الیکشن بائیکاٹ، اپوزیشن کی سوچ بچار | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں حزب اختلاف کی اکثر جماعتیں ہنگامی حالت کے تحت ہونے والے عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے معاملے پر ابھی سوچ بچار میں مصروف ہیں۔ فیصلہ یقینا مشکل ہے لہذا طویل مشاورت کے علاوہ کئی جماعتیں ایک دوسرے کی جانب بھی دیکھ رہی ہیں۔ اگرچہ حزبِ اختلاف کے اتحاد آل پارٹیز ڈیموکریٹک الائنس نے ایک روز قبل واضح کر دیا تھا کہ موجودہ حالات میں آزادانہ و منصفانہ انتخابات ممکن نہیں لیکن اس نے بائیکاٹ کے بارے میں پھر بھی کوئی واضح بیان دینے سے گریز کیا ہے۔ کئی مبصرین کے خیال میں اتحاد کو کراچی میں پیپلز پارٹی کے جاری اجلاس میں بظاہر فیصلوں کا انتظار ہے۔ تاہم دوسری جانب حزبِ اختلاف کے ایک اور اتحاد متحدہ مجلس عمل میں ماضی کی طرح قدرے واضح اختلاف ایک مرتبہ پھر دکھائی دینا شروع ہوگیا ہے۔ اس مرتبہ وجہِ اختلاف استعفے نہیں بلکہ عام انتخابات کا بائیکاٹ ہے۔ جعمیت علمائے اسلام کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے تو اپنی پارٹی کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں واضح کر دیا ہے کہ وہ انتخابات کے بائیکاٹ کی غلطی نہیں کریں گے۔ ان کا موقف ہے کہ استعفوں کی طرح بائیکاٹ سے جنرل پرویز مشرف کو ہی فائدہ پہنچے گا۔ مولانا فضل الرحمان بے نظیر بھٹو کے بارے میں بھی اب تک کافی سرد مہری کا مظاہرہ کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا اب بھی کہنا ہے کہ بےنظیر کا پروگرام اور فورم الگ ہیں۔ اے پی ڈی ایم کے اجلاس میں شرکت نہ کرکے جے یو آئی کے موقف کی وضاحت مولانا فضل الرحمان نے بھی کر دی تھی۔ ان کی جگہ جے یو آئی کے مرکزی رہنما مولانا محمد خان شیرانی اجلاس میں مختصر وقت کے لیے آئے اور آغاز میں ہی بتایا کہ وہ بطور مہمان شریک ہو رہے ہیں۔ تاہم ان کے حلیف جماعت اسلامی کے سربراہ قاضی حسین احمد بائیکاٹ کی خواہش کا کافی واضح اظہار کر چکے ہیں۔ ایم ایم اے کی چھوٹی جماعتیں بھی جے یو آئی اور جماعت اسلامی کے علاوہ اے پی ڈی ایم جیسے اتحاد کی جانب نظریں جمائے ہوئے ہیں۔ ان کی اپنی اندرونی بھی کچھ ناراضگیاں ہیں۔ ایسے میں اگر دونوں میں سے کوئی ایک جماعت اپنے موقف میں لچک نہیں دیکھاتی تو متحدہ مجلس عمل کا یکجا رہنا مشکل دکھائی دے رہا ہے۔ تاہم اب تک ایم ایم اے میں شامل جماعتوں کا کہنا ہے کہ وہ انتخابات میں حصہ مشترکہ طور پر ہی لیں گی۔ انتخابی شیڈول کے آنے کے بعد سیاسی جماعتوں کے لیے فیصلے کا وقت بہت کم رہ گیا ہے۔ اس بابت آئندہ چند روز کافی اہم قرار دیئے جا رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کے نائب امیر لیاقت بلوچ کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف کی تمام جماعتوں کو بغیر کسی تاخیر کے متحد ہو جانا چاہیے۔ ’تمام سیاسی قوتوں کو سوچ لینا چاہیے کہ عدلیہ کی عدم موجودگی، فوجی طاقت کے ذریعے صدارت پر قبضہ، آئینی اور بنیادی حقوق کی پامالی کے ماحول میں انتخابات کے شفاف و غیرجانبدارانہ ہونے کا کوئی امکان نہیں۔‘ | اسی بارے میں مشرف اہلیت: درخواستیں خارج19 November, 2007 | پاکستان ’عوام پر ایک شخص کو ترجیح‘18 November, 2007 | پاکستان گرفتاریوں،نظربندی کا سلسلہ جاری04 November, 2007 | پاکستان ایمرجنسی: صدر اور وفاق کو نوٹس12 November, 2007 | پاکستان مشرف کسی صورت قبول نہیں: بینظیر18 November, 2007 | پاکستان ’نگران حکومت کا حلف غداری‘16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||