بائیکاٹ: دھمکی بھی، شرکت بھی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے آٹھ جنوری کے مجوزہ عام انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی داخل کرانے سے جہاں متنازعہ انتخابی عمل کو بظاہر تقویت ملے گی وہاں ملک میں انتخابات کی باضابطہ تیاریوں کا بھی آغاز ہوجائے گا۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ جب ملک کی بیشتر حزب مخالف کی جماعتیں انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں ایسے میں پیپلز پارٹی کی جانب سے انتخابی عمل کا حصہ بننے کے اعلان سے انہیں لگتا ہے کہ یقیناً بینظیر بھٹو نے یہ فیصلہ کسی اہم قوت کی ضمانت پر ہی کیا ہوگا۔ پیپلز پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکہ اور برطانیہ کے سفارتی حلقوں کی جانب سے بینظیر بھٹو کو یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ چند روز میں صدر جنرل پرویز مشرف فوجی عہدہ چھوڑنے والے ہیں اور ایسا ہونے سے صورتحال خاصی تبدیل ہوجائے گی۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بیس نومبر کو کراچی میں ہونے والے پیپلز پارٹی کے اجلاس کے فیصلے دو روز کی تاخیر سے جاری کرتے ہوئے بینظیربھٹو نے اپنے امیدواروں کو کاغذات نامزدگی جمع کرانے کی اجازت دی ہے۔ لیکن اس بارے میں پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر کہتے ہیں کہ پیپلز پارٹی نے یہ فیصلہ ملکی حالات کو مد نظر رکھ کر کیا ہے۔ ان کے مطابق کاغذات نامزدگی داخل کرانے کے فیصلے پر بینظیر بھٹو نے میاں نواز شریف، محمود خان اچکزئی، اسفند یار ولی اور دیگر کو اعتماد میں لیا ہے۔ فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ انتخابات کے بائیکاٹ کے بہت سارے مضمرات بھی ہیں۔ انہوں نے مثال دی کہ اگر مسٹر اے مشترکہ پلیٹ فارم پر بائیکاٹ کا فیصلہ کر بھی لے لیکن ان کی جماعت کے لوگ انتخاب میں حصہ بھی لیں اور مسٹر اے کہیں کہ انہوں نے متعقلہ لوگوں کو پارٹی سے نکال دیا ہے اور کل کلاں وہ ان ہی کے ووٹوں پر وزیراعظم بن جائیں تو ایسے میں بائیکاٹ کرنے والی جماعتوں کا کیا بنے گا؟ پارٹی کے ترجمان کے خدشات اپنی جگہ لیکن جس طرح انہوں نے انتخابی عمل کا حصہ بننے کا کارڈ کھیلا ہے اس نے دیگر سیاسی جماعتوں کے پاس بھی بینظیر بھٹو کے طریقے پر عمل کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں چھوڑا۔ اور تو اور انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی سب سے زیادہ باتیں کرنے والے عمران خان نے بھی کوارٹر صفحے کے رنگین اشتہارات جاری کرکے وکلاء اور سول سوسائٹی کے کارکنوں سے اپنی جماعت کے ٹکٹ پر انتخاب لڑنے کی اپیل کر دی ہے۔
ماضی میں جس طرح متحدہ مجلس عمل کے رہنما مستعفی ہونے کی تاریخیں دیتے رہے اور عین وقت پر اپنا فیصلہ تبدیل کرتے رہے ایسے میں پیپلز پارٹی جیسی جماعت ان پر مکمل بھروسہ نہیں کرسکتی۔ اب تو صدارتی انتخابات میں جس طرح فضل الرحمٰن نے ’آل پارٹیز ڈیمو کریٹک الائنس‘ کے ساتھ جو کچھ کیا اس کے بعد تو نواز شریف ، اچکزئی اور اسفند یار ولی بھی مذہبی جماعتوں کے اتحاد کے بارے میں سخت تحفظات رکھتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں میں بد اعتمادی کی وجہ سے کوئی مشترکہ لائحہ عمل تشکیل نہ پانے کا فائدہ فی الوقت جنرل پرویز مشرف کو ہی پہنچ رہا ہے۔ لیکن انتخابات سے پہلے جنرل مشرف نے وردی اتار دی تو اس ساری صورتحال کا زیادہ فائدہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف کو شاید نہ مل پائے۔ باوجود اس کے کہ جنرل پرویز مشرف کا دعویٰ ہے کہ وہ فوجی وردی میں ہوں یا نہیں فوج ان کے ساتھ رہے گی، بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ خود کو فیلڈ مارشل کہنے والے فوجی صدر ایوب خان نے بھی جب یحیٰ خان جیسے رنگین مزاج و خوش دل نائب کو آرمی چیف بنایا تھا تو اگلے ہی روز سے انہوں نے اپنی مرضی چلانا شروع کردی تھی۔ | اسی بارے میں ’اب مشرف سے مذاکرات نہیں‘19 November, 2007 | پاکستان شفاف انتخابات کی امید نہیں:بینظیر21 November, 2007 | پاکستان نہ بےنظیر، نہ شریف برادران: مشرف18 December, 2004 | صفحۂ اول ’بینظیر مشرف ڈیل ملک کے خلاف‘ 28 July, 2007 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||