’عوام پر ایک شخص کو ترجیح‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حزب اختلاف کی مختلف جماعتوں کے رہنماؤں نے امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے کی پریس کانفرنس پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ جان نیگرو پونٹے نے جہاں جنرل مشرف پر ایمرجنسی جلد از جلد ختم کرنے کا مطالبہ کیا وہاں ان کی جانب سے آئندہ سال جنوری میں عام انتخابات کرانے کے اعلان کا خیر مقدم بھی کیا اور ساتھ ہی بینظیر بھٹو اور جنرل مشرف سے یہ بھی کہا کہ وہ مفاہمت کے لیے پہلے سے جاری بات چیت کے سلسلے کو بحال کریں کیونکہ ان کے بقول اس سے سیاستدانوں کو تصادم کی فضاء سے واپسی میں مدد ملے گی۔ ان بیانات پر بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چئرمین راجہ ظفرالحق نے کہا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ جنرل پرویز مشرف کے متعلق امریکہ کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’وہ (امریکہ) پاکستان کے سولہ کروڑ عوام پر ابھی تک ایک ہی شخص کو ترجیح دے رہے ہیں اور ان کی پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ سوات کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر جنرل مشرف یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ ان پر اس سے زیادہ دباؤ نہیں ڈال سکتا اور’اس لیے وہ آرام سے اپنے اس فیصلے کا انتظار کر سکتے ہیں جس کی توقع انہیں سپریم کورٹ سے ہے کہ وہ ان کے صدارتی انتخاب کو جائز قرار دے گی اور اس کے بعد وہ پاکستان کے منتخب صدر ہونے کا اعلان کریں گے اور پھر دیکھیں گے کہ وردی اتارنی ہے یا نہیں‘۔
راجہ ظفر الحق نے کہا کہ نیگرو پونٹے کو ایمرجنسی کے نفاذ کے ساتھ برطرف کیے گئے ججوں کی بحالی کی بھی بات کرنی چاہیے تھی جو انہوں نے نہیں کی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے چئرمین نے امریکی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے بینظیر بھٹو اور جنرل پرویز مشرف کو مفاہمت کے لیے بات چیت کا سلسلہ دوبارہ شروع کرنے کے مشورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک رسمی سی بات ہے اور مشورے سے بڑھ کر کچھ نہیں ہے کیونکہ ان کے خیال میں اب جنرل مشرف اور بینظیر بھٹو کے درمیان شاید ہی اعتماد کا رشتہ باقی ہو۔ انہوں نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے کل جماعتی اجلاس بلایا ہوا ہے اور توقع ہے کہ وہ اب اپنی سیاسی پوزیشن کو مستحکم کرنے پر توجہ دیں گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ عام انتخابات میں حصہ لینے یا نہ لینے کے بارے میں تمام سیاسی جماعتوں کو مل جل کر متفقہ فیصلہ کرنا چاہیے۔ ادھر متحدہ مجلس عمل کے رہنما منور حسن نے جان نیگرو پونٹے کی جانب سے جنرل مشرف کے جنوری میں انتخابات کرانے کے اعلان کا خیرمقدم کرنے کی مذمت کی اور کہا کہ سپریم کورٹ کے برطرف چیف جسٹس سمیت دیگر ججوں کی بحالی کے بغیر عام انتخابات کا انعقاد دھوکہ ہوگا۔ منور حسن کا کہنا تھا کہ’تین نومبر سے پہلے جو پوزیشن سپریم کورٹ اور چیف جسٹس کی تھی اس کو بحال کیے بغیر اور نکتہ آغاز بنائے بغیر ممکن نہیں ہے کہ حالات کو سدھارا جا سکے، پی سی او کے تحت، ایمرجنسی کے تحت کسی آئین کے بغیر ہونے والے الیکشن جھوٹے اور فراڈ الیکشن ہوں گے‘۔ انہوں نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں میں بڑی حد تک ذہنی ہم آہنگی موجود ہے کہ جنرل مشرف اور ان کی من پسند نگراں حکومتوں کی موجودگی میں ہونے والے انتخابات میں حصہ نہ لیا جائے اور اس پر غورو خوض کرنے کے لیے کل اے پی ڈی ایم کا اجلاس ہورہا ہے اور کل جماعتی کانفرنس پر بھی اس پر بات ہوگی جس کے بعد امکان ہے کہ تمام جماعتیں اس اتفاق رائے کو برقرار رکھیں گی۔ انہوں نے بینظیر بھٹو سے کہا کہ وہ پہلے بھی جنرل مشرف سے شراکت اقتدار کے لیے مذاکرات کے فریب میں آچکی ہیں اور انہیں کافی تلخی برداشت کرنا پڑی ہے اس لیے انہیں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ ان کے اسٹیبلشمنٹ سے اب کوئی رابطے نہ ہوں اور اگر کوئی رابطہ ہو تو پوری حزب اختلاف کے مشورے سے ہو۔ ادھر بینظیر بھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی نے امریکی نائب وزیرِ خارجہ کے اس بیان پر اب تک کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔ بینظیر بھٹو کے ترجمان فرحت اللہ بابر کا کہنا ہے کہ اس پر بینظیر بھٹو خود ہی کوئی تبصرہ کریں گی۔ | اسی بارے میں ایمرجنسی ختم اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے: نیگروپونٹے18 November, 2007 | پاکستان ’میں ہوں توجوہری ہتھیار محفوظ ہیں‘17 November, 2007 | پاکستان امریکہ کے نائب وزیر کی صدر مشرف اور جنرل کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں17 November, 2007 | پاکستان صدر مشرف تصادم کے راستے پر17 November, 2007 | پاکستان امریکی نائب وزیر خارجہ اہم مشن پر16 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان امریکی قونصل جنرل کی بینظیر بھٹو سے ملاقات، مظاہرے جاری15 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||