ہارون رشید بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد |  |
 | | | بےنظیر ابھی نظر بند ہیں |
پیپلز پارٹی کی رہنما بےنظیر نے نظربندی کے باوجود بیرونی دنیا خصوصا امریکی عوام کو پاکستان میں ہونے والے واقعات سے آگاہ رکھنے کے لیے اخبارات میں مضامین شائع کرنے کا عمل جاری رکھا ہوا ہے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ایک تازہ مضمون میں انہوں نے جنرل پرویز مشرف کے عام انتخابات کو دھوکہ اور فریب قرار دیا ہے۔ سابق سویت ریاست کی پولِٹ بیورو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ وہ بھی ہر سال باقاعدگی سے منعقد ہوئے لیکن کسی عمل کو انتخاب کہنا اور اصل انتخابات کروانا دو مختلف باتیں ہیں۔ جنرل مشرف کے انتخابات کی تاریخ کے اعلان کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہیں شک ہے ان سے کوئی تبدیلی آئے گی۔ بےنظیر کا کہنا تھا کہ ان کا جنرل مشرف سے اتفاق ہوا تھا کہ دونوں سپریم کورٹ کے ان کی اہلیت کے بارے میں فیصلے کا انتظار کریں گے لیکن جب عدالت فیصلے کے قریب پہنچی تو انہوں نے ہنگامی حالت نافذ کر دی اور ججوں کو معطل کر دیا۔ ان کا کہنا تھا اس غلطی کو عوام آج بھگت رہے ہیں۔ بےنظیر کا کہنا تھا کہ ان کا مسئلہ انتخابات کا اعلان نہیں بلکہ وہ اعلانات ہیں جو نہیں کیے گئے، یعنی ہنگامی حالت کے خاتمے اور اپنی وردی اتارنے کے۔ مضمون میں انہوں نے تازہ گرفتاریوں، آرمی ایکٹ میں ترمیم اور پابندیوں کا رونا روتے ہوئے کہا کہ یہ آمرانہ نہیں بلکہ پولیس سٹیٹ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی، جج اور سیاسی کارکن سب جنرل مشرف کے خلاف ہوگئے ہیں جس وجہ سے انہوں نے ان کے استعفی کا مطالبہ کیا ہے۔ پاکستان میں سیاستدان اکثر ملکی معاملات میں غیرملکی مداخلت کو پسند نہیں کرتے لیکن سیاسی تجزیہ نگاروں کے بقول صدر جنرل پرویز مشرف کی گزشتہ دنوں اخباری کانفرنس اور بے نظیر بھٹو کے اس قسم کے مضامین ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے لیے بین الاقوامی برادری یا خصوصی طور پر امریکہ جو بھی ہو، نہایت اہم ہے۔ |