’اب مشرف سے مذاکرات نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلزپارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو نے کہا ہے کہ وہ جنرل پرویز مشرف سے بات چیت کے بعد اب اس عمل کو دہرانے کا ارادہ نہیں رکھتیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کو امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن سے ملاقات کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی۔ امریکی سفیر نے بینظیر بھٹو سے بلاول ہاؤس میں ملاقات کی اور ملکی اور بین الاقوامی امور پر تبادلۂ خیال کیا جس میں ملک میں ایمرجنسی کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال بھی زیرِغور آئی۔ بینظیر بھٹو نے کہا کہ ’ہم جمہوریت کے روڈ میپ پر یقین رکھتے ہیں لیکن ہمیں یہ یقین نہیں کہ جنرل مشرف یہ روڈ میپ دے سکتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اب کیا وجہ ہے کہ مذاکرات کیے جائیں ’ہم نے مذاکرات کیے کیونکہ ہم عدم استحکام نہیں چاہتے تھے۔‘ انہوں نے کہا کہ ’ہم موڈریٹ پاکستان چاہتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ منتقلیِ اقتدار معمول کے مطابق ہو لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ جنرل مشرف ایسا کرسکتے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے وعدے نہیں نبھائے۔ انہوں نے پندرہ نومبر تک وردی اتارنے کا وعدہ کیا تھا لیکن وہ وعدہ پورا نہیں کیا اور اس بارے میں اب تک اگلی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا۔‘ بینظیر بھٹو نے الزام لگایا کہ کہ شفاف انتخابات کے لیے غیرجانبدار افسران کو تعینات کرنے کا وعدہ بھی پورا نہیں کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرح کے معاملات کی وجہ مذاکرات کے سلسلے کو ختم کرنے کا سبب بنے۔
بینظیر نے کہا کہ وہ عوامی رابطہ مہم شروع کریں گی اور انہوں نے پارٹی کی مرکزی ایگزیکٹو کمیٹی کا ایک ہنگامی اجلاس بھی منگل کو بلایا ہے جس میں موجودہ صورتحال پر بحث ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ’بہت سی سیاسی جماعتیں ہیں جن کا اپنا نقطۂ نظر ہے اور یہ اسی طرح ہے جیسے ایک باغ میں کئی پھول ہوں اور ہر ایک کی اپنی خوشبو ہو۔‘ انہوں نے کہا کہ وہ دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں سے بات چیت کررہی ہیں کیونکہ وہ یہ معلوم کرنا چاہتی ہیں کہ کسی ایک ایجنڈے پر کوئی اتفاقِ رائے ہوسکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں چاہتیں کہ جلد بازی میں کوئی اعلان کردیا جائے اور بعد میں عوام کو مایوسی ہو۔ پیپلزپارٹی کی چئرپرسن نے نوازشریف، اسفندیار ولی اور دیگر سیاسی رہنماؤں سے اپنی گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ بات چیت کے ذریعے ایسا مشترکہ راستہ اختیار کرنا چاہتی ہیں جس سے عوام کو اختیار ملے۔ بعدازاں انہوں نے نجی ٹی وی جیو کے دفتر کا دورہ کیا اور سٹاف کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔ اس موقع پر سخت حفاظتی انتظامات کیے گئے تھے اور بینظیر بھٹو سے میڈیا کو بات نہیں کرنے دی گئی۔ واضح رہے کہ گزشتہ تین دنوں سے جیو اور اے آر وائی ٹی وی چینلز کی نشریات کو حکومت کے دباؤ کے بعد دبئی سے بھی مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے۔ | اسی بارے میں ایمرجنسی ختم کریں: نیگرو پونٹے19 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی سات روزہ نظر بندی کا حکم،کارکنوں کی گرفتاریاں13 November, 2007 | پاکستان صدر مشرف اب مستعفیٰ ہو جائیں، بینظیر بھٹو کا مطالبہ 13 November, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی نظر بندی ختم15 November, 2007 | پاکستان بےنظیر کے مضامین، بیرون ملک مہم15 November, 2007 | پاکستان ’نگران حکومت کا حلف غداری‘16 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||