BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 16 November, 2007, 19:08 GMT 00:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
محمد میاں سومرو نے حلف اٹھالیا

بینظیر بھٹو پریس کانفرنس کے دوران
بینظیر بھٹو نے نگران حکومت کو مسترد کرتے ہوئے اسے مسلم لیگ (ق) کی توسیع کہا ہے

پاکستان کے نگران وزیر اعظم محمد میاں سومرو اور چوبیس رکنی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ صدر جنرل مشرف نے جمعہ کے روز نگران وزیر اعظم اور کابینہ سے حلف لیا۔ نئی کابینہ جنوری کے عام انتخابات تک اس عہدے پر فائز رہے گی۔

حلف برداری کی تقریب نصف گھنٹہ اپنے مقررہ وقت کی تاخیر سے شروع ہوئی۔ تقریب میں سابق وزراء بھی موجود رہے لیکن سفیروں کی تعداد بہت کم نظر آئی۔ نگران وزیراعظم محمد میاں سومرو نے حلف اٹھانے کے بعد کہا ہے کہ ان کی ترجیح ملک میں شفاف انتخابات کو یقینی بنانا ہے۔

حلف برداری کی تقریب میں بلائے گئے سرکاری ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ گرفتار سیاسی کارکنوں کو جلد رہا کیا جائے گا۔

چوبیس رکنی نگران کابینہ کے اراکین اور ان کے محکموں کی تفصیل بھی حکومت نے جاری کردی ہے۔ جس کے مطابق لاہور کے صنعت کار شہزادہ عالم منوں کو تجارت، سابق سیکریٹری دفاع سلیم عباس جیلانی کو دفاع اور دفاعی پیداوار، پیپلز پارٹی کے سابق رکنِ پنجاب اسمبلی سلمان تاثیر صنعت و پیداوار، پیپلز پارٹی کے سابق سینیٹر عبداللہ ریاڑ انفارمیشن ٹیکنالوجی، سابق وزیر اطلاعات نثار میمن کو اب بھی اطلاعات و نشریات، سابق وزیر قانون بیرسٹر شاہدہ جمیل خواتین کی ترقی اور سماجی بہبود، سابق سیکرٹری خارجہ انعام الحق خارجہ امور، انصار برنی ٹرسٹ کے انصار برنی انسانی حقوق، سابق وفاقی وزیر عباس سرفراز سرحدی اور کشمیر کے امور، سابق صوبائی وزیر سید افضل حیدر قانون انصاف و پارلیمانی امور، وزیر اعظم کے سابق مشیرسلمان شاہ خزانہ و اقتصادی امور، بیرسٹر حبیب الرحمٰن مواصلات، ڈاکٹر شمس لاکھا تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، احسان اللہ خان پیٹرولیم ، سید واجد ایچ بخاری ماحولیات و بلدیات، ڈاکٹر فہیم انصاری بندرگاہ و جہاز رانی، بیرسٹر محمد علی سیف سیاحت و نوجوانوں کے امور، پرنس عیسیٰ جان خوراک و زراعت، ، نثار گھمن محنت و افرادی قوت، راجہ تری دیو رائے اقلیتی امور، نثار علی ہاؤسنگ اینڈ ورکس، خواجہ عطاء اللہ تونسوی مذہبی امور، زکوات و عشر، سکندر جوگیزئی ثقافت اور حامد نواز خان کو داخلہ کی وزارت سونپی گئی ہے۔

نگران حکومت کو حزب مخالف کی بیشتر جماعتوں نے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی بھی جماعت کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔

نگران کابینہ مسترد
پاکستان پیپلز پارٹی کی چیر پرسن بینظیر بھٹو نےکہا ہے کہ موجودہ حکومت پاکستان مسلم لیگ ق کی ہی توسیع ہے اور پی سی او کے تحت حلف اٹھا کر غداری کی گی ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کے طلباء نے عمران خان کی گرفتاری کے خلاف جمعے کو بھی احتجاج کیا
لاہور سے نامہ نگار علی سلمان کے مطابق بینظیر بھٹو نے کہا ان کی حزبِ مخالف کی سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہوئی ہے اور تمام سیاسی جماعتیں الیکشن کے بائیکاٹ کے اپشن پر غور کر رہی ہیں۔ بینظیر بھٹو نےکہا کہ کیونکہ وہ حراست میں تھیں اس لیے اپنے رفقاء سے مشورہ نہیں کر سکیں ہیں لیکن اب وہ اپنے رفقاء سے مشورہ کر کے لائحہ عمل اختیار کریں گی۔

یہ بات انہوں نے آج لاہور میں تین روز نظر بند رہنے کے بعد پہلی مرتبہ ایک اخباری پریس کانفرنس سے خطاب کر تے ہوئے کہی ہے۔

نیگروپونٹے اہم مشن پر
امریکی نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی ایشیاء جان نیگرو پونٹے اسلام آباد پہنچ رہے ہیں۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کے مطابق وہ یہاں جنرل مشرف اور دیگر حکام سے ملاقاتیں کریں گے اور ملاقاتوں کا یہ سلسلہ جمعہ کو شروع ہوگا اور سنیچر کو بھی جاری رہے گا۔

یہ اطلاعات بھی ہیں کہ وہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو سے بھی ملاقات کریں گے۔

مسٹر جان نیگرو پونٹے کے دورے کا مقصد بیان کرتے ہوئے امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ یہی پیغام لے کر پاکستان جارہے ہیں کہ ایمرجنسی جلد سے جلد ہٹائی جائے اور انتخابات آزاد ماحول میں ہوں اور میڈیا پر جو پابندیاں ہیں انہیں بھی ہٹایا جائے۔

ایمرجنسی نافذ کرنے سے پہلے بھی امریکہ نے جنرل مشرف پر بار بار زور دیا تھا کہ وہ ملک میں ایمرجنسی کے نفاذ سے گریز کریں اور ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد بھی امریکہ کا کہتا آرہا ہے کہ وہ اس اقدام کی تائید نہیں کرتا۔

عمران کی گرفتاری کے خلاف احتجاج
تحریک انصاف کے چئرمین عمران خان کی گرفتاری کے خلاف آج یعنی جمعہ کو ملک بھر میں تحریک انصاف کے زیرِ اہتمام یوم سیاہ منایا جا رہا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ نے متعدد کلاسوں کا بائیکاٹ کیا اور ایک جلوس نکلا گیا ہے۔ جلوس کا آغاز پنجاب یونیورسٹی کے نیو کیمپس کے لاء کالج سے ہوا۔

طلبہ مختلف ڈیپارٹمنٹ سے ہوتے ہوئے فیصل آڈیٹوریم کے سامنے اکھٹے ہوئے۔ انہوں نےہاتھوں میں عمران خان کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور مختلف رنگ برنگے پوسڑ بھی بنا رکھے تھے جِن پراسلامی جمیت طلبہ اور صدر جنرل پرویز مشرف کے خلاف نعرے تحریر تھے۔ ایک پوسڑ پر لکھا تھا ’ہم جمعیت نہیں چاہتے‘۔ طلبہ و طالبات کی بڑی تعداد نے منہ پر کالی پٹیاں باندھ رکھی تھیں۔

ایک روز پہلے بھی طلبہ نے اسلامی جمیت طلبہ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور ان کے دفتر جا کر کرسیاں میزیں اور فائلیں پھینک دی تھیں۔ ادھر اسلامی جمعیت طلبہ کی تحقیقاتی کمیٹی نے عمران خان سے بدسلوکی کرنے پر جمیت کے سترہ عہدیداروں کی رکنیت معطل کر دی ہے۔

عمران خان بدستور جیل میں ہیں جبکہ اطلاعات کے مطابق ان کی گرفتار ہونے والی دونوں بہنوں کو رات گئے رہا کر دیا گیا تھا۔

مشرفجنرل مشرف نے کہا
جانا ضروری لگا تو چلا جاؤں گا
صدر مشرفاگلے اڑتالیس گھنٹے
نگران حکومت، اسمبلیوں کی تحلیل متوقع
مختلف اور متنازعہ
71 کے بعد پہلی اسمبلی جو مدت پوری کر گئی
بھٹو، مشرفمفاہمت کو خطرہ
بینظیر اور جنرل مشرف میں بڑھتی مخاصمت
پاکستانایمرجنسی بارہواں دن
عوام با مقابل انتظامیہ کا بارہواں دن
بےنظیر ابھی نظر بند ہیںبےنظیر کے مضامین
بیرون ملک قارئین کے لیے مہم
نجی چینلدو کو اجازت
دو مقامی نجی چیلنز ’آج‘ اور ’ڈان نیوز‘ کو اجازت
اسی بارے میں
اسمبلی جو مدت پوری کر گئی
14 November, 2007 | پاکستان
مشرف، بینظیر: راستے جدا جدا؟
14 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد