بینظیر کی سات روزہ نظر بندی کا حکم،کارکنوں کی گرفتاریاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان پیپلز پارٹی کی چئرپرسن بینظیر بھٹو کو مجوزہ لانگ مارچ سے روکنے کے لیے لاہور میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور ان کی قیام گاہ کے اردگرد بڑی تعداد میں پولیس اہلکاروں کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے لانگ مارچ کے لیے جمع ہونے والے درجنوں کارکنوں کوگرفتار بھی کر لیا ہے۔ لاہور میں پیپلز پارٹی کے سو کے قریب ارکان گرفتار کئے جاچکے ہیں۔ گرفتار ہونے والے پارٹی اراکین میں پنجاب پیپلز پارٹی کی سیکریٹری اطلاعات فر زانہ راجہ، لاہور ہائی کورٹ کی سابق جج جسٹس ریٹائرڈ طلعت یعقوب، ایم پی اے صغیرہ اسلام، ایم پی اے عظمی بخاری، ایم پی اے فائزہ ملک اور ایم این اے تسنیم قریشی بھی شامل ہیں۔ بینظیر بھٹو نے انپے ترجمان کےذریعے صحافیوں کو پیغام بھجوایا ہے کہ وہ باہر ضرور آئیں گی۔ مخدوم امین فہیم، ناہید خان، ڈاکٹر صفدر عباس، شیری رحمان اور لطیف کھوسہ اس وقت بینظیر بھٹو کے ہمراہ ہیں۔ ترجمان کے مطابق پولیس کسی کو بھی باہر نہیں آنے دے رہی۔ پیپلز پارٹی کے کارکن ٹولیوں کی شکل میں نعرہ بازی کرتے ہوئے آتے ہیں اور پولیس انہیں گرفتار کر لیتی ہے۔ اس سے قبل پیر کو حکومتِ پنجاب نے رات گئے بینطیر بھٹو کو ایک ہفتے کے لیے نظربند کرنے کے احکامات جاری کیے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما شیری رحمان کا کہنا ہے کہ بینظیر کی نظربندی سے پیپلز پارٹی کے کارکنوں کے حوصلے پست نہیں ہوں گے اور لانگ مارچ ہر حالت میں ہوگا۔ بینظیر بھٹو نے منگل سے لاہور سے راولپنڈی تک لانگ مارچ کا اعلان کیا ہوا ہے اور پیر کو لاہور میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران ان کا کہنا تھا کہ کل لاہور سے ہر صورت میں لانگ مارچ ہوگا اور اگر انہیں گرفتار بھی کر لیا گیا تب بھی یہ لانگ مارچ ہو کر رہے گا۔ ادھر حکومت اس لانگ مارچ کو غیر قانونی قرار دے رہی ہے اور وزیرِ مملکت برائے اطلاعات طارق عظیم نے خبر رساں ادارے اے پی کو بتایا ہے کہ لانگ مارچ کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ’فی الحال تمام جلوسوں، ریلیوں اور سیاسی اجتماعات غیر قانونی ہیں۔اگر بینظیر بھٹو قانون شکنی کرتی ہیں تو انہیں نتائج بھگتنے پڑیں گے‘۔ بینظیر بھٹو کی نظر بندی کے بارے میں بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے سی سی پی او لاہور ملک اقبال نے کہا کہ بینظیر بھٹو کو تین ایم پی او کے تحت نظربند کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس اہلکار نظر بندی کے احکامات لے کر بینظیر کی قیام گاہ پر گئے تاہم وہاں کسی نے بھی ان احکامات کو وصول نہیں کیا لیکن اس کے باوجود نظربندی کے حکم پر عملدرآمد ہوگا۔ ملک اقبال کا کہنا تھا کہ لاہور شہر میں دفعہ ایک سو چوالیس نافذ ہے جس کے تحت کسی قسم کے جلوس کی اجازت نہیں ہے۔
لاہور میں بینظیر بھٹو سینیٹر لطیف کھوسہ کے گھر میں قیام پذیر ہیں اور بینظیر کی نظر بندی کے احکامات ان کی قیام گاہ کے دروازے پر چسپاں کر دیے گئے ہیں۔ نظر بندی کے احکامات جاری ہونے کے بعد ڈیفینس کے علاقے میں واقع کھوسہ ہاؤس کے اردگرد پولیس کی نفری بڑھا دی گئی ہے، آس پاس کی سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی ہیں جبکہ بینظیر کی قیام گاہ کے ایک کلومیٹر کے دائرے میں واقع علاقے میں کسی غیرمتعلقہ شخص کو داخلے کی اجازت نہیں ہے۔ بینظیر کی قیام گاہ کے آس پاس کی گلیوں کو ٹرک اور ٹریکٹر کھڑے کر کے بند کیا گیا ہے جبکہ پولیس نے علاقے کے رہائشیوں کی نقل و حرکت بھی عملی طور پر ناممکن بنا دی ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بھی بینظیر کی قیام گاہ تک نہیں پہنچنے دیا جا رہا ہے جبکہ پیپلز پارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمان چن نے بی بی سی اردو کو بتایا ہے کہ شہر سے پارٹی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ حکومتی عہدیدار بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ لانگ مارچ کے لیے پیپلز پارٹی کو مکمل فری ہینڈ نہیں دیا جائے گا۔ مشرف سے مزید بات نہیں ایک سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو نے کہا وہ مشرف حکومت سے مزید بات نہیں کریں گی۔انہوں نے کہا کہ اگر ایمرجنسی برقرار رہی تو وہ مشرف حکومت کے ساتھ نہیں چل سکتیں کیونکہ ان کے بقول یہ پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔انہو ں نے کہا کہ جس نے آئین معطل کیا ہو،ملک میں ایمرجنسی لگائی ہو اورعدلیہ کو حراست میں لیا ہو وہ اس کے ساتھ بالکل نہیں چل سکتیں۔بینظیر نے کہا کہ انہوں نے اسی گڑبر سے بچنے کے لیے مذاکرات کاراستہ اپنایا تھا۔ انہوں نے کوشش کی تھی کہ جنرل مشرف سے بات کے سلسلہ کو بڑھا کر ملک کو پرامن طریقے سے جمہوریت کی طرف لے جائیں تاکہ عدلیہ گرفتار نہ ہوسکے،ملک میں ایمرجنسی نہ لگے لیکن ایسا نہیں ہوسکا۔
انہوں کہا کہ مشرف کے کل کے اعلانات تاخیر سے کیے گئے ناکافی اقدامات ہیں۔بے نظیر نے کہا کہ انہیں لگتا ہے کہ صدرمشرف نے جو وعدے کیے تھے وہ پورے نہیں ہورہے اسی لیے انہوں نے لانگ مارچ کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ صدرجنرل مشرف نے آرمی چیف کے عہدے سے ریٹائر ہونے کا وعدہ پورا کیا نہ آزاد الیکشن کمیشن قائم ہوا اور نہ ہی انتظامیہ میں غیر جانبدار لوگ رکھنے کی کوشش کی گئی۔ بینظیر نے کہا کہ کسی کے ہاتھ،پاؤں باندھ دیے جائیں، آنکھیں بند کر دی جائیں کہ وہ دیکھ بھی نہ سکے تو پھر کیسے شفاف انتخابات ہو سکیں گے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لانگ مارچ میں شامل ہوں کیونکہ یہ لانگ مارچ بینظیر یا پیپلز پارٹی کا مارچ نہیں ہے بلکہ ننگے پیر والوں کا،غریبوں اور مظلوموں کا ہے۔انہوں نے دانشوروں، مزدوروں، بزرگوں، عورتوں نوجوانوں اقلیتوں سمیت ہر طبقہ سے اپیل سے لانگ مارچ میں شمولیت کی اپیل کی۔ بینظیر نے کہا کہ سرکاری و غیر سرکاری ملازم ، چاہے وہ وردی میں ہوں یا وردی کے بغیر وہ سب پہلے پاکستانی ہیں اور سب کا فرض ہے کہ وہ پاکستان کو بچائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ وہ نوجنوری کو انتخابات کا انعقاد کے اعلان کو مثبت قرار دیتی ہیں لیکن ابھی بہت کچھ کرنے کو باقی ہے۔ بینظیر مزاراقبال پر حاضری کے بعد سانحہ کراچی میں جاں بحق ہونے والے لاہور کے پیپلز پارٹی کے ایک کارکن کے گھر گئیں۔پھر انہوں نے پیپلز پارٹی کے بانی رکن شیخ رفیق احمد مرحوم کے گھر جاکر ان کے اہلخانہ سے تعزیت کی اور صحافیوں سے اظہار یکجہتی کے لیے لاہور پریس کلب گئیں۔ لانگ مارچ کا روٹ
دوسرے مرحلے میں ماررچ تاندلیانوالہ سمندری سے ہوتا ہوا فیصل آباد پہنچے گا جبکہ تیسرے مرحلے میں فیصل آباد سے شیخوپورہ،مریدکے اور کامونکے سے ہوتے ہوئے گوجرانوالہ پہنچے گا اور آخری مرحلے پر جہلم سے اسلام آباد جایا جائے گا۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر شاہ محمود قریشی نے پیر کی رات صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صبح ہر صورت لانگ مارچ کے لیے نکلا جائے گا اور کوئی رکاوٹ عوام کو روک نہیں پائے گی۔ انہوں نے کہا پیپلز پارٹی نے تمام سیاسی جماعتوں کو لانگ مارچ میں شامل ہونے کی دعوت دیدی ہے صبح جو بھی پہنچیں گے انہیں خوش آمدید کہا جائے گا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پنجاب کی وزارت داخلہ کے اس رپورٹ کے بارے میں انہوں نے بھی سنا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مزید ایک خود کش بمبار بینظیر اور پیپلز پارٹی پر حملے کے لیے لاہور میں داخل ہوگیا ہے تاہم شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ رپورٹ کس حد تک مصدقہ ہے یہ بات وزارت داخلہ ہی بتا سکتی ہے۔ |
اسی بارے میں مشرف سے بات چیت بند:بینظیر بھٹو12 November, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں11 November, 2007 | پاکستان لانگ مارچ کے اعلان کے بعد سینکڑوں پی پی پی کارکن گرفتار08 November, 2007 | پاکستان نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش10 November, 2007 | پاکستان پی پی پی کے صوبائی صدر گرفتار10 November, 2007 | پاکستان بینظیر کی ملاقاتیں، ایمرجنسی ایک ماہ میں اٹھانے کا عندیہ10 November, 2007 | پاکستان جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم 12 April, 2007 | پاکستان پی پی پی مظاہرے پر لاٹھی چارج07 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||