BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 November, 2007, 17:10 GMT 22:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نواز کی واپسی آئندہ چند دن میں:ہاشمی

جاوید ہاشمی
نواز شریف اور ڈیل دو متضاد چیزیں ہیں:جاوید ہاشمی
پاکستان مسلم لیگ نواز کے قائم مقام صدر جاوید ہاشمی نے کہا ہے کہ ان کی پارٹی کے سربراہ نواز شریف آئندہ چند ایک دنوں میں پاکستان میں ہوں گے۔

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میاں نواز شریف جدہ سے ریاض پہنچ چکے ہیں جہاں ان کی سعودی فرمان روا شاہ عبدالعزیز سے رات کے کھانے پر خصوصی ملاقات ہو رہی ہے۔

مسلم لیگی رہنما جاوید ہاشمی نے کسی بھی ڈیل کو خارج ازامکان قرار دیا ہے اور کہا ہے نواز شریف اور ڈیل دو متضاد چیزیں ہیں۔انہوں نے کہا کہ معاملہ صرف سعودی فرماں روا اور نواز شریف کے درمیان ہے۔

جاوید ہاشمی نے سعودی شاہ اور نواز شریف کی ملاقات کو اہم قرار دیا اور کہا کہ پاکستان کے عوام جلد میاں نواز شریف کو اپنے درمیان پائیں گے۔ پاکستان مسلم لیگ کے ترجمان احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کی آمد کا باضابطہ اعلان کسی بھی وقت ہوسکتا ہے۔

جمعہ کو مسلم لیگ نواز کے زیر اہتمام لاہوری گیٹ کے باہر ہونے والے ایک احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ نواز شریف آئندہ بہتر گھنٹوں کے اندر پاکستان میں ہونگے۔

پاکستان کے قومی اخبارات میں نواز شریف کے علاوہ ان کی اہلیہ کلثوم نواز اور شہباز شریف کی متوقع پاکستان آمد کے بارے میں خبریں شائع ہورہی ہیں۔

 سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ نواز شریف کی پاکستان آمد صدر مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ قاف پر اثر انداز ہوگی۔ مسلم لیگ (ق) زیادہ تو نواز شریف کے سابق ساتھیوں پر مشتمل ہے اور ان کی پاکستان میں موجودگی کی صورت میں وہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے لیے نوازشریف سے رابطہ کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب کا وہ پیپلز پارٹی مخالف ووٹ بھی جو مسلم لیگ (ق( کو ملنے کی امید تھی وہ بھی نہیں مل پائے گا۔

سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کے حالیہ دورہ سعودی عرب کے دوران سعودی حکام سے نوازشریف کی واپسی کے حوالے سے کوئی نہ کوئی بات ضرور ہوئی ہوگی۔ مسلم لیگ نواز کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف نے نواز کو روکے رکھنے کے لیے کہا ہوگا جبکہ حکمران مسلم لیگ کے صدر چودھری شجاعت حسین نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں کہا ہےکہ میاں نواز شریف ایک ڈیل کی صورت میں واپس آرہے ہیں۔

یہ ڈیل انہیں انتخابات کے بائیکاٹ سے باز رکھنے کے لیے بھی ہوسکتی ہے اور ان کی چھبیس نومبر سے پہلے آمد کو روکنے کے لیے بھی ہوسکتی ہے۔ چھبیس نومبر پاکستان میں کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی آخری تاریخ ہے اور الیکشن کمشن کےوضع کردہ اصول و ضوابط کے تحت کاغذات نامزدگی جمع کرانا ضروری ہے۔

نواز شریف اگر چھبیس نومبر سے پہلے نہ لوٹ سکے تو ان انتخابات میں حصہ نہیں لے سکیں گے البتہ ضمنی انتخاب میں حصہ لینے کا آپشن موجود رہے گا۔ مقامی مسلم لیگی رہنماؤں نے ان کے علاوہ شہباز شریف،بیگم کلثوم نوازاورحمزہ شہباز کے کاغذات نامزدگی حاصل کیے ہیں۔سیاسی مبصرین کا قیاس ہے کہ کم از کم شہباز شریف اور کلثوم نواز کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کا موقع مل سکتا ہے۔

اس سے پہلے نواز شریف نے کہا تھا کہ صدر جنرل مشرف کی جانب سے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی گئی تھی جو انہوں نے مسترد کر دی تھی اور مسلم لیگ کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ابھی الیکشن کے بائیکاٹ کےبارے میں فیصلہ ہونا باقی ہے جو آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس کے پلیٹ فارم پر کیا جائے گا۔

پاکستان میں عام انتخابات کا اعلان ہوچکا ہے اور نواز شریف کی پاکستان آمد سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر مشرف کی حمایت یافتہ مسلم لیگ قاف پر اثر انداز ہوگی۔ مسلم لیگ (ق) زیادہ تو نواز شریف کے سابق ساتھیوں پر مشتمل ہے اور ان کی پاکستان میں موجودگی کی صورت میں وہ مسلم لیگ (ن) میں شمولیت کے لیے نوازشریف سے رابطہ کرسکتے ہیں۔اس کے علاوہ پنجاب کا وہ پیپلز پارٹی مخالف ووٹ بھی جو مسلم لیگ (ق( کو ملنے کی امید تھی وہ بھی نہیں مل پائے گا۔

نوازملنے کا ارادہ نہیں
جنرل مشرف سے ملاقات کا کوئی فائدہ نہیں:نواز
اسی بارے میں
مشرف سعودی دورے سے واپس
21 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد