BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 18 November, 2007, 02:58 GMT 07:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جنرل پرویز مشرف سے فوجی قیادت چھوڑنے کے لیے کہا ہے: نیگروپونٹے

 امریکی نائب وزیرِ خارجہ
صدر مشرف سے ملاقات کے بعد امریکی نائب وزیرِ خارجہ نے پاکستان میں اپنا قیام بڑھا دیا تھا

امریکی نائب وزیرخارجہ جان نیگرو پونٹے نے ایک بار پھر جنرل پرویز مشرف پر ایمرجنسی ختم کرنے کے لیے زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایمرجنسی آزادانہ اور منصفانہ انتخابات سے مطابقت نہیں رکھتی۔

خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی نائب وزیرخارجہ نے اپنے دورۂ پاکستان کے اختتام پر اسلام آباد میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جنرل مشرف سے کہا ہے کہ وہ فوج کی قیادت سے دستبردار ہونے کا وعدہ پورا کریں۔


جان نیگرو پونٹے نے کہا کہ ’بدقسمتی سے احتجاج کرنے والوں کے خلاف حالیہ اقدام، میڈیا کو دبایا جانا اور سیاسی کارکنوں، انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم لوگوں کی گرفتاریاں اور نظر بندیاں ان تمام اصلاحات کے منافی ہیں جو حالیہ برسوں کے دوران متعارف کرائی گئی تھیں۔ انہوں نے کہا ان کا تسلسل اس پیش رفت کو ختم کر دے گا جو پاکستان نے کی ہے‘۔

اصلاحات کے منافی اقدام
 احتجاج کرنے والوں کے خلاف حالیہ اقدام، میڈیا کو دبایا جانا اور سیاسی کارکنوں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سرگرم لوگوں کی گرفتاریاں اور نظر بندیاں ان تمام اصلاحات کے منافی ہیں جو حالیہ برسوں کے دوران متعارف کرائی گئی تھیں
جان نیگرو پونٹے

امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے حکومت پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات بند کرے۔ تاہم انہوں نے جنرل مشرف کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ دہشت گردی کے جنگ میں ایک اہم اتحادی ہیں اور وہ اس بات کا خیر مقدم کرتے ہیں کہ پاکستانی رہنما نے وعدہ کیا ہے کہ انتخابات نو جنوری کو ہوں گے۔

اتوار کو علی الصبح ہونے والی اس نیوز کانفرنس سے قبل انہوں نے سنیچر کو صدر جنرل پرویز مشرف اور وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات بھی کی۔ صدر مشرف سے ملاقات کے بعد امریکی نائب وزیرِ خارجہ نے پاکستان میں اپنا قیام بڑھا دیا تھا۔

اسلام آباد میں بی بی سی کے نامہ نگار کہ مطابق قیام بڑھانے کے نتیجے میں انہیں شاید پاکستانی رہنما سے کچھ زیادہ حاصل نہیں ہو سکا کیونکہ اس سے صدر مشرف نے بی بی سی بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ قابلِ اعتماد انتخابات صرف ایمرجنسی ہی میں ہو سکتے ہیں۔

سیّد بادشاہ کا کارڈ
اپوزیشن فوجی دانش کا شکار ہو جائے گی
صدر جنرل مشرف پاکستان ڈائری
صدر جنرل مشرف تصادم کے راستے پر
بےنظیر ابھی نظر بند ہیںبےنظیر کے مضامین
بیرون ملک قارئین کے لیے مہم
بھٹو، مشرفمفاہمت کو خطرہ
بینظیر اور جنرل مشرف میں بڑھتی مخاصمت
پاکستانایمرجنسی بارہواں دن
عوام با مقابل انتظامیہ کا بارہواں دن
مسلم لیگی اشتہار لیگی خط مسترد
’اشتہار بینظیر کی کردار کشی مہم کا حصہ ہے‘
چودہواں دن
نگراں حکومت، بےنظیر کی نظربندی ختم
اسی بارے میں
مشرف کو اب جانا ہوگا
17 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد