مشرف کو اب جانا ہوگا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے واضح کیا ہے کہ اب مشرف کو جانا ہوگا وہ انہیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں ۔ انہوں نے یہ بات سول سوسائٹی، وکلا اور صحافیوں سے ملاقات میں کی۔ جمعہ کی شب انسانی حقوق کمیشن کی سربراہ عاصمہ جہانگیر کی رہائش گاہ پر ہونے والی ملاقات میں صحافی حسین نقی، امتیاز عالم ، پنجاب یونین آف جرنلسٹس کے صدر عارف حمید بھٹی، دانشور پروفیسر مہدی حسن، لاہو ہائی کورٹ بار کی سابق فنانس سیکریٹری ربیعہ باجوہ ایڈووکیٹ اور دیگر نے شرکت کی۔ ایک سوال کے جواب میں بینظیر بھٹو نے کہا کہ میثاق جمہوریت میں ایسی کوئی شق شامل نہیں تھی کہ فوج سے بیرکوں میں واپسی اور پر امن انتقال اقتدار پر بات چیت نہیں ہوگی۔ بینظیر بھٹو نے اس موقع پر مختلف سوالات کے جواب دیے۔ جبکہ سول سوسائٹی نے انہیں اپنا نو نکاتی چارٹر پیش کیا ۔ جس میں کہا گیا کہ صدر مشرف کی موجودگی میں ملک میں منصفانہ انتخابات نہیں ہو سکتے۔ اس لیے وہ فوری طور پر اپنے تمام عہدوں اور نگران کابینہ کے ساتھ مستعفی ہوں۔ ملک میں ایمرجنسی فوری طور پر ختم کی جائے اور بنیادی حقوق بحال کئے جائیں۔ چارٹر میں عدلیہ کی بحالی اور میڈیا پر عائد پابندی کے خاتمے کے مطالبات بھی شامل ہیں۔ چارٹر میں یہ بھی مطالبہ کیا گیا کہ محبوس ججوں، وکلا، سیاسی کارکنوں، طلبا اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔ واضح رہے کہ بینظیر بھٹو کے ساتھ انسانی حقوق کمیشن کی چیئرپرسن عاصمہ جہانگیر کو بھی جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب نظر بندی ختم کر کے رہا کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں بینظیر کی سات روزہ نظر بندی کا حکم،کارکنوں کی گرفتاریاں13 November, 2007 | پاکستان صدر مشرف اب مستعفیٰ ہو جائیں، بینظیر بھٹو کا مطالبہ 13 November, 2007 | پاکستان بینظیر بھٹو کی نظر بندی ختم15 November, 2007 | پاکستان بےنظیر کے مضامین، بیرون ملک مہم15 November, 2007 | پاکستان ’نگران حکومت کا حلف غداری‘16 November, 2007 | پاکستان بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||