BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 25 November, 2007, 21:17 GMT 02:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی ڈیل وِیل نہیں، 3 نومبر سے پہلے والی عدلیہ بحال کی جائے: نواز شریف

نواز شریف نے اس سال ستمبر میں بھی پاکستان آنے کی کوشش کی تھی لیکن انہیں واپس بھیج دیا گیا تھا

مسلم لیگ (ن) کے سربراہ اور پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سات برس سے زیادہ جلاوطنی کاٹنے کے بعد اتوار کی شام پاکستان پہنچے اور ایک بڑے جلوس کی قیادت کرتے ہوئے پاکستانی وقت کے مطابق صبح چار بجے اپنے آبائی حلقے گوالمنڈی پہنچ گئے۔ بعد میں یہ جلوس داتا دربار پہنچ کر ختم ہوگیا جس کے بعد نواز شریف رائے ونڈ روانہ ہو گئے۔

پاکستان میں اپنے پہلے خطاب میں انہوں نے کہا کہ وہ کوئی عہدہ لینے نہیں بلکہ ملک و قوم کی خاطر واپس آئے ہیں۔ ’ہم ڈیل ویل پر یقین نہیں رکھتے۔ ہم ڈیلوں والے لوگ نہیں ہیں ہماری رگوں میں پاکستانی خون دوڑ رہا ہے۔ہم نے کبھی سات دن ملک سے باہر نہیں گذارے تھے لیکن ملک و قوم کی خاطر سات برس جلاوطنی کاٹی اور ڈیل نہیں کی‘۔ان کے بقول اب پاکستان سے ڈیل ویل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا وقت آگیاہے۔

گوالمنڈی پہنچنے پر ان کا شاندار استقبال کیا گیا اور علاقے میں زبردست چراغاں اور آتش بازی کی گئی۔ اس موقع پر انہوں نے مختصر خطاب میں کہا کہ ’مجھ پر کوئی کرپشن کیس نہیں ہے کہ میں صدر مشرف سے ڈیل کرتا پھروں‘۔

بی بی سی اردو سروس سے گفتگو کرتے ہوئے نواز شریف نے مطالبہ کیا کہ تین نومبر سے پہلی والی عدلیہ بحال کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ یہ پاکستان کی سالمیت کا تقاضہ ہے۔ ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ ان کی پاکستان واپسی سعودی بادشاہ کے مضبوط موقف کی وجہ سے ہوئی ہے حالانکہ جنرل مشرف نہیں چاہتے تھے کہ ’میں الیکشن سے پہلے واپس آؤں‘۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ بات چیت ہوئی ہے لیکن عدلیہ کی بحالی کے مسئلے پر اختلافات موجود ہیں۔ ’ہم (برطرف) عدلیہ کی بحالی کی بات کرتے ہیں اور وہ عدلیہ کی آزادی کی بات کرتے ہیں‘۔

سابق وزیرِ اعظم کے ہمراہ وطن واپس آنے والوں میں ان کے بھائی اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف، نواز شریف کی اہلیہ کلثوم نواز ، داماد کیپٹن صفدر اور دیگر اہلخانہ بھی شامل ہیں۔

پولیس نے شہباز شریف کے خلاف قتل کے دائمی وارنٹ گرفتاری ہونے کے باوجود انہیں حراست میں نہیں لیا جبکہ دستخط شدہ جلاوطنی کے دس سالہ معاہدے کے باوجود مشرف حکومت نے ان کے راستے میں رکاوٹ نہیں ڈالی۔

میاں نواز شریف پاکستانی وقت کے مطابق تقریبا ساڑھے چھ بجے لاہور کے علامہ اقبال انٹر نیشنل ائر پورٹ سے باہر آئے ۔ان کے سینکڑوں پرستار مسلم لیگی کارکن سرکاری رکاوٹیں توڑتے اور پولیس سے ہاتھا پائی کرتے ہوئے لاؤنج تک پہنچ گئے۔

انہوں نے وزیر اعظم نوازشریف،’گومشرف گو ‘ کے نعرے لگائے اور میاں نواز شریف کو کندھوں پر اٹھا لیا۔

نواز شریف نے شدید دھکم پیل کے باوجود سیڑھیوں پر کھڑا ہوکر خطاب کیا جو مائیک نہ ہونے اور شور کی وجہ سے حاضرین تک نہ پہنچ سکا۔وہ نواز شریف کو ہاتھ ہلاتا دیکھ کر خوش ہوتے اور جب نواز شریف دونوں ہاتھوں کو سر سے اوپر اٹھا کر ملاتے تو مجمع زور دار نعرے لگاتا۔

نواز شریف نے لاہور میں کارکنوں سے اپنے پہلے خطاب میں کہا کہ وہ کوئی عہدہ لینے نہیں بلکہ ملک و قوم کی خاطر واپس آئے ہیں۔انہوں نے کہا اگر انہوں نے ڈیل ہی کرنا تھی تو وہ اپنے والد محمد شریف کی وفات کے موقع پر کرلیتے جب وہ اپنے والد کی تدفین میں بھی شرکت نہیں کرسکے تھے۔

کارکنوں نے میاں نواز شریف کے علاوہ شہباز شریف کو بھی کندھوں پر اٹھا یا لیکن نعرے صرف وزیر اعظم نواز شریف کے ہی لگائے۔

ادھر رکاوٹوں سے پرے مسلم لیگی کارکنوں تک جب یہ اطلاع پہنچی کہ نواز شریف ائر پورٹ سے باہر آگئے ہیں اور انہیں گرفتارنہیں کیا گیا تو شہر کے مختلف حصوں میں آتش بازی کی گئی اور مٹھائیاں تقسیم کی گئیں۔

نواز شریف اور ان کے بھائی شہباز شریف ائر پورٹ کے باہر ایک گاڑی پر چڑھے اور مسلم لیگی کارکنوں کو دیکھ کر ہاتھ ہلایا۔

اس موقع پر میاں شہباز شریف نے میگا فون پر وزیر اعظم نواز شریف اور قدم بڑھاؤ نواز شریف ہم تمہارے ساتھ ہیں کے نعرے۔نواز شریف کا جلوس ائر پورٹ سے روانہ ہوا تو رفتار انتہائی سست رہی۔اطلاعات کے مطابق یہ جلوس تین گھنٹوں میں محض پانچ کلومیٹر کا فاصلہ طے کر سکا ہے۔

آغاز میں ہی جلوس کے شرکاء کی تعداد کافی زیادہ تھی اور گاڑیوں کا کارواں ایک سے دو کلومیٹر لمبا تھا۔ جوں جوں جلوس بڑھتا چلا گیا شرکاء کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔

ہمارے نامہ نگار عبادالحق کے مطابق نوازشریف اور شہباز شریف ایک ٹرک پر سوار ہیں جہاں سے وہ سڑک کے دونوں جانب کھڑے لوگوں کے نعروں کا جواب دے رہے ہیں۔ ان کا استقبال کرنے والوں میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی موجود ہے۔

جوڑے پل پر جلوس کےشرکاء سے خطاب کرتے ہوئےنواز شریف نے کہا کہ وہ ڈیل ویل پر یقین نہیں رکھتے ان کےالفاظ تھے کے ’ڈیلوں والے لوگ نہیں ہیں ہماری رگوں میں پاکستانی خون دوڑ رہا ہے‘۔انہوں نے کہا کہ ’ہم نے کبھی سات دن ملک سے باہر نہیں گذارے تھے لیکن ملک و قوم کی خاطر سات برس جلاوطنی کاٹی اور ڈیل نہیں کی‘۔

انہوں نے کہا کہ ڈیل کرنا ہوتی تو چار پانچ برس پہلےکر سکتے تھے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ان کے بقول اب پاکستان سے ڈیل ویل کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کا وقت آگیاہے۔

اس سے قبل لاہور پہنچنے پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نواز شریف کا کہنا تھا کہ وہ ملک سے آمریت کا خاتمہ کرنے آئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی اور جمہوریت کو مضبوط کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ’ہمیں جمہوریت چاہیے، اور کچھ نہیں‘
اس سوال پر کہ کیا وہ صدر مشرف کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہیں، نواز شریف نے کہا کہ’ہمارا ایجنڈا ان سے مختلف ہے۔‘

انتخابات میں حصہ لینے کے بارے میں نواز شریف نے کہا کہ اس بارے میں حتمی فیصلہ اے پی ڈی ایم میں شامل دوسری جماعتوں سے صلاح مشورہ کے بعد ہی کیا جائے گا۔

اس سے قبل میاں نواز شریف کے ترجمان نے دعوٰی کیا تھا کہ حکومت شریف خاندان کے استقبال کے لیے جانے والوں کی راہ میں رکاوٹیں پیدا کر رہی ہے۔ ترجمان زعیم قادری نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ مسلم لیگ (ن) کے ہزاروں کارکنان کو حراست میں لیا گیا ہے اور صرف لاہور سے مسلم لیگ (ن) کے سات سو کارکن گرفتار کر لیے گئے ہیں۔

نواز شریف کا جلوس استقبالیہ جلوس رینجرز ہیڈ کواٹر، دھرم پورہ، ریلوے سٹیشن سے ہوتا ہوا داتا دربار جارہا ہے۔راستے میں جگہ جلوس پر گل پاشی ہورہی ہے۔نوجوان بھنگڑا ڈال رہے ہیں خوشی کے ڈھول بجائے جارہے ہیں اور لاہور کےمسلم لیگی اسے ایک میلے کی طرح منا رہے ہیں۔

نواز شریف کے قافلے نے داتا دربار جانے سے پہلے گوالمنڈی سے گزرنا ہے جہاں ان کا پرانا آبائی گھر ہے۔گوالمنڈی کے بعض علاقوں میں جشن کا سا سماں ہے اور مسلم لیگی کارکنوں نے علاقے کو مسلم لیگی جھنڈوں،خیر مقدمی پوسٹروں، بینروں سے سجا دیا ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹوں اور خود مسلم لیگی رہنماؤں کے مطابق سعودی فرماں روا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے پاکستان واپسی کے لیے نوازشریف کو اپنا خصوصی طیارہ دیا اور ایک دوسری خصوصی پرواز سے پہلے ہی ان کے لیے ایک بلٹ پروف گاڑی لاہور کے ہوائی اڈے پر پہنچا دی گئی تھی۔

اطلاعات کے مطابق یہ گاڑی نواز شریف کو شاہ عبداللہ نے تحفے میں دی ہے۔یہ کالی گاڑی سارا وقت ائرپورٹ کے سامنے کھڑی رہی لیکن نواز شریف یا ان کے گھر کے کسی فرد نے اسے استعمال نہیں کیا۔

ادھر نوازشریف کے ماڈل ٹاؤن میں ان کےاس گھر کو خالی کروالیا گیاہے جو ان کی جلاوطنی کے بعد حکومت پنجاب نے اپنے قبضے میں لے لیا تھا۔اس عمارت میں بے سہارا بوڑھے لوگوں اور خواتین کو رکھا گیا تھا اور ایک ووکیشنل انسٹی ٹیوٹ قائم تھا۔ یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ گھر شریف خاندان کو واپس کیا جارہا ہے یا نہیں۔حمزہ شہباز نے اس گھر کے خالی کرائے جانے سے لاعلمی ظاہر کی ہے۔

نواز شریف کی اہلیہ،ان کے داماد،سمدھی اور دیگر اہلخانہ رائے ونڈ میں اپنی رہائش گاہ پر پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے سب سے پہلے میاں شریف کی قبر پر فاتحہ خوانی کی۔

مشرف’ٹوئنی ٹوئنٹی‘
’صدر کےمستقبل پرلگے سوالیہ نشان مزید نمایاں‘
نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
کلثوم کا عزم
سیاست میں آنا خواہش نہیں مجبوری
نواز لیگ کا سیز فائر
سعودی عرب کا حمایتی دھڑا جنگ جیت گیا
نواز شریفآخر کیا ہوا؟
اے پی ڈی ایم کے کارکن کہاں رہ گئے تھے
نواز شریف’آئین سے متصادم‘
نواز شریف کی ملک بدری پر عالمی تشویش
نواز جلاوطنی پر احتجاجنواز ملک بدری
یوم سیاہ اور احتجاج کی تصویری جھلکیاں
اسی بارے میں
مشرف سعودی دورے سے واپس
21 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی دوسری واپسی
09 October, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد