عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | صحافیوں نے پورے ملک میں احتجاج کیے ہیں |
پاکستان میں نجی ٹیلی ویژن چینلز پر پابندی کے خلاف بدھ کو صوبہ سرحد کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبہ بھر میں صحافیوں نےاحتجاجی کیمپ لگائے اور حکومت سے میڈیا پر لگائی جانے والی پابندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ خیبر یونین آف جرنلٹس کے زیر اہتمام بدھ کو پشاور پریس کلب کے باہر ایک احتجاجی کیمپ لگایا گیا جس میں الیٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے تعلق رکھنےوالے صحافیوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ انہوں نے بازوؤں اور منہ پر کالی پٹیاں باندھی ہوئی تھیں۔ اس موقع پرصحافیوں نے ایمرجنسی کے نفاذ اور ٹیلی ویژن چینلز پر لگنے والی پابندی کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ پریس کلب کے اندر اور باہر بینرز آویزاں کیے گئے تھے جس پر میڈیا کی آزادی کے حوالے سے مختلف نعرے درج تھے۔ صوبہ سرحد کے مختلف سیاسی پارٹیوں اور وکلاء نے صحافیوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے احتجاجی کیمپ کا دورہ کیا۔ اس موقع پر جماعت اسلامی کے صوبائی امیر سراج الحق اور عوامی نیشنل پارٹی کے صوبائی جنرل سیکریٹری میاں افتخار حسین نے جنرل پرویز مشرف کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی ذاتی اقتدار کے لیے ملک میں شخصی آمریت قائم کی ہے اور میڈیا کی آزادی کو سلب کردیا ہے۔ صوبہ سرحد کے دیگر علاقوں میں بھی صحافیوں نے مظاہرے اور احتجاجی کیمپ لگائے۔ ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ ختم دوسری طرف صوبہ سرحد میں وکلاء نے دوسرے روز بھی ماتحت عدالتوں کا بائیکاٹ ختم کرتے ہوئے مقدمات کی پیروی کی تاہم انہوں نے اعلی عدالتوں کا بائیکاٹ جاری رکھا۔ وکلاء کا کہنا ہے کہ وہ پی سی او کے تحت حلف لینے والے ججوں کی عدالتوں میں پیش نہیں ہونگے۔ بدھ کو حسب معمول پشاور ہائی کورٹ کی عمارت کے اندر کئی وکلاء نے بھوک ہڑتال کی اور اس موقع پر ایک احتجاجی جلسہ ہوا جس میں ایمرجنسی، ججوں کی برطرفی اور فوج کے خلاف سخت نعرے بازی کی گئی۔ ہائی کورٹ کی عمارت کے باہر سکیورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات تھی۔ بدھ کو پی سی او کے تحت حلف لینے سے انکار کرنے والے پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس طارق پرویز اور ججوں دوست محمد خان اور شاہ جہاں خان کی رہائش گاہوں پر وکلاء کا تانتا بندھا رہا جنہوں نے انہیں گلدستے پیش کیے۔ |