانی مشکل ہوتی ہے کیونکہ وہ فوج کو چھیالیس برسوں بعد الودع کہہ رہے ہیں۔’اس بات کا افسوس ہے کہ کل فوج کی کمان میں نہیں ہوں گا۔ یہ فوج میری زندگی ہے۔ یہ فوج میرا جنون ہے۔ اس فوج سے میں نے محبت کی ہے۔ یہ رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا لیکن میں وردی میں اب نہیں رہوں گا۔‘ اپنے طویل کیرئر پر نظر ڈالتے ہوئے جنرل مشرف نے کا کہنا تھا کہ اس میں انہوں نے دو جنگیں لڑیں، ڈیرہ بگتی اور کوہلو جیسے خطرناک مقامات پر فرائض انجام دیے، تیرہ ہزار فٹ کی بلندی پر سخت حالات میں ڈیوٹی دی بلکہ ’میں نے جوانوں کو اپنے بازوؤں میں شہید ہوتے دیکھا ہے۔‘ سبکدوش ہونے والے جنرل مشرف نے کہا کہ انہیں ناز ہے کہ انہوں نے دنیا کی بہترین فوج کی قیادت کی۔ ان کا دعوی تھا کہ وہ فوج کو بہترین حالت میں چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ ’ملکی تاریخ میں اتنی اچھی حالت میں فوج پہلے نہیں تھی۔‘ نئے فوجی سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ انہیں گزشتہ بیس برسوں سے جانتے ہیں۔ ’میں ان کا کمانڈر رہا ہوں اور ان کو کرنل کے وقت سے جانتا ہوں۔ وہ بہترین سپاہی ہیں اور مجھے امید ہے وہ فوج کو نئی بلندیوں کی جانب لے کر جائیں گے۔‘ انہوں نے فوجیوں سے کہا کہ انہیں امید ہے وہ جنرل کیانی کو اتنی ہی وفاداری دیں گے جتنی انہیں دی۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ جنرل کیانی کی رہنمائی کرے۔ فوج کے تقریباتی لباس اور میڈلز سینے پر سجائے، جنرل مشرف نے فوج کو دعا دیتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالی اسے مزید طاقتور بنائے۔ سرکاری ٹی وی نے اس تقریب کو براہ راست نشر کیا۔ فوجی دستے کے مارچ پاسٹ کے ساتھ ہی تقریباً ایک گھنٹے پر محیط یہ تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔ سویلین صدر کی حیثیت سے حلف اس خطاب میں توقع کی جا رہی ہے کہ وہ اپنے آئندہ پانچ برسوں کے پروگرام کے علاوہ ہنگامی حالت کے اٹھانے کے بارے میں بھی کوئی اعلان کریں گے۔ بطور سویلین صدر یہ ان کا قوم سے پہلا خطاب ہوگا۔ ادھر حزب اختلاف کی بڑی جماعت پیپلز پارٹی کی سربراہ بےنظیر بھٹو نے اسلام آباد آمد پر جنرل مشرف کی جانب سے وردی اتارنے کا خیرمقدم کیا ہے۔ تاہم ان کا نواز شریف کے بارے میں کہنا تھا کہ وہ ایک جانب انتخاب کے بائیکاٹ کی بات کر رہے ہیں لیکن دوسری جانب کاغذاتِ نامزدگی جمع کرا رہے ہیں۔ سابق حکمراں جماعت مسلم لیگ (ق) کے سربراہ شجاعت حسین کا کہنا ہے ہنگامی حالت عام انتخابات سے قبل اٹھا لی جائے گی۔ صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب تک جو لوگ یہ تاثر دیتے تھے کہ مسلم لیگ صدر کے کافی قریب ہے وہ جلد حقیقت سے آگاہ ہوجائیں گے۔
فوج میں کمیشن ملنے کے اگلے سال ہی بلا اجازت چھٹی لینے کی وجہ سے جس فوجی کمانڈو کو کورٹ مارشل کا سامنا ہوسکتا تھا وہ اتنا طویل اور واقعات سے بھرپور کیرئر گزارے گا اس کا شاید پرویز مشرف کو خود بھی اندازہ نہیں تھا۔ اپنے فوجی کیرئر کے دوران انہوں نے پینسٹھ اور اکہتر کی بھارت کے خلاف جنگوں میں حصہ لیا۔ انہیں انیس سو اکانوے میں بطور میجر جنرل جبکہ انیس سو پچانوے میں بطور لیفٹنٹ جنرل کے ترقی ملی۔ جنرل ہیڈکواٹرز میں ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز جیسے اہم عہدے کے علاوہ وہ دیگر کئی اہم عہدوں پر بھی فائز رہے۔ اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے انہیں کئی دیگر سینئر افسران پر فوقیت دیتے ہوئے اکتوبر انیس سو اٹھانوے میں بری فوج کا سربراہ مقرر کیا لیکن فوج کی کمان سنبھالنے کے بعد ان کا پہلا بڑا متنازعہ فیصلہ کارگل ثابت ہوا۔ وزیر اعظم نے بعد میں الزام لگایا کہ انہیں اندھیرے میں رکھ کر فوج نے یہ ’ایڈونچر‘ کیا۔ کارگل یقیناً پوری منصوبہ بندی سے ہوا ہو لیکن بارہ اکتوبر انیس سو ننانوے کو اقتدار پر قبضے کے بارے میں جنرل پرویز مشرف کہتے آئے ہیں کہ انہیں اس پر مجبور کیا گیا تھا اور اس کے لیے وہ بالکل تیار نہیں تھے۔ دسمبر دو ہزار تین میں ان پر دو قاتلانہ حملوں اور اس سال نو مارچ کے واقعات نے بھی انہیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کنارہ کشی اختیار کرنے پر مائل نہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک فوجی ہونے کے ناطے وہ جو مشن چنتے ہیں اسے پورا کرکے دم لیتے ہیں۔
اس برس سیاسی و قانونی مسائل میں بری طرح پھنسے ہوئے جنرل مشرف کی عوام میں ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوئی۔ لیکن وہ ڈٹے رہے۔ان کے خلاف ساٹھ برس کی عمر کو پہنچ کر بھی ریٹائر نہ ہونے اور سرکاری ملازم ہوتے ہوئے دوسرا عہدہ رکھنے پر سروس رولز اور قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کے الزامات عدالتوں میں اٹھائے گئے۔ لیکن گزشتہ پارلیمان کی جانب سے بیک وقت دو عہدے رکھنے کے قانون کی منظوری کو جواز بنا کر وہ ڈٹے رہے۔ بطور فوجی سربراہ ملک کے آئین کو دو مرتبہ معطل کرنے کا انوکھا اعزاز بھی انہیں کے حصے میں آیا ہے۔ بطور فوجی سربراہ انہوں نے گیارہ ستمبر کے امریکی حملوں کے بعد فوج کو پہلی مرتبہ ملک کی مغربی سرحد پر تعینات کیا جہاں وہ آج تک القاعدہ اور طالبان کے بڑھتے ہوئے اثر ورسوخ کو روکنے میں بظاہر ناکام رہی ہے۔ اب بات سوات تک آن پہنچی ہے۔ لیکن جنرل مشرف پھر بھی ڈٹے رہے۔ اس ڈٹے رہنے کی اصل وجہ ان کی پشت پر ان کی فوج تھی۔ ان کے فوجی کیرئر کے دوران ان کی جو بھی متنازعہ باتیں یا فیصلے ہوں اب وہ ماضی بن چکا ہے، لیکن ان کا بطور سویلین صدر آنے والا دور یقینا زیادہ پرپیچ، زیادہ تلخ اور زیادہ پُرخطر ثابت ہوگا۔ فوجی وردی نہ صرف ان کی کھال بلکہ ڈھال بھی تھی۔ اس کے بغیر وہ یقیناً کافی کمزور محسوس کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||