BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 08:19 GMT 13:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی قونصل جنرل کی بینظیر بھٹو سے ملاقات، مظاہرے جاری

 احتجاجی مظاہرے
ملک کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے

لاہورمیں امریکہ کے قونصل جنرل برائن ڈی ہنٹ نے پیپلزپارٹی کی نظربند سربراہ بینظیر بھٹو سے ملاقات کی اور کہا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ صدر مشرف آرمی کے عہدے سے مستعفی ہوجائیں اور ملک سے ایمرجنسی ختم کر دی جائے جبکہ ملک کے مختلف حصوں میں پولیس نے ایمرجنسی کے خلاف جلوس نکالنے کی کوشش کرنے والے سیاسی کارکنوں کو لاٹھی چارج کے بعدگرفتار کیا ہے۔

برائن ڈی ہنٹ نے ملاقات کے بعد ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتوں کو الیکشن سرگرمیوں میں شرکت کی آزادی ہونی چاہیے، میڈیا پر پابندیاں نہیں ہونی چاہیے اور انسانی حقوق بحال ہونےچاہیئیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق برائن ڈی ہنٹ نے کہا کہ بینظیر سے ان کا ملنا، اپوزیشن سے لیڈروں سے ملاقاتوں کے سلسلے کا ایک حصہ ہے جس کے تحت وہ متعدد سیاسی رہنماؤں سے مل چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ملاقات میں انہوں نے بینظیر بھٹو کو امریکہ کے تحفظات سے آگاہ کیا اور ملک میں نافذ ایمرجنسی سمیت موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

امریکی قونصل جنرل جب کھوسہ ہاؤس پہنچے تو وہاں پر تعینات پولیس اہلکاروں نے انہیں اندر جانے سے روک دیا اس پر برائن ڈی ہنٹ نے پولیس اہلکاروں کو کھوسہ ہاؤس میں نظربند پی پی پی کی رہنما بینظیر بھٹو سے ملنے کے لیے سرکاری اجازت نامہ دکھایا جس پر انہیں ایک بغلی دروازے سے اندر جانے کی اجازت دے دی گئی۔

ملک گیر احتجاج میں سول سوسائٹی کے نمائندے اور طلباء بھی پیش پیش ہیں

یہ ملاقات ایک ایسے وقت ہو رہی ہے جب امریکی نائب وزیرِ خارجہ جان نیگرو پونٹے پاکستان کا دورہ کرنے والے ہیں جس میں وہ پاکستانی قیادت کو صدر جارج ڈبلیو بش کا اہم پیغام پہنچائیں گے ۔ صدر بش جنرل پرویز مشرف پر زور دے رہے ہیں کہ وہ ایمرجنسی ختم کر کے آئین بحال کریں اور تمام سیاسی قیدیوں کو رہا کریں۔

بینظیر بھٹو کو حکومت پنجاب نے ایک ہفتہ کے لیے کھوسہ ہاؤس میں نظر بند کر رکھا ہے اور پولیس کی نفری ان کی قیام گاہ کے باہر تعینات ہے۔ پیپلز پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر بدر نے ان کی قیام گاہ پر جانے سے پہلے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بینظیر بھٹو اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی تنظیموں سے رابطے میں ہیں اور ان کی پارٹی چاہتی ہے کہ یہ تمام ایک کم از کم ایجنڈے پر متفق ہوکر مشترکہ طور پر ایک سمت چلیں۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں اور کارکنوں کی گرفتاریاں جاری ہیں اور لیکن اس حوالے سے ان کے حکومت سے مذاکرات ہو رہے ہیں نہ وہ کریں گے۔

پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ ان کے کارکن مزید گرفتاریاں اور قربانیاں دینے کو تیار ہیں اور حکومت نے معاملات حل کرنے کی بجائے جو راستہ اختیار کیا ہے وہ درست نہیں ہے۔ جہانگیر بدر نے کہا کہ پیپلز پارٹی کا لانگ مارچ کامیاب ہوا ہے کیونکہ اسے روکنے کے لیے حکومت کو ہزاروں اہلکاروں کو تعینات کرنا پڑا جس سے ظاہرہوا کہ پیپلز پارٹی کتنی بڑی قوت ہے۔

احتجاجی مظاہرے،گرفتاریاں
ہمارے نامہ نگار عبدالحئی کاکڑ کے مطابق صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور میں ایمرجنسی کے نفاذ اور بینظیر بھٹو کی نظربندی کے خلاف جمعرات کو پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) نے احتجاجی مظاہرے منعقد کیے ہیں جن میں صوبائی رہنماؤں سمیت متعدد افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سو سے زائد کارکنوں نے جمعرات کو جی ٹی روڈ پر صوبائی جنرل سیکرٹری نجم الدین خان کی قیادت میں ایک احتجاجی مظاہرہ کیا اور انہوں نے حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔

اس موقع پر پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے شدید لاٹھی چارج اور اشک آور گیس کا استعمال بھی کیا۔پولیس نے پیپلز پارٹی صوبائی جنرل سیکریٹری نجم الدین خان اور صوبائی رہنما ظاہر شاہ سمیت متعدد کارکنوں کو گرفتار کرلیا۔

جمعرات کو پشاور میں مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں اور کارکنوں نے ایمرجنسی کے خلاف جی ٹی روڈ پر مظاہرہ کیا جس کی قیادت سرحد میں مسلم لیگ کے رہنما انور کمال مروت کر رہے تھے۔ مظاہرے کے دوران پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج کیا اور تین افراد کو گرفتار کر لیا۔

فیصل آباد میں پیپلز پارٹی کے رہنما رانا آفتاب احمد کی قیادت میں پیپلز پارٹی کے کارکنوں نے لانگ مارچ کےنام پر جلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے چھاپہ مار کر رانا آفتاب سمیت پیپلز پارٹی کے پندرہ رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ لاہور کے نواحی علاقے شاہدرہ سے پیپلز پارٹی لاہور کے جنرل سیکرٹری سمیع اللہ خان کی قیادت میں لانگ مارچ کے نام سے ایک دوسراجلوس نکالنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے جی ٹی روڈ پر آٹھ دس گاڑیوں کے اس قافلے کو روک لیا اور سمیع اللہ خان سمیت پیپلزپارٹی کے بیس کے قریب رہنماؤں اور کارکنوں کو حراست میں لے لیا۔

عمران خان جیل میں

پولیس نے بدھ کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور سےگرفتار کیا تھا
ایمرجنسی کے خلاف احتجاج کے دوران گرفتار کیے جانے والے پاکستان تحریک ِ انصاف کے سربراہ عمران خان پر دہشتگردی کی دفعات کے تحت مقدمہ قائم کر کے انہیں جیل بھیج دیا گیا ہے۔ تحریکِ انصاف کے رہنما عمر چیمہ نے بی بی سی اردو کے نامہ نگار عباد الحق کو بتایا ہے کہ عمران خان کو لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں رکھا گیا ہے اور انہیں جمعرات کو عدالت میں پیش کیے جانے کا امکان ہے۔

تحریکِ انصاف نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف جمعہ کو ملک گیر یوم سیاہ منانے کا اعلان کیا ہے۔ یاد رہے کہ پولیس نے بدھ کو تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو لاہور سےگرفتار کیا تھا۔عمران خان ایمرجنسی لگنے کے روز سے روپوش تھے اور پولیس و خفیہ ایجنسیاں ان کی تلاش میں تھیں۔

وکلاء کا بائیکاٹ جاری
پشاور سمیت صوبہ سرحد کے زیادہ تر اضلاع میں جمعرات کو وکلاء نے ایک روز کے وقفے کے بعد ماتحت عدالتوں سے دوبارہ بائیکاٹ شروع کردیا جبکہ اعلٰی عدالتوں میں مقدمات کی پیروی کے لیے کوئی بھی وکیل حاضر نہیں ہوا۔

احتجاجی صحافیوں نے منہ پر کالی پٹیاں باندھی ہوئی تھیں

وکلاء کی رہنماء مسرت ہلالی نے بی بی سی کو بتایا کہ پاکستان بار کونسل کے فیصلے کے مطابق بدھ کو وکلاء نے ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ اس لیےختم کردیا تھا تاکہ جیلوں میں موجود وکلاء اگر چاہیں تو رہائی کے لیے ضمانت کی درخواست جمع کرا سکیں تاہم ان کے بقول کسی بھی وکیل نے ضمانت کے لیے درخواست نہیں دی۔

وکلاء کا کہنا ہے کہ ایمرجسنی کے نفاذ کے بعد ان کے ساتھیوں کی گرفتاری کا جو سلسلہ شروع کیا گیاتھا وہ گزشتہ کئی دنوں سے بظاہر رک گیا ہے تاہم اب بھی ان کے دو سو سے زائد ساتھی صوبہ سرحد کے مختلف جیلوں میں بند ہیں۔حکام کا کہنا ہے کہ اب تک ایک ستائیس کے قریب وکلاء اور سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا جا چکا ہے جن میں سےایک سو نو ہری پور، دس ڈیرہ اسماعیل خان اور آٹھ کو پشاور جیل میں رکھا گیا ہے۔

صوبہ سرحد کے صحافیوں نے جمعرات کو دوسرے روز بھی نجی ٹیلی ویژن چینلز کی بندش کیخلاف پریس کلبوں کے باہر احتججی کیمپ لگائے اور اس موقع پر انہوں نے بازؤوں اور منہ پر سیاہ پٹیاں باندھیں۔ادھر جماعت اسلامی اور پیپلز پارٹی نے بھی جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کا اعلان کر رکھا ہے۔

سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپوزیشن فوجی دانش کا شکار ہو جائے گی
ایمرجنسی کا نواں دنایمرجنسی کانواں دن
طلباء، وکلاء کا احتجاج، بےنظیر کی دعائیں
صدر مشرفملک گرداب میں ہے
صدر کو اپنے عوام سے زیادہ بیرونی دنیا کی فکر
صدر مشرفانتخابات کا اعلان
صدر مشرف کی پسپائی یا نئی مورچہ بندی
بینظیر بھٹو اسلام آباد میں سنیچر کو ذرائع ابلاغ سے مخاطب سیاست کی رفوگیری
تجزیہ: ممکنہ مفاہمت کی بےنظیر کی شرط
احتجاجمظاہرے، احتجاج
ایمرجنسی کے خلاف مظاہرے جاری
ایک وکیل احتجاج کرتے ہوئےپانچواں دن
پاکستان بھر میں لوگ سراپا احتجاج
اسی بارے میں
بینظیر بھٹو لاہور پہنچ گئیں
11 November, 2007 | پاکستان
نواز شریف کی بینظیر کو پیشکش
10 November, 2007 | پاکستان
جئے سندھ کا لانگ مارچ ختم
12 April, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد