BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 23 November, 2007, 12:24 GMT 17:24 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
APDM کی کال پر احتجاج، گرفتاریاں

احتجاج، گرفتاریاں
احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا گیا
ملک میں آمریت اور آئین کی معطلی کے خلاف آل پارٹیزدیموکریٹک موومنٹ کے کال پر جمعہ کے روز مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق پولیس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے احتجاجی مظاہروں میں شرکت کرنے والے درجنوں افراد کو گرفتار کر لیا۔

کوئٹہ میں پولیس کی دوڑیں

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین کے مطابق پولیس نے سترہ سے زیادہ افراد گرفتارکیے ہیں جبکہ کوئٹہ میں مظاہرین نے شہرکے مختلف مقامات پرٹائرنذرآتش کرکے پولیس کی دوڑیں لگوادیں۔

کوئٹہ میں اے پی ڈی ایم کے کارکنوں نے جمعہ کے روز صرف ایک گھنٹے میں شہرکے پچیس سے زیاد ہ مقامات پرچھوٹے چھوٹے ٹولیوں کی صورت میں وقفے وقفے سے ٹائروں کونذرآتش کیا۔ اس دوران پو لیس کے ساتھ ساتھ صحافیوں کی بھی دوڑیں لگی رہی کیونکہ ایک جگہ آگ لگنے کے بعد دوسری جگہ سے ٹائرجلنے کی اطلاع ملتی تھی جس کے بعد پولیس کی گاڑیاں وہاں روانہ ہوجاتی تھیں۔

کوئٹہ میں حزب اختلاف کی اس نئی حکمت عملی کے تحت یہ مظاہرین سڑک پرآگ لگانے کے فورا بعدجنرل پرویزمشرف کے خلاف روایتی نعرہ بازی کیے بغیررپوش ہو جاتے تھے یاپھر سڑک کے کنارے کھڑے ہوکرپولیس کی آمد کاانتظارکرتے ہوئے صحافیوں کوایک اورجگہ پرمظاہرین کی جانب سے ٹائرنذرآتش کرنے کے واقع کی اطلاع دیتے تھے۔

کوئٹہ کے اس انوکھی احتجاج کے دوران دکانیں کھلی رہی اورکسی کوکوئی نقصان نہیں پہنچا تاہم ایسالگ رہاتھا کہ جیساپورے شہرمیں آگ لگی ہے کیونکہ ہرطرف نے دھواں اٹھ رہاتھا۔

اس طرح کوشش کے باوجود پولیس کودن بھر کو ئٹہ شہر اورژوب سے صرف سترہ افراد گرفتارکرنے میں کامیابی ملی جن میں سائنس کالج ہاسٹل سے گرفتارہونے والے دس طلبہ بھی شامل ہیں۔

ڈی آئی جی کوئٹہ کے مطابق حکومت نے اس موقع پرکسی ناخوشگوارواقعہ سے نمٹنے کیلئے سخت حفاظتی انتطامات کیے تھے کیونکہ دفعہ ایک سو چوالیس کے نفاذ کے بعد کسی کوبھی کوئٹہ شہرمیں احتجاج کرنے کاحق نہیں ہے۔

دوسری جانب صوبے کے دوسرے بڑے شہروں ژوب قلعہ سیف اللہ پشین لورالائی خضدار مستونگ چمن تربت اورنوشکی میں بھی مظاہرے ہوئے ہیں ان مظاہروں میں پشتونخواملکی عوامی پارٹی، بلوچستان نیشنل پارٹی، عوامی نیشنل پارٹی، جماعت اسلامی اورنیشنل پارٹی کے کارکن زیادہ موثرکرداراداکررہے تھے کیونکہ اے پی ڈی ایم کے اتحادی جماعت جمعیت علما ءاسلام نے اس احتجاج سے لاتعلقی اختیارکر رکھی ہے۔

کراچی میں گرفتاریاں

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے نامہ نگار میں شہر کے مرکزی علاقے ایمپریس مارکیٹ پر احتجاجی مظاہرے کا اعلان کیا گیا تھا، اس احتجاج میں شریک ہونے کے لیے سب سے پہلے قوم پرست جماعت عوامی تحریک کے مرد اور خواتین کارکن سب سے پہلے پہنچے پولیس نے گھیراؤ کرکے ان پر لاٹھیاں برسائیں اور بیس سے زائد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

اس دوران پولیس اور خواتن میں جھڑپیں بھی ہوئیں، عصر کے نماز کے بعد جماعت اسلامی کے کارکن نعرے لگاتے ہوئے ایمپریس مارکیٹ پہنچے تو پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا گرفتاریوں کا یہ سلسلہ سورج غروب ہونے تک جاری رہا۔ اس دوران پولیس نے عوامی تحریک، جماعت اسلامی، پشتون خواہ ملی عوامی پارٹی ، سندھ ترقی پسند پارٹی اور عوامی نینشل پارٹی کے ساٹھ سے زائد کارکن گرفتار کرلیا۔

اس مظاہرے میں شریک عوامی تحریک کی ایک رہنما سعیدہ گوپانگ کا کہنا تھا کہ وہ عدلیہ اور میڈیا کی آزادی اور آئین کی بحالی کے لیے احتجاج کر رہے تھے جس پر پولیس نے لاٹھیاں برسائی ہیں۔پولیس نے اس دوران سڑک پر موجود کئی باریش افراد کو بھی حراست میں لےلیا جو کہتے رہے کہ ان کا احتجاج سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

جمیعت علمائے اسلام کی لاتعلقی

پشاور سے ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد میں وکلاء نے پلی بار پشاور ہائی کورٹ کی عمارت سے باہر نکل کر اے پی ڈی ایم کے کارکنوں کے ساتھ مل کر احتجاجی مظاہرہ کیا جس میں تقریباً پانچ سو افراد نے شرکت کی۔

اس موقع پر اقبال ظفر جھگڑا، حاجی غلام احمد بلور، عبدالطیف آفریدی سمیت متعدد سیاسی رہنماؤں نے خطاب کیا۔

پاکستان مسلم لیگ نواز کے سیکریٹری جنرل اقبال ظفر جھگڑا نے الزام لگایا کہ جنوری میں ہونے والے انتخابات سے پہلے ہی حکومت نے جیتنے اور ہارنے والے امیدواروں کی فہرستیں بنانی شروع کر دی ہیں۔ لہذا، انہوں نے کہا، یہ الیکشن نہیں بلکہ سلیکشن ہے۔

پشاور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر عبدالطیف آفریدی نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو شرکت کرنے یا نہ کرنے کے مخمصے سے نکل کر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا اعلان کرنا چاہیے۔

اے پی ڈی ایم کا حصہ ہونے کے باوجود جمیعت علمائے اسلام نے احتجاجی مظاہرے میں شرکت نہیں کی۔

لاہور میں حکومت مخالف نعرہ بازی

لاہور میں تین مقامات پر احتجاجی مظاہرے ہوئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی کی گئی۔

نامہ نگار علی سلمان کےمطابق مسلم لیگ نواز کے زیر اہتمام لاہوری گیٹ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ ہوا۔چند درجن کارکن حال ہی میں رہا ہونے والے مسلم لیگی رہنما خواجہ سعد رفیق، سابق رکن قومی اسمبلی ملک پرویز، سردار ایاز صادق اور رانا مشہود کی سربراہی میں سڑک پرآئے اور گو مشرف گو سمیت حکومت مخالف نعرے بازی کی اس کے علاوہ وہ ’وزیر اعظم نواز شریف اور پاکستان کی مجبوری ہے نواز شریف ضروری ہے،پاکستان بچانا ہے نواز شریف کو لانا ہے‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔

جماعت اسلامی نے ہنجروال کے نزدیک ملتان روڈ پر اور اسلامی جمعیت طلبہ کے کارکنوں نے اسلامیہ کالج کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا۔

راجہ ظفر الحق (فائل فوٹو)ملک گیر احتجاج
الیکشن بائیکاٹ موخر،احتجاج کی کال
مولانا فضل الرحمٰن اپوزیشن مخمصے میں
انتخابات بائیکاٹ، اپوزیشن کی سوچ بچار
قاضی حسین احمدالیکشن لڑیں یا نہ؟
بائیکاٹ کے حوالے سے سیاسی مشورے
بینظیر بھٹوانتخابات میں شرکت
بینظیر کے اعلان سے سیاست میں ہلچل
عمران خان’بائیکاٹ ہونا چاہیے‘
انتخابات سے پاکستان میں انتشار بڑھے گا
سپریم کورٹاغوا کنندہ کا اعلان
آئینی رکاوٹ پر ایک شکستہ پل باندھ دیا گیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد