ڈیل کا موڈ نہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیراعظم نواز شریف نے اتوار کو اپنی آمد کے بعد مختلف مقامات پر مسلم لیگی کارکنوں سے خطاب کے دوران سب سے زیادہ اس بات پر زور دیا کہ وہ کسی ڈِیل کے نتیجے میں پاکستان نہیں آئے ہیں۔ اس کے علاوہ بی بی سی اردو سروس سے ایک انٹرویو میں سابق وزیرِ اعظم نے کھلے لفظوں میں یہ بھی کہہ دیا ہے کہ ان کی پاکستان واپسی جنرل پرویز مشرف پر سعودی عرب کے دباؤ کے باعث ہوئی ہے نہ کہ کسی اور وجہ سے۔ نواز شریف نے کہا’سعودی بادشاہ نے (جنرل مشرف سے ملاقات کے دوران) میرے لیے بہت مضبوط موقف اختیار کیا‘ اور یہ کہ ’مشرف تو نہیں چاہتے تھے کہ میں الیکشن سے پہلے آؤں‘۔ یہ انکشافات جہاں صدر پرویز مشرف کی کمزوری کی دلیل ہیں وہیں اس بات کا بھی عندیہ دیتے ہیں کہ نواز شریف نے کم از کم اپنی زبان بند رکھنے کی ڈِیل نہیں کی۔
انہوں نے وطن واپس آنے کے بعد یہ بات بھی کافی حد تک واضح کر دی ہے کہ ان کے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما بینظر بھٹو کے درمیان اختلاف بدستور موجود ہے۔ گزشتہ دنوں بینظیر بھٹو اور نواز شریف کے درمیان ٹیلیفون پر کئی بار طویل بات چیت ہوئی ہے لیکن بظاہر دونوں رہنما تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بحالی پر متفق نہیں ہو سکے۔ نواز شریف کا یہ کہنا کہ ’ہم تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کی بات کر تے ہیں لیکن وہ اس کی بجائے عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں‘ کافی واضح اشارہ ہے کہ کم از کم عدلیہ کے معاملے پر اپوزیشن کے ان دونوں رہنماؤں کی راہیں جدا جدا ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اس معاملے پر بہت کلیئر ہونا چاہیے‘۔ سابق وزیرِ اعظم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ تین نومبر سے پہلے والی صورتِ حال بحال کی جائے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ انہیں کسی طور بھی پی سی او کے تحت حلف اٹھانے والی موجودہ عدلیہ قبول نہیں، اور جو کچھ ہوا اسے ’رول بیک ہونا چاہیے۔‘ صدر پرویز مشرف نے حالیہ دنوں میں جس بات کو سب سے مؤثر انداز میں کہا ہے وہ یہ ہے کہ تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ ماضی کا قصہ بن چکی ہے اور پرانے ججوں کی بحالی کا کوئی امکان نہیں۔ لہذا نواز شریف کا یہ بیان جنرل پرویز مشرف کے لیے پریشانی کا باعث ہی بنے گا کیونکہ وہ اس معاملے کو اپنے طور پر ختم کر چکے ہیں۔
بینظیر بھٹو نے تین نومبر سے پہلے والی عدلیہ کے حق میں کچھ بیانات ضرور دیئے ہیں لیکن انہوں نے جسٹس افتخار چودھری اور پی سی او کے تحت حلف نہ اٹھانے والے ان کے دیگر برادر ججوں کی بحالی کا مطالبہ اتنی شدت سے نہیں کیا جتنا نواز شریف کر رہے ہیں۔ بینظیر بھٹو اس معاملے کو زیادہ اجاگر کرکے بظاہر جنرل مشرف کے لیے نئی مشکلات پیدا نہیں کرنا چاہتیں۔ لیکن مسلم لیگ نون کے سربراہ کا کہنا یہ ہے کہ پرانی عدلیہ کی بحالی کے مطالبے کا تعلق پاکستان کی سالمیت اور بقا سے ہے۔ دونوں رہنماؤں کی سوچ کا یہ فرق اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ نواز شریف اپنے موقف کو اے پی ڈی ایم کے موقف سے الگ کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ اس کے علاوہ نواز شریف نے اپنے آبائی حلقےگوالمنڈی پہنچ کر میں جو خطاب کیا اس میں انہوں نے کہا کہ ’میرے خلاف کرپشن کا کوئی مقدمہ نہیں کہ میں حکومت سے ڈیلِ کرتا پھروں۔‘ ظاہر ہے کہ نواز شریف کے اس جملے کی براہِ راست مخاطب بینظیر بھٹو ہیں جن پر کرپشن کے مقدمات ہیں اور انہوں نے حکومت سے مذاکرات اور ان مذاکرات کے نتیجے میں قومی مصالحتی آرڈینینس کے تحت کچھ سہولتیں حاصل کی ہیں۔ ابھی نواز شریف کو وطن واپس ہوئے چند گھنٹے ہی ہوئے ہیں اور انہی چند گھنٹوں کے دوران بظاہر یہی لگتا ہے کہ وہ کم از کم بینظیر بھٹو کے ساتھ کسی طرح کی ڈِیل کے موڈ میں نہیں ہیں۔ |
اسی بارے میں کوئی ڈیل وِیل نہیں، 3 نومبر سے پہلے والی عدلیہ بحال کی جائے: نواز شریف25 November, 2007 | پاکستان آج کاغذاتِ نامزدگی جمع کرائیں گے25 November, 2007 | پاکستان مشرف سعودی دورے سے واپس21 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نواز نامزدگی کی تیاری22 November, 2007 | پاکستان نواز کی واپسی آئندہ چند دن میں:ہاشمی23 November, 2007 | پاکستان APDM کی کال پر احتجاج، گرفتاریاں23 November, 2007 | پاکستان ’نواز شریف نومبر میں پھر واپس‘15 October, 2007 | پاکستان نواز شریف کی دوسری واپسی09 October, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||