BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ڈیل کا موڈ نہیں

نواز شریف کا کہنا ہے برطرف عدلیہ کی بحالی پاکستان کی بقا کا مسئلہ ہے
سابق وزیراعظم نواز شریف نے اتوار کو اپنی آمد کے بعد مختلف مقامات پر مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کے دوران سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی ڈِیل کے نتیجے میں پاکستان نہیں آئے ہیں۔


اس کے علاوہ بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں سابق وزیرِ اعظم نے کھلے لفظوں میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ان کی پاکستان واپسی جنرل پرویز مشرف پر سعودی عرب کے دباؤ کے باعث ہوئی ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے۔

نواز شریف نے کہا’سعودی بادشاہ نے (جنرل مشرف سے ملاقات کے دوران) میرے لیے بہت مضبوط موقف اختیار کیا‘ اور یہ کہ ’مشرف تو نہیں چاہتے تھے کہ میں الیکشن سے پہلے آؤں‘۔ یہ انکشافات جہاں صدر پرویز مشرف کی کمزوری کی دلیل ہیں وہیں اس بات کا بھی عندیہ دیتے ہیں کہ نواز شریف نے کم از کم اپنی زبان بند رکھنے کی ڈِیل نہیں کی۔

انہوں نے وطن واپس آنے کے بعد یہ بات بھی کافی حد تک واضح کر دی ہے کہ ان کے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظر بھٹو کے درمیان اختلاف بدستور موجود ہے۔

گزشتہ دنوں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ٹیلیفون پر کئی بار طویل بات چیت ہوئی ہے لیکن بظاہر دونوں رہنما تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی پر متفق نہیں ہو سکے۔

نواز شریف کا یہ کہنا کہ ’ہم تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بات کر تے ہیں لیکن وہ اس کی بجائے عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں‘ کافی واضح اشارہ ہے کہ کم از کم عدلیہ کے معاملے پر اپوزیشن کے ان دونوں رہنماؤں کی راہیں جدا جدا ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس معاملے پر بہت کلیئر ہونا چاہیے‘۔

سابق وزیرِ اعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ تین نومبر سے پہلے والی صورتِ حال بحال کی جائے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انہیں کسی طور بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی موجودہ عدلیہ قبول نہیں، اور جو کچھ ہوا اسے ’رول بیک ہونا چاہیے۔‘

صدر پرویز مشرف نے حالیہ دنوں میں جس بات کو سب سے مؤثر انداز میں کہا ہے وہ یہ ہے کہ تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ ماضی کا قصہ بن چکی ہے اور پرانے ججوں کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔ لہذا نواز شریف کا یہ بیان جنرل پرویز مشرف کے لیے پریشانی کا باعث ہی بنے گا کیونکہ وہ اس معاملے کو اپنے طور پر ختم کر چکے ہیں۔


بینظیر بھٹو نے تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کے حق میں کچھ بیانات ضرور دیئے ہیں لیکن انہوں نے جسٹس افتخار چودھری اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ان کے دیگر برادر ججوں کی بحالی کا مطالبہ اتنی شدت سے نہیں کیا جتنا نواز شریف کر رہے ہیں۔

بینظیر بھٹو اس معاملے کو زیادہ اجاگر کرکے بظاہر جنرل مشرف کے لیے نئی مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتیں۔ لیکن مسلم لیگ نون کے سربراہ کا کہنا یہ ہے کہ پرانی عدلیہ کی بحالی کے مطالبے کا تعلق پاکستان کی سالمیت اور بقا سے ہے۔

دونوں رہنماؤں کی سوچ کا یہ فرق اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نواز شریف اپنے موقف کو اے پی ڈی ایم کے موقف سے الگ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔

اس کے علاوہ نواز شریف نے اپنے آبائی حلقےگوالمنڈی پہنچ کر میں جو خطاب کیا اس میں انہوں نے کہا کہ ’میرے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں کہ میں حکومت سے ڈیلِ کرتا پھروں۔‘

ظاہر ہے کہ نواز شریف کے اس جملے کی براہِ راست مخاطب بینظیر بھٹو ہیں جن پر کرپشن کے مقدمات ہیں اور انہوں نے حکومت سے مذاکرات اور ان مذاکرات کے نتیجے میں قومی مصالحتی آرڈینینس کے تحت کچھ سہولتیں حاصل کی ہیں۔

ابھی نواز شریف کو وطن واپس ہوئے چند گھنٹے ہی ہوئے ہیں اور انہی چند گھنٹوں کے دوران بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ کم از کم بینظیر بھٹو کے ساتھ کسی طرح کی ڈِیل کے موڈ میں نہیں ہیں۔

نواز شریف کا استقبال نواز شریف کا استقبال
نواز شریف کی واپسی پر کارکنوں کا جوش
نواز شریفنواز شریف کی واپسی
ڈیل نہیں تو رویوں میں تبدیلی کیسے آئی؟
نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
نواز لیگ کا سیز فائر
سعودی عرب کا حمایتی دھڑا جنگ جیت گیا
نواز شریفآخر کیا ہوا؟
اے پی ڈی ایم کے کارکن کہاں رہ گئے تھے
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
اسی بارے میں
مشرف سعودی دورے سے واپس
21 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی دوسری واپسی
09 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد