’حکومتی اعتراضات بلا جواز ہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے ایک بڑے نجی نشریاتی ادارے اے آر وائی کے چیف ایگزیکٹو سلمان اقبال نے کہا ہے کہ نجی ٹی وی چینلز پر حکومت کی طرف سے لگائے جانے والے اعتراضات بلکہ بلاجواز ہیں اور ان اعتراضاف کو مکمل طور پر رد کرتے ہیں۔ بی بی سی اردو سروس سے بات کرتے ہوئے سلمان اقبال نے کہا کہ انہیں حکومت کی طرف سے یہ تاثر دیا جا رہا تھا کہ اے آر وائی کی پاکستان میں نشریات کو ایک دو دن میں کھول دیا جائے گا جبکہ دوسری طرف اچانک اے آر وائی پر دبئی سے بھی خبریں نشر کرنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ سلمان اقبال نے کہا کہ انہوں نے جمعہ کا سارا دن اسلام آباد میں مختلف حکومتی اعلی عہدے داروں سے ملاقاتوں میں گزارا اور انہیں اس بارے میں کچھ نہیں کہا گیا کہ اے آر وائی پر دبئی سے بھی خبروں کے نشر کیئے جانے پر پابندی لگائی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمعہ اور سنیچر کی رات کو پاکستانی وقت کے مطابق اچانک دبئی میڈیا سٹی ان نشریات کو بند کر دیاگیا۔ حکومت کی طرف سے نجی ٹی وی چینلز پر اٹھائے جانے والے اعتراضات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ حکومتی اہلکاروں کا خیال ہے کہ ’پاکستان کا میڈیا پاکستان کے خلاف ہو گیا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ذرائع ابلاغ انتہائی ذمہ دار ہیں اور وہ اپنی ذمہ داریوں کو پوری طرح پہنچانتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر پابندیاں لگائے جانے سے پہلے بیٹھ کر بات ہوتی تو حکومتی اعتراضات کو دور کیا جاسکتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ پہلے میڈیا پر پابندیاں عائد کر دی جائیں اور پھر ان سے بات کرنے کو کہا جائے تو یہ مناسب نہیں ہے۔ سلمان اقبال نے کہا کہ پاکستان میں میڈیا اپنی ذمہداریاں پوری کررہا تھا۔ ’اگر سڑک پر کچھ ہو رہا ہے تو یہ میڈیا کی ذمہ داری ہے اپنے ناظرین کو یہ دکھائے۔‘ | اسی بارے میں میڈیا پر پابندیاں مزید سخت03 November, 2007 | پاکستان ’میڈیا پر پابندی کالا قانون ہے‘04 November, 2007 | پاکستان صحافی: سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ 04 November, 2007 | پاکستان غیرمعمولی حالات میں غیر روایتی ذرائع ابلاغ 07 November, 2007 | پاکستان سرحد: صحافیوں کے احتجاجی کیمپ14 November, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||