’میں ہوں توجوہری ہتھیار محفوظ ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف نے خبردار کیا ہے کہ اگر ملک میں انتخابات پرامن فضا میں نہیں کرائے گئے تو ملک میں انتشار پھیلنے اور جوہری ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ بی بی سی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ جنرل مشرف نے کہا کہ جب تک وہ فوج کے ساتھ اقتدار میں ہیں ملک کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں۔ یاد رہے کہ جنرل مشرف ہفتے کے روز پاکستان کے دورے پر آئے امریکہ کے ڈپٹی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان نیگرو پونٹے سے ملاقات کرنے والے ہیں۔ نیگرو پونٹے ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد امریکی حکومت کی طرف سے خصوصی طور پر پاکستان بھیجے گئے ہیں۔ انتخابات کے حوالے سے ایک سوال پر جنرل مشرف نے کہا کہ اگر ملک میں انتخابات جن کا انہوں نے جنوری میں کرانے کا وعدہ کیا ہے پرامن فضا میں نہیں کرائے گئے تو ملک میں انتشار پھیلنے کا خطرہ ہے اور ایسی صورت حال میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے اندیشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ جنرل مشرف نے کہا کہ انتشار کی صورت حال انتخابات کی وجہ سے بھی پیدا ہو سکتی ہے اور یہ بینظیر کی سیاسی کمزوری کی بنا پر بھی۔ جنرل مشرف نے بینظیر پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ایک بدعنوان اور غیر مقبول رہنما قرار دیا اور خبر دار کیا کہ انہیں خطرہ ہے کہ بینظیر الیکشن ہار جائیں گی اور اس سے ملک میں انتہاہ پسندوں کے اقتدار میں آنے کا راستہ کھل جائے گا اور اس طرح پاکستان کے جوہری ہتھیار بھی خطرے میں پڑ جائیں گے۔ بینظیر بھٹو کے بارےمیں انہوں نے مزید کہا کہ وہ چاہتی ہیں کہ الیکشن ملتوی ہو جائیں۔انہوں نے کہا کہ بینظیربھٹو کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی صورت الیکشن جیتنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ جنرل مشرف نے کہا ہے کہ بینظیر بھٹو کی طرف سے نگران حکومت کے بارے میں اٹھائے جانے والے اعتراضات سے انتخاباتی شیڈول پر کوئی فرق نہیں بڑے گا۔ انہوں نے کہا ہے کہ بینظیر کی طرف سے لگائے جانے والے الزامات کے باوجود انتخابی عمل چلتا رہے گا۔ انہوں نےکہا کہ الیکشن کی کچھ تاریخیں ہیں جن کا اعلان الیکشن کمیشن آف پاکستان نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات اسی شیڈول کے مطابق ہوں گے۔ ’ہاں اگر یہ سڑکوں پر آ کر جلاؤ، گھیراؤ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی ہم اجازت نہیں دیں گے۔‘ صدر مشرف نے کہا کہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی طرف سے احتجاج سے الیکشن کے عمل پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور حکومت کی پوری کوشش ہو گی کہ الیکشن شیڈول کے مطابق ہوں۔ صدر مشرف نے کہا کہ حکومت نے سیاسی جماعتوں سے نگران حکومت کے لیے نام مانگے تھے جو انہوں نے نہیں دیئے۔ انہوں نے کہا کہ پی پی پی کی چیئرپرسن بینظیر بھٹو نے نگران حکومت کے لیے نام دینے کے بجائےحکومت کے سامنے پانچ مطالبات رکھ دیئے۔ ان کے بقول بینظیر نے کہا کہ ’یہ پانچ مطالبات ہیں، آپ انہیں پورا کر دیں بصورت دیگر آپ جانتے ہیں۔‘ انہوں نے کہا کہ اگر بینظیر بھٹو نگران حکومت کے لیے نام دے بھی دیتیں تو حکومت پر لازم نہیں تھا کہ وہ انہیں عبوری حکومت میں شامل کرتے۔ صدر مشرف نے نگران حکومت کے بارے میں اپوزیشن کے مطالبات کو غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا۔ ’ان کے ساتھ تو یہ ہے کہ اگر میں ستارے بھی توڑ لاؤں گا ناں، وہ کہیں گے نہیں یہ سب فراڈ ہے۔ تو ان کی بات میں نے نہیں سننی ہے میں نے پاکستان کا خیال رکھنا ہے اور پالیسیز کو چلانا ہے، پالیسیز کو آگے بڑھانا ہے۔ تو اس لحاظ سے یہ جو ابھی کابینہ ہم نے بنائی ہے یہ بہت اچھی کابینہ ہے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||