امریکہ کے نائب وزیر کی صدر مشرف اور جنرل کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے نے سنیچر کو صدر جنرل پرویز مشرف اور وائس چیف آف آرمی سٹاف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقات کی ہے۔ امریکی سفارتخانے کی ترجمان ایلزبیتھ کولٹن نے کہا ہے کہ نائب امریکی وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے نے صدر جارج ڈبلیو بش کا ایک پیغام صدر جنرل پرویز مشرف کو پہنچایا ہے۔ تاہم انہوں نے اس کی تفصیلات دینے سے انکار کیا۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ جان نیگرو پونٹے اتوار کی صبح نیوز کانفرنس سے خطاب کریں گے اور اس وقت تک وہ کچھ کہنا نہیں چاہتی۔ ایک سوال پر انہوں نے تصدیق کی کہ امریکی نائب وزیر خارجہ نے صدر جنرل پرویز مشرف اور نائب آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کی ہیں۔ امریکی نائب وزیر خارجہ جان نیگرو پونٹے کی مصروفیات کے بارے میں معلومات فراہم کرنے میں جہاں امریکی سفارتخانہ خاصا محتاط ہے وہاں پاکستان کے میڈیا مینیجرز بھی اس بارے میں کچھ کہنے سےگریزاں نظر آتے ہیں۔
امریکی نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ روز سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو سے فون پر بھی بات کی اور سیاسی صورتحال کے بارے میں ان سے تبادلہ خیال کیا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی نائب وزیر خارجہ نے گزشتہ روز پاکستان کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری طارق عزیز سے بھی ملاقات کی۔ بینظیر بھٹو سے جان نیگرو پونٹے کی ملاقات کے بعد واشنگٹن میں امریکی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے کہا تھا کہ امریکی نائب وزیر خارجہ نے سابق وزیراعظم سے بات چیت کے دوران ’اعتدال پسند قوتوں‘ کے ایک ساتھ ملکر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔ بعض تجزیہ کار کہتے ہیں کہ امریکی نمائندے کی صدر جنرل پرویز مشرف سے ملاقات سے پہلے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو سے بات چیت جنرل مشرف کو ایک واضح پیغام ہے کہ مستقبل کے سیاسی سیٹ اپ میں بینظر کے کردار کو امریکہ نظر انداز نہیں کرسکتا۔ امریکی نمائندے کی پاکستان آمد سے چند گھنٹے قبل جہاں بینظیر بھٹو کی سات روزہ نظر بندی تیسرے روز ہی ختم کردی گئی، وہاں انسانی حقوق کی علمبردار عاصمہ جہانگیر کو بھی رہائی مل گئی۔ جان نیگرو پونٹے اسلام آباد آتے ہوئے افریقہ میں رکے تھے جہاں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان میں جمہوریت پٹڑی سے اتر چکی ہے۔ ان کا یہ موقف بھی صدر جنرل پرویز مشرف کے اس دعوے کی کھلی نفی کرتا ہے جس میں وہ بار بار کہہ رہے ہیں کہ ایمرجنسی نافذ کرنے اور آئین معطل کرنے سے جمہوریت کی طرف منتقلی کا عمل متاثر نہیں ہوگا اور ایمرجنسی کے ہوتے ہوئے انتخابات شفاف ہوں گے۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش بھی واضح طور پر کہتے رہے ہیں کہ جنرل مشرف فوجی عہدہ چھوڑدیں، آئین بحال کریں، ایمرجنسی ختم کریں کیونکہ ایمرجنسی کے ہوتے ہوئے شفاف انتخابات نہیں ہوسکتے۔ جمعہ کے روز بی بی سی کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں جنرل پرویز مشرف نے خبردار کیا تھا کہ اگر ملک میں انتخابات پرامن فضا میں نہیں کرائے گئے تو ملک میں انتشار پھیلنے اور جوہری ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے کا خطرہ پیدا ہوجائے گا۔ جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کے اپنے فیصلے کا دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب تک وہ فوج کے ساتھ اقتدار میں ہیں ملک کے جوہری اثاثے محفوظ ہیں۔ |
اسی بارے میں بینظیر، نیگروپونٹے کی بات چیت16 November, 2007 | پاکستان محمد میاں سومرو نے حلف اٹھالیا16 November, 2007 | پاکستان عمران کی گرفتاری کے خلاف احتجاج16 November, 2007 | پاکستان ’انتخابی شیڈول متاثر نہیں ہوگا‘16 November, 2007 | پاکستان سرحد، پنجاب میں مظاہرے،گرفتاریاں16 November, 2007 | پاکستان ’حکومتی اعتراضات بلا جواز ہیں‘17 November, 2007 | پاکستان ’میں ہوں توجوہری ہتھیار محفوظ ہیں‘17 November, 2007 | پاکستان مشرف کو اب جانا ہوگا17 November, 2007 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||