BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بینظیر مشرف ڈیل ملک کے خلاف‘

قاضی حسین احمد اور فضل الرحمان
قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ بینظیر نے اپنے جماعت سے بھی دھوکہ کیا ہے
مذہبی جماعتوں کے اتحاد متحدہ مجلس عمل نے صدر پرویز مشرف اور پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو کے درمیان کسی بھی ڈیل کو رد کردیا ہے اور اسے ملک اور فوج کے مفادات کے خلاف قرار دیا ہے۔

متحدہ مجلس عمل کے سربراہ قاضی حسین احمد نے سنیچر کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر مشرف اور بینظیر بھٹو کی ملاقات سے پوری دنیا آگاہ ہوچکی ہے مگر ان لوگوں سے یہ حقائق چھپائے جارہے ہیں جن کی وہ نمائندگی کے دعویٰ کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلز پارٹی اور مشرف کے درمیان جو بھی ملاقات ہوئی ہے وہ اس کو نامنظور کرتے ہیں اور اسے ملک اور فوج کے مفادات کے خلاف سمجھتے ہیں کیونکہ یہ ملک کے مسائل کا حل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدر پرویز مشرف اپنی ہر تقریر میں بینظیر بھٹو کو کرپشن میں ملوث قرار دیتے رہے ہیں اور بینظیر فوج پر تنقید کرتی رہی ہیں مگر اب دونوں یکجا ہو رہے ہیں۔

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ بینظیر نے اپنے جماعت سے بھی دھوکہ کیا ہے کیونکہ وہ کہتی رہی ہیں کہ صدر کو باوردی قبول نہیں کیا جائیگا اور وہ کوئی ڈیل نہیں کریں گی اب انہوں نے جماعت کو ملاقات کے بارے میں بھی اعتماد میں نہیں لیا ہے۔

قاضی حسین احمد نے الزام عائد کیا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ کی مدد سے پیچھے کے دروازے سے اقتدار میں آنے کی کوشش کر رہی ہے

ان کا کہنا تھا کہ جب تک سیاستدان اس پر اتفاق نہیں کرتے کہ امریکہ اور فوج دونوں کے کردار کو منفی کرکے عوام کے ذریعے اقتدار میں آنے کا راستہ نہیں نکالتے فوج اور امریکہ کی مداخلت جاری رہے گی۔

بینظیر کا آمریت سے معاہدہ تھا
 کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ابو ظہبی میں خفیہ طریقے سے صدر مشرف اور بے نظیر بھٹو نے جو ملاقات کی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ بے نظیر بھٹو نے آمریت سے بہت پہلے ہی معاہدہ کر رکھا تھا

انہوں نے کہا کہ امریکہ کا یہ کہنا ہے کہ وہ پاکستان کی حدود میں القاعدہ کو ٹارگیٹ کریں گے جو کہ قومی خودمختاری اور سالمیت پر وار ہے جس وجہ سے سرحد بلوچستان اور قبائلی علاقے غیرمحفوظ ہوگئے ہیں عوام کو ایک طرف سے پاکستانی فوج مارے گی اور دورسی طرف سے نیٹو کی فوج مارے گی اور ملک میدان جنگ بن جائیگا۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سالمیت بچانے کے لئے عوام کا فرض ہے کہ وہ مشرف بینظیر ڈیل اور امریکہ کے اتحاد کو مسترد کریں اور اس کے خلاف میدان میں نکل کر احتجاج کریں۔

قاضی حسین احمد کا کہنا تھا کہ لال مسجد واقعے کو لوگ بھولے نہیں ہیں یہ زخم ابھی تازہ ہے اس کے نتیجے میں پاک فوج اپنا احترام کھوچکی ہے۔

ان کے مطابق قبائلی علاقوں اور بلوچستان میں جو اثرات ظاہر ہو رہے ہیں وہ صدر مشرف کی پالیسی کا نتیجہ اور رد عمل ہیں، ان تمام مسائل کا حل یہ ہے کہ صدر مشرف مستعفی ہوجائیں۔

کوئٹہ سے ایوب ترین: قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف متحدہ مجلس عمل کے سیکرٹری جنرل اور جے یو آئی (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ صدر مشرف اور بے نظیر کی خفیہ ملاقات کی کوئی اہمیت نہیں۔

محترمہ نے آمریت سے بہت پہلے ہی معاہدہ کر رکھا تھا، پیپلزپارٹی ایک آمر جماعت ہے اس لئے صدر مشرف سے ان کی انڈرسٹینڈنگ سو فیصد ممکن ہے، بیرون ملک فوجی چھتری تلے معاہدوں کو عوام کسی صورت تسلیم نہیں کرینگے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے لورالائی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ابو ظہبی میں خفیہ طریقے سے صدر مشرف اور بے نظیر بھٹو نے جو ملاقات کی ہے اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے کیونکہ بے نظیر بھٹو نے آمریت سے بہت پہلے ہی معاہدہ کر رکھا تھا صرف اپنی سیاسی ساکھ اور عوام میں ان کی اہمیت کو کم ہونے سے بچانے کیلئے انہوں نے معاہدہ کو پوشیدہ رکھا۔

انہوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے نواز شریف کو بھی دھوکہ دیا محض ایک ایشو کے بناءپر لندن میں میثاق جمہوریت معاہدے پر دستخط کئے۔

سب جھوٹ ہے
 صدر مشرف نے سن انیس سو ننانوے میں جب اقتدار سنبھالا تو انہوں نے کہا تھا کہ ملک کو چالیس ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے اور آج وہ کہہ رہے ہیں کہ کا خزانہ بھرا پڑا ہے جو کہ سب جھوٹ ہے

جمعیت علماءاسلام کے ا میر نے کہا کہ ایم ایم اے کی پالیسیاں عوام کی صحیح ترجمانی کر رہی ہیں۔ ’ہماری پالیسیاں موسم کے اعتبار سے نہیں بدلتیں۔ ہم ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر پالیساں بناتے ہیں۔ جس میں ملک اسلام اور عوام سر فہرست ہوتے ہیں۔‘

انہوں نے کہا کہ عسکری قوتیں انتہا پسند اور بنیاد پرستی کے طعنے دیکر ہمیں اشتعال دلانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ ’مگر ہمارے پاس کوئی اسلحہ اور فوج نہیں ہے جس سے ہم لڑ سکیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے مغرب سمیت تمام مسلم ممالک کو اپنے دلائل کی بنیاد پر سمجھانے کی جو کوششیں کی ہیں اس سے ہمیں بہت بڑی کامیابی ملی ہے ۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات ٹھیک نہیں عوام کی جان و مال محفوظ نہیں ہے۔ صدر مشرف نے سن انیس سو ننانوے میں جب اقتدار سنبھالا تو انہوں نے کہا تھا کہ ملک کو چالیس ارب ڈالر خسارے کا سامنا ہے اور آج وہ کہہ رہے ہیں کہ کا خزانہ بھرا پڑا ہے جو کہ سب جھوٹ ہے، آج بھی نوجوان طبقہ بے روز گار ہے عوام پر ہر طرح سے معاشی بوجھ ڈالا جارہا ہے یہ لوگ بیرون ملک بھاگ رہے ہیں یا پھر خود کشیاں کررہے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد